روداد مٖحفلِ مشاعرہ 

روداد مٖحفلِ مشاعرہ 

36 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: جمشید خان دُکھی

27جنوری 2017کے دن دوپہر2بجے ریوریا ہوٹل گلگت میں حلقہ ارباب ذوق (حاذ)کے زیر اہتمام نئے سال کاپہلا مشاعرہ منعقد ہوا جس میں حلقہ کے سینئر اور جونئیر شعراء نے شرکت کی۔ ان میں پروفیسر محمد امین ضیاء، عبدالخالق تاج، نظیم دیا،غلام عباس نسیم،حفیظ شاکر، حور شاہ حر،عیسی حلیم،ظہیر سحر،پروفیسر عبدالعزیز ،فاروق قیصر،آصف علی آصف،توصیف حسن،امجد ساغر، مظفر حراموشی،ارشد حسین جگنو،شیر عالم حیدری اور جمشید خان دکھیؔ کے نام شامل ہیں۔نظامت کے فرائض غلام عباس نسیم نے انجام دئے۔اس محفل کے مہمان خصوصی ادبی ذوق رکھنے والے ریٹائرڈ پولیس آفیسر جناب محمد عیسیٰ تھے۔جنھوں نے آخر میں بحیثیت مہمان خصوصی اس لئے اظہار خیال کرنے سے معذرت کی کہ دانشوروں کے اس مقدس اجلاس میں بات کرنے کے لئے باوضوہونا میرے خیال میں ضروری ہے۔لہذا میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ اظہار خیال کرسکوں۔غلام عباس صابر اور مظفر حراموشی نے شینا میں کلام سنایا ۔یاد رہے کہ گزشتہ مشاعرے میں عبدالحمید عدم کے درج ذیل شعر کا پسِ مصرعہ بطورِ طرح منتخب کیا گیا تھا:

مے کشو! پوری چاشنی سے سنو
’’زاہدِ محترم کی باتیں ہیں‘‘

جن شعرائے کرام نے مصرعہ طرح پر طبع آزمائی کی اور جنھوں نے نہیں کی ان کا نمونہ کلام ذیل میں نذرِ قارئین کیا جاتاہے:

شیخ آڑے ہے اے خدا! ورنہ
تجھ تلک دو قدم کی باتیں ہیں (حفیظ شاکر)

فرقہ بندی ہے مشغلہ ان کا
ویسے دین ودھرم کی باتیں ہیں (غلام عباس نسیم)

باوضو آکہ بزمِ رنداں میں
ساقیا! جامِ جم کی باتیں ہیں (آصف علی آصف)

کہیں جاہ و حشم کی باتیں ہیں
کہیں دین و درھم کی باتیں ہیں (حور شاہ حر)

وہ مجھے بھی نہ بھول پایا ہے
ناصحو! یہ ستم کی باتیں ہیں (امجد ساغر)

گھول کر جام و جم میں پی لینا
’’زاہدِ محترم کی باتیں ہیں‘‘ (توصیف حسن)

 دیس دوزخ بنا دیا سارا
معبدوں میں اِرم کی باتیں ہیں (جمشید خان دُکھی)

(غیرطرحی نمونہ کلام)

میں تجھے بھول سکتا نہیں
تو مجھے بھولتا کیوں ہے (پروفیسر عبدالعزیز)

 بھیگی ہوئی ہے رات مجھے جام پلادو
بکھرے ہیں خیالات مجھے جام پلادو (شیر عالم حیدری)

لوگ اک دوسرے سے کہتے ہیں
یہ دیوانے شراب لاتے ہیں
شمع ہم روز تیری خدمت میں
دم کرانے شراب لاتے ہیں (محمد ظہیر سحر)

میں اپنی ذات میں کچھ بُن رہا تھا
خوشی کو بیچ کر غم چن رہا تھا
ملن کی ساعتوں باتوں کا جگنو
صدا بھی شوق سے میں سن رہا تھا (ارشد حسین جگنو)

برباد کر رہے ہیں جہاں کا سکون لوگ
چھپتا نہیں چھپانے سے مظلوم خون لوگ
خود کو سمجھ رہے ہیں مسلمان دیکھئے !
دیتے ہیں درسِ جنگ، پڑھاتے جنون لوگ (نظیم دیا)

کتنی محدود ملاقاتیں ہیں
ہر طرف دشمنوں کی گھاتیں ہیں (عبدالخالق تاج)

میرا سورج ہوا ہے مجھ سے دور
یاں زمستاں کی سرد راتیں ہیں (محمد امین ضیا)

 

تناول ماحضر کے بعد یہ محفل اختتام پزیر ہوئی۔اگلے مشاعرہ کے لئے درج ذیل شعر کا پسِ مصرعہ بطورِ طرح منتخب کیا گیا ہے جس میں دستور قافیہ ہے اور بن جائے ردیف :

جو میں کہہ دوں تو سمجھا جائے مجھ کو دار کے قابل
’’جو تو کہہ دے تو تیری بزم کا دستور بن جائے‘‘

 

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments