گلگت بلتستان کو ماحولیاتی آلودگی سے کیسے بچایا جاسکتا ہے؟

تحریر: دردانہ شیر

ملک کے چاروں صوبوں میں اس وقت ایک طرف بجلی کی طویل ترین لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے تو اوپر سے شدید گرمی نے عوام کاجینا دوبھر کردیا ہے گرمی کے ستائے ہوئے ہزاروں سیاحوں نے گلگت بلتستان کے جنت نظیر خطے کا رخ کر دیا ہے بابوسر ٹاپ ابھی تک بند ہے اطلاعات یہ ہیں کہ عید سے قبل اس شاہراہ سے برف ہٹاکر یہ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا اور مزید سیاح اس خوبصورت علاقے میں داخل ہونگے گلگت بلتستان کو قدرت نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے یہاں کا موسم صاف وشفاف پانی بلند بالا پہاڑ خوبصوات جھیلیں اور دینا کی نایاب مچھلی ٹرواٹ یہاں آنے والے سیاحوں کو دعوت نظارا دیتی ہے پاکستان کے علاوہ دنیا کے کونے کونے سے گلگت بلتستان میں سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح یہاں کی خوبصورت وادیوں فلک پوش پہاڑوں کو دیکھنے کے لئے اس خطے کا رخ کرتے ہیں اور گلگت بلتستان میں محکمہ ٹورازم کا اس حوالے سے کارکردگی کو دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس محکمہ کا کام سیاحت کے فروغ کے لئے نہیں بلکہ صرف دفتروں میں بیٹھ کر تنخواہ وصول کرنے کے لئے رکھا گیا ہوعلاقے کی ثقافت کو فروغ دینا ہو یا علاقے میں آنے والے سیاحوں کو سہولتیں فراہم کرنے ہو اس محکمہ کی کارکردگی ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے صوبے میں کروڑوں روپے کی لاگت سے ٹورسٹ پکنک پوائنٹ تعمیر کر دئیے گئے مگر آج وہ بھی لاوارث ہوگئے ہیں اور بعض پکنک پوائنٹ اب بھوت بنگلوں میں تبدیل ہوگئے ہیں صوبائی حکومت گلگت بلتستان کی طرف سے بتایاگیا ہے کہ8 201میں گلگت بلتستان میں 20لاکھ سے زائد سیاح آئینگے دوسری طرف سیاحوں کی طرف سے اگر کوئی شکایت سامنے آئی ہے تو وہ یہاں کی خستہ حال سڑکیں ہیں جو سب سے زیادہ سیاحوں کو تکلیف کا باعث بنتی ہے سابق مسلم لیگ کی وفاقی حکومت نے تو گلگت بلتستان میں سڑکوں کا جال بچھانے کا وعدہ کیا تھا مگر اپنے پانچ سال پورے کئے مگر ایک شاہراہ بھی تعمیر نہیں ہوئی گلگت سے چترال روڈ بنانے کا وعدہ پورا نہ ہوا تو دوسری طرف استور سے مظفر آباد روڈ لنک کرنے بابوسر میں ٹینل بنانے ایسے اعلانات تھے جن پر کوئی عملدرامد نہ ہوسکا البتہ گلگت سکردو روڈ پر ایک سال قبل کام شروع ہوا ہے مگر اس کی تعمیر کب مکمل ہوگی یہ کہنا قبل از وقت ہے جب تک گلگت بلتستان میں شاہراہوں کی حالت بہتر نہیں ہوتی تب تک یہاں آنے والے سیاحوں کومشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اس کے علاوہ یہاں آنے والے سیاحوں کا دوسرا مسلہ رہائش کا ہے گرمیوں میں جب سیاح ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں تو موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہوٹل مالکان لوٹ مار کر تے ہیں حالانکہ انتظامیہ باقاعدہ طور پر ہوٹلوں کا کرایہ مقرر کریں تاکہ یہاں آنے والے سیاحوں سے مناسب کرایہ وصول کیا جائے مری میں اس طرح کی لوٹ مار کی وجہ سے سیاحوں نے اب مری کو خیر باد کہہ دیاہے اگر گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں کے ساتھ ہم یہاں کی مہمان نوازی کا بہتر ثبوت دے تو سالانہ سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہے گا گلگت بلتستان میں جہاں پرائیوٹ سیکٹر پر ہوٹلوں کی کمی ہے تو وہاں پر سرکاری سطح پر بھی اتنے زیادہ ہوٹل نہیں جہاں پر سیاح رہائش اختیار کر سکے جبکہ دوسری طرف پی ڈبیلو ڈی کے درجنوں ریسٹ ہاوس ہیں جہاں پر سیاحوں کو ٹھرانے کی بجائے محکمہ ہذا کے آفسیران مفت میں رہائش اختیار کرتے ہیں اگر ان کو بھی سیاحوں کی رہائش کے لئے استعمال میں لایا جائے تو سالانہ لاکھوں روپے حکومت کے خزانے میں جمع ہوسکتے ہیں رواں سال بھی گلگت بلتستان میں لاکھوں کی تعداد میں سیاح رخ کرینگے مگر ہماری صوبائی حکومت کی طرف سے ہروقت یہ کہنے کو ملتا ہے کہ گلگت بلتستان میں اگلے سال تیس سے چالیس لاکھ سیاح آینگے مگر یہ نہیں کہا جاتا کہ سیاح تو زیادہ آینگے صوبائی حکومت کی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ وہ سیاحوں کو سہولتیں فراہم کر دیں یہاں کی خستہ حال سڑکوں کی بہتری اورسیاحوں کے قیام کے لئے سہولتیں فراہم کرنے میں اپنا کردار اداکریں خطے میں جہاں لاکھوں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں تو وہاں پر علاقے میں ماحول کی الودگی کے حوالے سے بھی حکومت نے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا ہے محکمہ ماحولیا ت کا گلگت بلتستان میں کارکردگی بھی نہ ہونے کے برابر ہے یہاں آنے والے سیاحوں کو ماحول کی بہتری کے حوالے سے بھی شعور دینے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے گلگت بلتستان کی حدبندی میں داخل ہوتے ہی انھیں ماحول کی الودگی کے حوالے کوئی بروشر ہی تقسیم کیا جائے تو اس سے بڑی حدتک ماحول کی الودگی میں کمی آسکتی ہے یہاں آنے والے سیاح اپنے ساتھ لانے والے سامان شاپنگ بیگ وغیرہ یہاں کے صاف وشفاف پانی میں پھینک دیتے ہیں یا روڈ کے کنارہ پھنک دیا جاتا ہے جس سے گلگت بلتستان کاخوبصورت ماحول پر ماحولیاتی الودگی کا شدید خطرہ ہے دوسری طرف ہنزہ میں 5 جون کو مختلف تنظیموں کی طرف سے ماحول کی الودگی کے حوالے سے واک کا انتظام کیا گیاہے جس میں سکول کے طلباء کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کرینگے گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں میں بھی ماحول کی الودگی کا دن منانے کا حکومتی سطح پر اقدامات کی سخت ضرورت ہے ورنہ گلگت بلتستان کا صاف وشفاف ماحول بھی الودہ ہوجائے گاگلگت میں ماحولیات کے محکمہ کا تو سنا ہے مگر اس کی کارکردگی کے حوالے سے تاحال کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی اس ادارے کو بھی فعال بنانے کی ارشدضرورت ہے گلگت بلتستان چونکہ سی پیک کا دروزہ ہے اگر یہ منصوبہ مکمل ہوجاتا ہے تو گلگت بلتستان کی آبادی سے زیادہ سیاح اس علاقے کا رخ کرینگے اس حوالے سے گلگت بلتستان کی حکومت ان سیاحوں کی رہائش اور یہاں آنے والے سیاحوں کی آمدورفت کی بہتری کے لئے ابھی سے ہی اقدامات اٹھانے ارشد ضرورت ہے صرف اعلانات سے کام نہیں چلے گا بلکہ عملی طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments