سکردو: علامہ شیخ محمد جعفری کی قم آمد پرجامعہ روحانیت بلتستان کے زیر اہتمام نشست کا انعقاد

سکردو: علامہ شیخ محمد جعفری کی قم آمد پرجامعہ روحانیت بلتستان کے زیر اہتمام نشست کا انعقاد

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سکردو(پ ر) قائدبلتستان حجۃ الاسلام و المسلمین علامہ شیخ محمد حسن جعفری مدظلہ العالی کی عش آل محمد قم آمد پر ان کے اعزاز میں جامعہ روحانیت بلتستان کی جانب سے آج ایک اہم نشست کا اہتمام کیاگیا۔ جس میں کثیر تعداد میں علمائے کرام اور طلاب عظام نے شرکت کی۔ تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول کے بعد شیخ یوسف عابدی صاحب نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ بعدازاں جامعہ روحانیت بلتستان کے صدر سید احمد رضوی نے اپنے خطاب میں بلتستان بھر میں سماجی، تبلیغی اور فلاحی میدانوں میں موصوف کی گرانقدر خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ ساتھ ہی قم میں ہمارے بچوں کو اردو اور انگلش کی کلاسوں کے انعقاد کے علاوہ بلتستان بھر میں تعلیمی اور دیگر تبلیغی میدانوں میں جامعہ روحانیت بلتستان کی کاوشوں کا بھی مختصر تذکرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جامعہ روحانیت بلتستان پورے پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے طلباکے لیے نمونے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے علمائے کرام کو جسد واحد بن کر مکتب و ملت کی خدمت کرنے کا بہترین موقع فراہم ہوا ہے۔جامعہ روحانیت طلبائے عظام اور علمائے کرام کی تعلیمی اور تحقیقی مشکلات کو دور کرنے میں کوشاں ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان سے نئے آنے والے طلبہ کے لیےبھرپور انداز سے کیرئیر گائڈینس فراہم کررہی ہے۔ بلتستان میں تبلیغی مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شیخ صاحب ایک روحانی باپ ہونے کے ناطے ان مشکلات کو حل کرنے کے حوالے سے اہم کردار ادا کریں گے۔ آخر میں سید موصوف نے بلتستان کے تمام طلبا کی نمائندگی میں شیخ صاحب کی قیادت پر بھرپور انداز سے حمایت اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شیخ صاحب کو جہاں،جس وقت اور جس حوالے سےہماری خدمات اور تعاون درکار ہو تو ہم اپنی پوری توانائی کے ساتھ ان ذمہ داریوں کو نبھانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
آخر میں حجۃ الاسلام علامہ شیخ محمد حسن جعفری مدظلہ العالی نے اعزازیہ نشست کی برگزاری پر بلتستان سے تعلق رکھنے والے تمام طلبا کا شکریہ ادا کیا اور مختلف میدانوں میں جامعہ روحانیت کے ناقابل فراموش خدمات کو سراہا، ان کا کہنا تھا کہ جامعہ روحانیت کی تشکیل حضرت معصومہ (س) کی ان طلبا پر خصوصی نظر کا نتیجہ ہے۔ آپ نے برملا کہا کہ اس وقت بلتستان امن و امان کے حوالے سے نہ صرف پاکستان کے دوسرے علاقوں کے لیے نمونہ عمل ہے بلکہ پوری دنیا کے لیے آئیڈیل ہے۔ اس وقت ایشیائی ممالک سمیت مغربی ممالک بھی دہشتگردی سے محفوظ نہیں لیکن ہمارا خطہ علمائے کرام کی انتھک کوششوں کی وجہ سے ماضی میں بھی امن کا گہوارہ رہا ہے، اب بھی ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف سازشوں اور پروپیگنڈوں کے باوجود ہمارے لوگ آج بھی علمائے کرام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کی باتوں کو اپنے لیے حجت سمجھتے ہیں۔ ہمیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں کے علما پورے پاکستان میں مخلصانہ تبلیغ اور دوسرے شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اب اس سلسلے کو مزید بہترانداز سے جاری رکھنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ آخر میں دعائے امام زمانہ کے ساتھ یہ پروقار نشست اپنی اختتام کو پہنچا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔