سماج دوست رویوں کا تعلق سیکھنے سکھانے سے ہے!

سماج دوست رویوں کا تعلق سیکھنے سکھانے سے ہے!

17 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سماجی رویوں سے متعلق بنیادی بات

مہرالنساء سیّد
ہم عام طور پر کامیاب زندگی کیلئے کوشش کرتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی زندگی میں کامیاب بنانے کیلئے ضروری ہنر اور رویے سکھاتے ہیں۔ کامیاب زندگی کا مطلب خاطر خواہ مادی وسائل تک رسائی اور مروجہ معیار کے مطابق ’’چیزیں‘‘ حاصل کرنا ہے۔ کامیاب زندگی کو حاصل کرنے کیلئے ایسی خود غرضیوں کو بھی جائز سمجھ لیا جاتا ہے جو اجتماعی مفادات کیلئے حددرجہ مضر ہوتی ہیں۔ یہ خود غرضیاں گھر کے کوڑے کرکٹ کو گلی میں پھینکنے سے لے کر ٹیکس چوری اور حکومتی خزانے کو لوٹنے تک ہوسکتی ہیں۔ ایسے سماج دشمن رویے اخلاقی گراوٹ کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کا تعلق ان سماجی رویوں اور ہنروں کو سیکھنے سے ہے جو ہمارے تعلیمی وتربیتی نظام میں موجود نہیں۔
معاشرے میں کیسے رہا جائے؟ لوگوں اور اداروں کے ساتھ لوگوں کا کیا تعلق ہو؟ یہ سب اچھے طریقے سے نبھانے کیلئے بہت سے سماجی ہنر اور رویے سیکھنا ضروری ہیں۔ یہ رویے فطری طور پر بچے میں نہیں ہوتے۔ ان کو سیکھنا پڑتا ہے۔ اسی طرح جیسے ایک بچے کو تصویر کشی سیکھائی جاتی ہے۔ اچھا مصور بنانے کیلئے باربار مشق کروائی جاتی ہے۔
بانٹنا(Sharing)ایک بنیادی سماجی ہنر(Skill)اور رویہ(Attitude)ہے۔ بانٹنے کا ہنر بھی بچوں کو سکھانا پڑتا ہے۔ یہ بھی فطری طور پر بچے میں موجود نہیں ہوتا۔ چھوٹی عمر میں بچوں کی پسند ناپسند اور دیگر دلچسپیوں کا محور ان کی ذات پر ہوتا ہے۔ دو سال کی عمر کے بعد بچہ ہر بات کو ’’میں‘‘ یا ’’میری‘‘ کے حساب سے دیکھتا ہے۔ وہ اپنی پسندیدہ چیزوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے سے گریز کرتا ہے۔ صرف یہی نہیں، اسے یہ ہنر سیکھنے اور روزمرہ زندگی میں اپنانے میں بھی بہت دقت ہوتی ہے۔ ایسے میں والدین، اساتذہ اور اردگرد بسے لوگوں کو ذمے داری بڑھ جاتی ہے۔
بچوں کو بانٹنے کا ہنریا رویہ سکھانے کا سب سے بہترین طریقہ یہی ہے کہ آپ مسلسل، بڑے تحمل کے ساتھ بچوں کو سمجھاتے رہیں۔ سمجھانے کے طریقے بدلتے رہیں۔یہ اس لئے ضروری ہے کیونکہ بچے، اپنے آپ کو کسی دوسرے کی جگہ پر رکھ کر، اس کی تکلیف یا ضرورت کا احساس پانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ انہیں ہدایات دینے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہیں رہ جاتا۔’اپنی باری کا انتظار کرو‘ بولنے سے پہلے اپنا ہاتھ اوپر اٹھاؤ،’قطار بناؤ اور اپنی باری کا انتظار کرو، دوسروں کو مت مارو، تمیز سے بات کرو ، امی نے جس طرح کام کرنے کا کہا ہے ، اسی طرح کام کرو، وغیرہ وغیرہ۔
بچوں کو بانٹنے کا ہنر/رویہ سکھانے کیلئے مندرجہ ذیل طریقے کافی کارآمد ہوسکتے ہیں۔
1۔ ہدایات، مشورے او رتجاویز دہراتے رہیں، اس بات سے ہرگز نہ گھبرائیں کہ آپ کو کوئی بات ایک ہزار دفعہ دہرانی پڑے۔ برداشت او رتحمل بہت ضروری ہے۔ ہنر اور رویے بچے خود بخود نہیں سیکھتے۔ یہ آہستہ آہستہ، درجہ بدرجہ ان کی شخصیت کا حصہ بنتے ہیں۔ جس قدر گہرائی سے بچے سیکھیں گے، اسی قدر سماجی رویوں میں خود اعتمادی پیدا ہوگی۔
2۔ جب کوئی بچہ اچھے رویے او رہنر کا مظاہرہ کرے تو اس کی تعریف کریں۔ حوصلہ افزائی کریں۔ حوصلہ افزائی زبانی بھی ہوسکتی ہے اور مناسب ساتحفہ بھی دیا جاسکتا ہے۔
3۔ ہدایات صرف زبانی ہی نہیں، عملی بھی ہوسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کے دوست کے میاں بیوی اپنی بچی آسیہ کے ساتھ آپ کے گھر آئے ہیں۔ آسیہ، آپ کی بیٹی آمنہ سے کھلونا مانگتی ہے۔ آمنہ انکار کردیتی ہے۔ اس صورتحال میں اپنے دوستوں کو خوش کرنے کیلئے آپ آمنہ سے مت بگڑیں۔ زبردستی کرکے آمنہ کا کھلونا، آسیہ کے حوالے بھی نہ کریں۔ آپ آمنہ سے فرمائش کریں کہ وہ کوئی اور کھلونا آسیہ کو کھیلنے کیلئے دے دے۔ اگر آمنہ نہیں مانتی تو آپ اس سے بات کریں۔ آمنہ‘ اگر آپ آسیہ ہوتی اور آپ اپنی امی ابو کے ساتھ آمنہ کے گھر جاتی تو وہاں آپ کو آمنہ کا کوئی کھلونا پسند آجاتا اور آمنہ آپ وہ کھلونا نہ دیتی۔ آپ کو کیسا محسوس ہوتا۔۔۔؟ آپ کے خیال میں آمنہ کو کیا کرنا چاہئے؟‘‘ ممکن ہے
آمنہ اس بات کے بعد فوراً کھلونا، آسیہ کو دے دے، ممکن ہے کہ نہ دے مگر وہ اس بات پر ضرور سوچے گی اور آئندہ ایسا کرنے سے گریز کرے گے۔۔۔
4بچے کو پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ اگر کتابیں پڑھ کر سیکھنے کا ہنر آجائے اور بچہ اس سے لطف لینا شروع کردے تو وہ خود بخود سیکھتا چلا جاتا ہے۔ اسے کہانیاں پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ کہانیاں پڑھنے سے بچے میں صلاحیت پیدا ہوجائے گی کہ وہ کسی دوسرے کی جگہ پر اپنے آپ کو رکھ کر، اس کے احساسات کو جان لے۔ اس میں ہمدردی، پیار اور دوسروں کے ساتھ جڑنے کا منصبوط احساس پیدا ہوگا۔ سماجی رویوں کیلئے یہ بہت ضروری ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔