ہمہ تن گوش۔۔۔!        (قسط اول)

ناشتے کی میز پر موبائل فون ایک نئے نمبر کو لئے چھنن نن چھنن نن بجنے لگا، لمحہ بھر کو ہچکچایا،نیا نمبر ہے، لوں کہ نہ لوں۔جب تک ہنگامی امداد کے انسانی ادارے سے وابستگی ہے ہر طرح کی کالز اٹھانے میں ہی عافیت جانتا ہوں ۔ گویا کال لیا، نہ اٹھاتا تو قسمت کی مورتی پھوٹ نہ جاتی؟۔ جواباً اسلام علیکم ہی موصول ہوا۔ بولا ، کرنل کاظمی بول رہا ہوں آپ کو یوم آزادی گلگت بلتستان کی تقریب میں شرکت کی دعوت دے رہاہوں، آپ کو بذریعہ ہیلی کاپٹر روانگی اور واپسی میسر آئے گی۔ دعوت کی اہمیت اپنی جگہ، ہیلی کاپٹر میں، پھر پاکستان آرمی کے جوانوں کے ساتھ اڑنے کا تجربہ ، ہاں کرنے روک نہ پایا۔ کاظمی صاحب کا نام بھی ٹھیک سے ذہن میں بیٹھا نہیں تھا کہ روانگی کے لئے آدھی کپ چائے پرآدھا نوالہ تیرتا چھوڑ کرسامان باندھ لیا۔ روانگی کے لئے آرمی بیس پہنچ کردیگر رفقاء سے شناسائی ہوئی ۔ کیا دیکھتا ہوں کہ بلتستان میں علم و ادب، صحافت و پیشہ وری اور دیگر اصناف کی نابغہ روزگار شخصیات، صدارتی ایوارڈ یافتہ ادباء ، مصنفین اور محققین جن میں بلتستان میں تاریخ و ثقافت کے حوالے سے بے بدل شخصیت جناب یوسف حسین آبادی، بلتستان میں ادب و ثقافت کے شعبے کے معتبر محقق اور نامی گرامی شخصیت جناب حاجی محمد حسن حسرت، صحافتی دنیا میں دوراندیش تجزیہ نگار، مصنف و اخبار نویس اور پاکستان ٹیلی ویژن کے نمائندہ خواجہ محمد قاسم نسیم، اور معروف سماجی شخصیت، ادب دوست اور بزم علم وفن کے روح رواں میر اسلم حسین سحر(جنہیں بعد میں جرنیل احسان محمود نے سحر پاکستان کا خطاب بھی دیا) جبکہ دیگر غیر معمولی کارناموں کے حامل افراد میں جی بی کونسل کے رکن ، شاعر اور سماجی شخصیت حاجی محمد اشرف صدا،ادیب ، شاعر، اور معروف صداکار، کئی کتابوں کے مصنف احسان علی دانش،پرگواورقادرالکلام شاعراور فکر سماجی فورم کے سرپرست جناب ذیشان مہدی، بہادرسالک ، پریس کلب کے صدر قاسم بٹ ، فخر بلتستان غازیان ومجاہدین تحریک آزادی گلگت بلتستان دیگرطباعتی و برقی صحافت کے میدا نوں سے سنیئرصحافی حضرات، اور زندگی کے دیگر شعبہائے خدمت سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی ایک بڑی تعداد موجودہے ۔ میں قد و قامت میں سب سے چھوٹا اور کارنامے کے لحاظ سے بالکل کورا ، اپنا شمار تسبیح میں امام کی مانند کئے ہیلی کاپٹر کی طرف بڑھنے لگا۔ ستم بالائے ستم ، ہر کوئی مجھ سے یہ سوال بھی کرتا تھا کہ آپ کو بھی جرنیل صاحب نے بلایا ہے؟ اس سوال کا جواب جتنا آسان اور سادہ تھا ، سوال اتنا ہی تکنیکی اورپیچیدہ محسوس ہوتا تھا۔ہیلی کاپٹر میں ہوائی سفر کا پہلاتجربہ تھا ۔ انجن کے شور اور پنکھے کی ہوا کے زور پر چلتا پھسلتا جہاز کے اندر پہنچا ۔ صد شکریہ اس عوام دوست مشین کا کہ اس میں بیٹھتے ہی بڑے چھوٹے کا تمیز ہی رفو ہوجاتا تھا۔سادہ ترین کرسیاں،فرش ، چھت اوردیواریں آرائش و سنگھارسے عادی، فلی نیچرل ایئر کنڈیشنڈ،اوورہیڈکمپارٹمنٹ بھی نہیں۔سامان پاوں میں اورسب اکڑوں بیٹھے ، سہمے سہمے،پیٹرول کا ایئر فریشنر۔ ایئر ہوسٹس کی جگہ گھنی مونچھوں والے حوالدار گویا سب ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہیں۔ تمام مسافر خاموش، بول رہا ہے تو صرف جہاز کا انجن ، اور بول بھی اتنے زور سے رہا کہ بولنے والے، بلکہ چیخنے والے کی بھی ایک سنائی نہیں دیتی۔پھر اڑان کے قریب شور اور بلند ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اب یہ کسی کے قابو میں نہیں آنے والا۔ اتنے میں ایسے ہلنے لگتا ہے کہ کہیں ذرہ برابر بھی اڑنے کے موڈ میں نہ ہو۔ ایک حوالدار دروازے سے سر نکال کر نیچے زمین کو دیکھ رہا ہے شاید اسے بھی یقین نہیں آرہا کہ یہ اڑنے لگے گا۔ لیکن اڑ جاتا ہے۔ ہیلی کاپٹر کے اڑنے کی چال ہی ایسی ہے۔ جب ڈاگم ڈھولتا ہوا میں بلند ہوا تو پھٹی پھٹی آنکھوں سے ایک دوسرے کی اور سنگین حیرت سے تکنے والے مسافروں کے چہروں پر پھیکی پھیکی مصنوعی مسکان پھیل جاتی ہے۔ جیسے ہر کوئی بے خوف دکھنے کی کوشش کررہا ہو۔ یہ بے کیفی بس کچھ ہی دیر میں رفو ہوجاتی ہے جب بہت کم بلندی پر پرواز کرتا ہوا دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ آباد بہت ہی خوبصورت وادیوں کے اوپر سے گزرنے لگتا ہے۔ یہ نظارہ واقعی بہت دلکش ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان کی ہر وادی کی خوبصورتی ، مکمل جغرافیائی حدود کے ساتھ سمٹ کر کسی مصور کے کنویس کی مانند سمٹ کر انسان کی آنکھ کی پتلیوں میں سمو جاتی ہے۔ بادل، پہاڑ، جھرنے، دریا، برف، دریا جھیلیں الغرض ہر رنگ خوب نکھر کرآنکھوں میں سما جاتا ہے۔ خزاں کے موسم میں زرد، پیلے، نیم گلابی اور جامنی رنگ کے پتوں والے درخت بہت بھلے دکھائی دیتے ہیں۔ ہوا کے دوش پہ جب یہ قافلہ ہیلی پیڈ گلگت پر اترا۔ جہاز جب زمین پریوں بیٹھا جیسے کوئی بھنورا پھول کی لچیلی اور نازک ٹہنی پر بیٹھ گیا ہو اوردائیں بائیں ، آگے پیچھے کو یوں ہچکولے کھائے جیسے بھنورے کے وزن اور ہوا کی لہروں سے لچیلی ٹہنی پرلگا پھول تھوڑی دیر کے لئے جھوم جاتا ہے۔ حوالدار کے پاوں میں پڑی سیڑھی دروازے جڑ گئی ایک ایک کے سبھی اترنے لگے، سب سے آخر میں بیٹھنے کا فائدہ یہ ہوا کہ سب سے پہلے نکلنا مجھے نصیب ہوا، ہاں البتہ مجھ سے قبل جہاز کا عملہ اتر چکا تھا۔ جب نیچے اترا تو مہمانوں کو ریسو کرنے کے لئے کرنل کاظمی صاحب بنفس نفیس موجود تھے۔ یکے بعد دیگرے دوچند مہمانوں کو ریسو کرنے کے بعد میرے کان میں آکر کہنے لگے۔ آپ حاجی صاحب ہیں؟۔ کرنل صاحب خود تو کسی تعارف کے محتاج نہیں تھے ان کے کندوں پر چمچماتے ستارے، نیم پلیٹ پر جھلی حروف میں لکھا نام اورڈیوژنل سائن ان کا مکمل تعارف پیش کررہا تھا۔ وہ بولے کمال ہیں۔ میں تو لاٹھی ٹیک کر چلتا، بارہ نمبر کا چشماٹو سفید ریش بزرگ کی توقع کررہا تھا۔ آپ تو نوجوان ہیں۔ ان کا حس مزاح میرے بہترین استقبال کے ساتھ ساتھ اور حوصلہ افزائی کا باعث کا تھا۔ہیلی پیڈ پر ریہرسل جاری تھا۔ مہمانان ایف سی این کے میس میں بٹھائے گئے۔ تھوڑی ہی دیر میں کمانڈنٹ ایف سی این اے،میجرجرنیل، پروفیسر ڈاکٹر احسان محمود خان کی آمد ہوئی۔ مہمانان ان کے استقبال کے لئے کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے حال کے صدر دروازے سے ہی سلام کے بعد بلتی زبان میں چی حال یود جو بول کر سب کا دل خوش کردیا۔ باری باری سب سے ملے، ایک سے دوسرے اور دوسرے سے ساتھ کھڑے تیسرے شخص کی آمد کا پوچھتے، محفل کو زعفران زار بناتے آگے بڑھتے گئے۔ سب سے پہلے غازیان سے ملاقات کی۔ ہر غازی کو سلام کے ساتھ مکمل فوجی ضبط کے ساتھ سلیوٹ بھی کیا۔ انہیں گلے سے لگاتا اورخوب حوصلہ بڑھاتا رہا۔ انہوں نے تمام غازیان کو وی وی آئی پی مہمان قراردیا۔تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مہمانوں کے جھرمٹ میں جرنیل صاحب یوں محو گفتگو اور مکمل شناسامعلوم ہورہے تھے جیسے ان سے روز ان سے ملاقات رہتی ہو۔اپنی تمام تر اہم مصروفیات بالائے طاق رکھ کر وہ عشائیہ میں مہمانوں کے ساتھ رہے ۔ عشائیے کے بعد گروپ فوٹو کھنچوائی، مہمانوں کے تاثرات اور تجاویز سنے اور اس کے بعد دفتر روانہ ہوئے۔ اگلے دن یعنی یکم نومبر کو یوم آزادی گلگت بلتستان کی پہلی تقریب چنارباغ میں تھی، وہاں شہداء کے یادگار پر پھول چڑھائے۔ اس تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ اس سال یوم آزادی کی تقریب کے مہمانان خصوصی، گورنر گلگت بلتستان ، علی شیرخان انچن کے خاندان کے چشم وچراغ جناب راجہ جلال حسین مقپون صاحب تھے۔ جن کا تعلق بلتستان کے شاہی خاندان سے ہونے کی مناسبت سے یوم آزادی کے مہمان خصوصی کے طور پر ایک موزوں ترین تھے۔سونے پر سہاگہ یہ کہ ان کے پاس گورنر کا اعلیٰ عہدہ بھی تھا۔ وزیر اعلی ٰ گلگت بلتستان، اور کمانڈنٹ ایف سی این اے ، سپیکر جی بی اسمبلی ، ہوم سکریٹری، آئی جی پی بھی اس وقت جلسہ گاہ میں موجود تھے۔ جنہوں نے دیگراہم شخصیات کے ساتھ یادگارپرپھولوں کے چادر چڑھائے۔پولیس کے جوانوں سے شہدا ء کو سلامی دی، پرچم کشائی ہوئی اور مہمانوں کو گارڈ آف اونر پیش کیا۔ جرنیل احسان محمود خان ضعیف العمر غازیوں کوخود سہارا دیتے ان کی نشستوں تک لاتے رہے۔ اس کے بعد مرکزی تقریب ہیلی پیڈ گراونڈ میں منعقد ہوئی جس میں پاک فوج کے مختلف دستوں، رینجر، پولیس، جی بی سکاوٹس، بوائے سکاوٹس، پبلک سکول اور آرمی پبلک سکول کے بچوں پر مبنی دستوں نے سلامی پیش کی۔ یہ تقریب گلگت بلتستان میں اپنی نوعیت کی پہلی اور آزادی گلگت بلتستان کے حوالے سے ایک تاریخی تقریب ثابت ہوئی۔ جو شرکاء اور ناظرین کی یاداشت میں حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ تابدیر موجود رہے گی۔ قومی ترانے کی دھنوں پر مارچ پاسٹ کرتے دستوں نے ایک جذباتی سماں پیدا کیا، ہر آنکھ وطن عزیز کے لئے عزت وتکریم اور محبت وقربانی کے جذبے کو لے کر فرط جذبات سے نم تھی۔ جب آرمی پبلک سکول کے بچوں کا دستہ سلامی کے چبوترے کے قریب پہنچا تو ناظرین آرمی پبلک سکول پشاور کے دلخراش واقعے کے غم کو تازہ کرتے ہوئے دیدہ تر کے ساتھ بے اختیار کھڑے ہوگئے۔ بعد ازاں مختلف سکولوں کے بچوں نے گلگت بلتستان کے ادب و ثقافت کے حوالے سے ٹیبلو اور علاقائی رقص بھی پیش کئے جس کا لطف صرف اور صرف دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments