سکہ رائج الوقت اور چترال

سکہ رائج الوقت اور چترال

17 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہفتہ 14جنوری کی رات لواری ٹنل جانے والے راستے پر 36گھنٹے انتظار کے بعدارسون کے رہائشی حضرت جان کا 2 سالہ بیٹا ریحان اﷲگاڑی کے اندر مر گیا وہ بیمار تھا اور اس کو علاج کے لیے پشاور ریفر کیا گیا تھا ۔ریحان اﷲکے مرنے کے بعددو باتوں کا ذکر ہو رہا ہے پہلی بات یہ ہے کہ یہ نا گہانی موت نہیں قتل ہے قتل کا مقدمہ ذمہ داروں کے خلاف درج کیا جائے دوسری بات یہ ہے کہ ایسا واقعہ دیر، سوات، باجوڑ، بٹگرام، کرک یالکی مروت میں پیش آتا تو لوگ باہر آ کر درجن بھر سرکاری عمارتوں کو جلا دیتے، درجن بھر سرکاری گاڑیوں کو آگ لگا دیتے ، دو چار سرکاری افسرون کو یرغمال بنا کر لے جاتے اور تاوان کا مطالبہ کرتے انتظامیہ کو فوج بلانے کی ضرورت پڑ تی امن و امان کا بہت بڑا مسلہ ہوتا،8ہزار مظلوم مسافروں نے 36گھنٹے برف میں حکومت کے جھوٹے وعدے پر گزارے اور خاموشی سے گزارے حکومت نے اعلان کیا تھا کہ جمعہ کے دن لواری ٹنل مسافروں کے لیے کھولا جائے گا مگر وقت اور شیڈول نہیں دیا اپروچ روڈ کی صفائی کا بندوبست نہیں کیا ٹریفک کو منظم کرنے کا انتظام نہیں کیا وعدہ خلافی، بد انتظامی، اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا اس روز این ایچ اے کا کوئی ذمہ دار افسرموقع پر موجود نہیں تھادیر اور چترال کی سول انتظامیہ کا کوئی ذمہ دار افسر ڈیوٹی پرنہیں تھا فرنٹیر کور کے حکام کو 18گھنٹے بعد اطلاع ملی تو چترال سکاوٹس کے حکام موقع پر پہنچ گئے۔ کرنل نظام الدین شاہ نے مسافروں کی مدد کی یہ بات حیراں کن تھی کہ کمشنر، ہوم سکرٹری، چیف سکرٹری اور وزیر اعلیٰ کو اطلاع نہیں ملی وزیر اعظم کے مشیرامیر مقام اورگورنر خیبر پختونخوا کو رپورٹ نہیں ملی ہمارے کسی منتخب نمائندے کورپوٹ نہ مل سکی مگر یہ الگ کہانی ہے یہاں میں سکہ رائج الوقت کاذکر کر نا چاہتا ہوں جو کسی بھی چترالی شہری کے پاس نہیں گزشتہ 69سالوں میں ایک بھی چترالی شہری کرپشن میں نہیں پکڑا گیا گزشتہ 69سالوں میں ایک بھی چترالی شہری دہشت گردی میں نہیں پکڑا گیا سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتے ہوئے نہیں پکڑا گیا اسلحہ لہراتے اور فائر کرتے ہوئے نہیں پکڑا گیا راکٹ لانچر یا کسی اور آتشین اسلحہ کے ساتھ نہیں پکڑا گیاچترال کی 6لاکھ کی آبادی اس کو شرافت کانام دیتی ہے تہذیب کا نام دیتی ہے وفاقی حکومت اس کو بے غیرتی کہہ کر پکارتی ہے صوبائی حکومت اس کو بزدلی سمجھ کر طعنے دیتی ہے۔ بقول غالب

وہ اپنی خو نہ چھوڑنیگے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں

سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سر گرا ں کیوں ہو

سکہ رائج الوقت یہ ہے کہ کرپشن کرو خود کھاؤ اوپر والوں کو کھلاؤ، اسلحہ لے کر نکلو آگ لگاؤ، گاڑیاں جلاؤ، تمہاری عزت ہوگی، تمہای بات سنی جائیگی، تمہارے مطالبات مانے جائیں گے، کاعذ، درخواست، سپاسنامہ، مکھن مصالحہ، چیری پالش سے کچھ نہیں ہوگا ،محب وطن پاکستانی اور پُر امن شہری کو اس کا حق کبھی نہیں ملے گالواری ٹنل پر چترالیوں کو ذلیل وخوار کرنے کا تاذہ واقعہ محض ایک مثال ہے جو سب نے دیکھا چترال کی آبادی کے ساتھ1969میں انضما م سے اب تک 101بڑی نا انصافیاں ہوئی ہیں ان 101بڑی نا انصافیوں میں سے صرف 5 کا ذکر یہاں بجا ہوگا۔انضما م کے وقت چترال کے دو اضلاع تھے ایک ضلع کو ختم کر دیا گیا۔جو اب تک بحال نہیں ہوا انضما م کے وقت چترال کے ریاستی افیسروں میں 28افیسرصوبے میں اہم پو زیشنوں پر جا سکتے تھے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار تھے ان کی تنزلی کر دی گئی، ڈپٹی کمشنر کو تحصیل دار لگایا گیا سکرٹری ایجوکیشن کو جبری ریٹائر کیا گیا۔ وہ اُس وقت کے ایس ایم بی آر ظفر علی خان سے سنیئر افیسر تھا ضلع چترال کا رقبہ 14850مربع کلو میٹر ہے ضلع کی لمبائی 485کلومیٹر ہے 32وادیوں کو ملانے والے راستوں کی کل لمبائی 7ہزار کلو میٹر ہے ان میں سے پختہ سڑکوں کی لمبائی صرف 185 کلو میٹر ہے جبکہ دیر اپر میں 3ہزار کلو میٹر اور دیر لوئیر میں 5ہزار کلو میٹر پکی سڑکیں ہیں۔سول سروس میں چترال کاکوٹہ ختم کر دیا گیا بیرون ملک تعلیم کے لیے چترال کے سکالر شب بند کر دیئے گئے اپنی قابلیت کے ذریعے سول سروس میں آ نے والے چترالی آفیسروں کو فیلڈ پوسٹنگ کے مواقع سے محروم رکھا جاتا ہے وہ اُوپر والوں کو بھتہ نہیں دیتے اس لیے ان کو ہمیشہ کھڈے لائن کیا جاتا ہے گویا چترال کا ڈومیسائل رکھنا ایک جرم ہے یہ جرم کسی کو معاف نہیں کیا جاتا میں یہاں تین گواہوں کا حوالہ دینا مناسب سمجھتا ہوں جولائی1975میں ذولفقار علی بھٹو شہیدنے افیسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چترال پاکستان کا ایک ایسا پاکٹ ہے جوتہذیب اور شائستگی کے لحاظ سے لکھنو کا مقابلہ کرتاہے۔ جنرل پرویز مشرف نے دسمبر 2010میں لندن کی ایک تقریب میں کہا کہ پاکستانی تہذیب کو دیکھنے کے لیے چترال کو ضرور دیکھو وہاں آپ کو پاکستان کی تہذیب ملے گی، اشفاق احمد نے 14اگست 1978 کو پی ٹی وی کے لیے ڈرامہ لکھا۔ اس کا نام ، برگ آرزوہے ، ڈرامے کا کردار ایک مقام پر ہندوستان سے آئے ہوئے مہاجر سے کہتا ہے، تم واہگہ پار کر کے لاہور آئے ہو یہاں چوری چکاری، غنڈہ گردی، دھوکہ ، فریب اور دیگر جرائم وہی ہیں ۔جو ہندوستان میں تھے میرے ساتھ چترال آجاؤ میں تمہیں دکھا تاہوں کہ ہمارے اسلاف نے جس پاکستان کے لیے قربانیاں دی تھیں وہ پاکستان چترال میں آپ کو ملے گا۔

تین اہم گواہوں کے بعد پاکستان کا مسلہ وہی ہے جو سکہ رائج الوقت کہلاتا ہے آہستہ آہستہ چترال کے لوگوں کو بھی دہشت گردی کی طرف دکھیلا جا رہا ہے۔ یہ وطن عزیز کا آخری مورچہ ہے اس کو بھی لاقانونیت کے حوالے کیا گیا تو کچھ نہیں بچے گا۔اب ریحان اللہ کے قتل کا FIRدرج کر نے سے پولیس انکار کر تی ہے۔لواری ٹنل کو ہفتے میں دو دن کا نام دیکر 6 گھنٹے کھولا جا رہا ہے ۔گو یا ۔ریحان اللہ نے جان دے دی حکومت نے اس کا بھی نو ٹس نہیں لیا ۔کیو نکہ وہ چترالی تھا ۔فیضؔ نے اس طرح کے خون نا حق کا ذکر ایک شعر میں یوں کیا ہے۔

نہ مدعی،نہ شہادت،حساب پاک ہوا

یہ خون ،خاک نشیناں تھارزق خاک ہوا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔