گلگت: میڈیا ہاؤسز کوجاری کردہ نوٹسز کے خلاف میڈیا پروٹیکشن کمیٹی کی کال پراحتجاج ، چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ سے از خود نوٹس لینےکا مطالبہ

گلگت: میڈیا ہاؤسز کوجاری کردہ نوٹسز کے خلاف میڈیا پروٹیکشن کمیٹی کی کال پراحتجاج ، چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ سے از خود نوٹس لینےکا مطالبہ

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(پ ر) گلگت کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے میڈیا ہاؤسز کوجاری کردہ نوٹسز کے خلاف میڈیا پروٹیکشن کمیٹی کی کال پر گلگت پریس کلب،گلگت بلتستان نیوز پیپرز سوسائٹی اور ایڈیٹرز فورم گلگت بلتستان کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ۔ چیف سیکریٹری آفس کے سامنے دھرنا بڑی تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی۔ نوٹسز کےاجراء پر صحافی برادری نے ضلعی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور انتظامیہ کے روئیے کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔صحافی برادری کے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی و کالم نگار ایمان شاہ نے کہا کہ اس سے قبل بھی صحافتی اداروں اور صحافیوں پر حملے کئے گئے اور صحافت کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حالیہ نوٹسز کا مقصد گلگت بلتستان میں میڈیاکی حیثیت کا اندازہ لگانا تھا۔ ہم کسی قسم کے دباؤ قبول نہیں کریںگے اورکرپٹ مافیا کی آزاد صحافت کو کمزور کرنے کی تمام سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔ ہم نے نیک نیتی سے عوامی مسائل اعلیٰ ایوانوں تک پہنچانا ہے پہنچاتے رہے ہیں جبکہ حکومتی کارکردگی عوام کے سامنے رکھتے ہیں۔بعض مافیاز کو میڈیا کی ترقی ہضم نہیں ہو رہی اور ضلعی انتظامیہ کے ذریعے صحافتی اداروں اور صحافیوں کو کمزور کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں۔صحافتی اداروں اور صحافیوں کے خلاف ہونے والی سازشوں اور سازش کاروں کا مقابلہ کرنے کے لئے صحافی برادری خود کو مضبوط کرے اور اپنے اختلافات کو ختم کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں میڈیا کو ہر قسم کے مافیاز کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔سب سے پہلے میں اپنے اختلافات کو ختم کرتا ہوں اور صحافت کو درپیش مسائل کے حل کے لئے اگر کسی سے اختلاف ہے تو آج کے بعد ختم ہم ملکر مافیاز کا مقابلہ کریں گے۔

احتجاجی مظاہرے اور دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیٹرز فورم کی نمائندگی کرتے ہوئے امتیاز علی تاج نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر گلگت صحافیوں اور صحافتی اداروں کو ٹھیک کرنے سے پہلے خود ٹھیک ہو جائیں اور اپنے ملازمین کو ٹھیک کریں ۔اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر میں ہونے والی مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کی فائلیں معائنہ کمیشن میں بھری پڑی ہیں اور ہر فائل کا ہر ورق ان کی کرپشن اور زمینوں کے انتقالات میں رشوت ستانی اور بے ضابطگیوں کی گواہی دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہر آفیسر نے اپنے آفس میں عدالتیں لگا رکھی ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہا تو ہم عدالتوں کو بھی نہیں مانیں گے۔میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے اور پارلیمنٹ سے منظور پریس اینڈ پبلکیشن آرڈیننس 2002میں میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا گیا ہے۔ گلگت کی ضلعی انتظامیہ نے ریاست کے چوتھے ستون کو کمزور کرنے کی کوشش کرکے ریاست کے خلاف سازش کی ہے۔ضلعی انتظامیہ آئین اور قانون سے ماورا فیصلے کرنے لگی ہے اس کو لگام دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سپریم اپیلٹ کورٹ از نوٹس لے اور ریاست کے چوتھے ستون کے خلاف سازشیں کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی و کالم نگار محمد عیسی حلیم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے صحافیوں کو دبانے کی تمام تر کوششیں اور سازشیں ناکام ہوں گی۔صحافیوں کو سمجھانے اور سکھانے سے پہلے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر اپنا قبلہ درست کریں۔صحافی وہ مخلوق ہے جو کسی کے دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہو گی۔ ہم سے قلم چھیننے کی کوشش کی گئی تو ہماراقلم مذید مضبوط ہوگا۔ہم نے عوامی مسائل اجاگر کرنے سمیت کرپشن کی نشاندہی کرنی ہے اور کرپشن کی نشاندہی کرتے رہیں گے اور کرپٹ مافیا کی دھمکیوں سے نہیں ڈرنے والے۔

احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی شکور اعظم رومی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں صحافیوں کو درپیش مسائل حل کرنے کی بجائے صحافیوں کو ہراساں کرنا قابل مذمت ہے ۔

احتجاجی دھرنے سے گلگت پریس کلب کے جنرل سیکریٹری ندیم خان نے بھی خطاب کیا جبکہ سنیئر صحافی عبدالرحمن بخاری نے مشترکہ قرار پیش کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کی صحافتی تنظیمیں گلگت پریس کلب، گلگت بلتستان نیوز پیپر سوسائٹی اور گلگت بلتستان ایڈیٹرز فورم پر مشتمل میڈیا پروٹیکشن کمیٹی کے زیر اہتمام اس مشترکہ ریلی میں حالیہ روز اخبارات اور اخباری کارکنوں کیخلاف انتظامیہ کی انتقامی کارروائیوں کی مذمت کی جاتی ہے اور اسے آزادی صحافت کیخلاف سازش اور قومی قوانین کی پامالی قرار دایتی ہے۔ ریلی میں درج ذیل مطالبات پیش کئے جاتے ہیں کہ اخبارات کیخلاف ضلعی انتظامیہ کی کارروائیوں کو آزادی صحافت پر حملہ اور اخباری کارکنوں کو ہراساں کرتے ہوئے ریاست کے چوتھے ستون کو کمزور کرنے کی کوششوں کو روکا جائے۔اخبارات کو مسلسل پریس ایڈوائس جاری کرنے اور خبروں کی اشاعت میں سرکاری مداخلت کو روکا جائے۔صحافیوں کی مشترکہ کمیٹی کی طرف سے حالیہ روز صحافتی اداروں اور اخباری کارکنوں کیخلاف انتہائی اقدامات کو تشویشناک قرار دے کر عدالت سے از خود نوٹس لینے اور عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے۔گلگت بلتستان میں پریس کونسل آف پاکستان کے قوانین کی سرکاری سطح پر خلاف ورزی کو روکا جائے۔گلگت بلتستان میں صحت مندانہ اور تعمیری صحافت کے فروغ کیلئے پریس فاؤنڈیشن کا فوری قیام عمل میں لایا جائے۔گلگت بلتستان کی میڈیا اور سرکاری اداروں کے مابین تنازعات کے حل کیلئے حکومتی سطح پر فورم تشکیل دیا جائے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔