اس سال 60کے قریب پرائمری اورہائی لیول کے تعلیمی ادارے مکمل ہو رہے ہیں۔ اسپیکر قانون ساز اسمبلی فدا محمد ناشاد

اس سال 60کے قریب پرائمری اورہائی لیول کے تعلیمی ادارے مکمل ہو رہے ہیں۔ اسپیکر قانون ساز اسمبلی فدا محمد ناشاد

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت( سٹاف رپورٹر) اسپیکر قانون ساز اسمبلی فدا محمد ناشاد نے کہا ہے کہ حکومت اپنے وسائل کے مطابق گلگت بلتستان میں دلچسپی سے تعلیم کو فروغ دینے میں سرگرم عمل ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر بھی مبارک باد کے مستحق ہے کہ وہ بھی گلگت بلتستان میں تعلیم کے فروغ کے لئے ہاتھ بٹھارہی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر نے پبلک سیکٹر سے کم خدمات سرانجام نہیں دئیے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر کے اساتذہ کی تنخواہیں سرکاری اساتذہ کی نسبت بہت کم ہے اُس کے باوجود وہ جس طرح کام رہے ہیں وہ لائق تعسین ہے۔ ان خیالات کااظہار سپیکر قانون ساز اسمبلی نے سنٹر ل ایشیاء انسٹیٹوٹ کے زیراہتمام اساتذہ کے لئے منقعدہ ورکشاپ کے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اس سال ترقیاتی بجٹ کے لئے 6ارب روپے مختص کی ہے۔ اس بجٹ میں اساتذہ کی تنخواہیں اور منجمینٹ چارجز شامل نہیں ہے۔ یہ صرف ڈیولپمنٹ کے لئے مختص ہے۔ اور اس بجٹ سے کم و بیش ایک ارب کی سیکمیں آیندہ جون تک مکمل کرنا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم اورصحت پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ اس سال 60کے قریب پرائمری سے ہائی لیول کے تعلیمی ادارے مکمل ہو رہے ہیں۔ اور این ٹی ایس کے ذریعے انتہائی شفافیت کے ساتھ اساتذہ کی تقرریاں ہو رہی ہے۔ ماضی میں اس سے متعلق بہت سارے خدشات اور تحفظات رہے اب مجھے امید ہے کہ اس دور میں قابل اساتذہ کی بھر تیاں شفافیت کے ساتھ میرٹ کی بنیاد پر ہو گی۔انشا اللہ ہماری کوشش ہو گی کہ ہم اس کو مزید بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر ینگے۔ اُنہوں نے مذید کہا ہماری اسمبلی سے پہلے گریڈ 16کی تقرریاں چیف منسٹر نے اپنے پاس رکھا ہو ا تھا اب ہم نے اپنے قانون سازی کے ذریعے پبلک سروس کمیشن کو اختیار دیا ہے۔ تاکہ شفافیت اور میرٹ پر تقریاں ہو۔ اور قابل لوگ نظر انداز نہ ہو جائے اور کرپشن کا خاتمہ ہو سکے ۔ اللہ کے فضل کرم سے ہم اس میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اور اساتذہ کی تقرریاں پبلک سروس کے ذریعے ہو رہی ہے۔

ورکشاپ کے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر قانون ساز اسمبلی نے کہا کہ فیڈرل منسٹری آف ایجوکیشن اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن بھی صوبائی حکوت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ کیڈٹس کالجز اور قراقرم انٹر نیشنل یو نیورسٹی میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعے ترقیاتی کام ہو رہے ہے ۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بلتستان میں قراقرم انٹر نیشنل یو نیورسٹی کے لئے 2ارب روپے مختص کیا ہے اور کے آئی یو گلگت و اسکرود میں انجینئرنگ فکیلٹی کے لئے ایک ارب روپے مختص ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں تعلیم کی فروغ کے لئے سنٹر ل ایشیاء انسٹیٹوٹ کی خدمات ناقابل فراموش ہے۔ یہ ایک عبادت ہے اور سنٹر ل ایشیاء انسٹیٹوٹ ایمانداری کے ساتھ عبادت میں مصروف عمل ہے۔

ورکشاپ کے اختتامی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے سی ای او سنٹر ل ایشیاء انسٹیٹوٹ سید اللہ بیگ نے کہا کہ گلگت بلتستان ہمارا گھر ہے، اس گھر کو روشن رہنے میں سنٹر ل ایشیاء انسٹیٹوٹ حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ سنٹر ل ایشیاء انسٹیٹوٹ نہ صر ف گلگت بلتستان بلکہ چترال میں بھی تعلیم کے فروغ کے لئے سر گرم عمل ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب ہم اپنے نیک مقصد میں کامیاب ہو جائینگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔