اپلا کی سالانہ میٹنگ:چند تجاویز

اپلا کی سالانہ میٹنگ:چند تجاویز

17 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: امیرجان حقانیؔ
پریس سیکرٹری، گلگت بلتستان پروفیسر اینڈ لیکچرار ایسوسی ایشن

APPLA (آل پاکستان پروفیسر اینڈ لیکچرار ایسوسی ایشن)  ملک بھر کے کالجز کے پروفیسروں کی نمائندہ تنظیم ہے۔ اس کی سالانہ میٹنگ 27,28جنوری 2017ء کو گورنمنٹ سائنس کالج وحدت روڈ لاہور میں منعقد ہوئی۔ اس میں ملک بھر بشمول وفاق، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پروفیسر ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔گلگت سے پروفیسر ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر راحت شاہ اور راقم الحروف(امیرجان حقانیؔ،پریس سیکرٹری) نے شرکت کی۔اپلا کا افتتاحی سیشن گورنمنٹ سائنس کالج کے پرنسپل پروفیسر اعزاز احمد خان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ مختصر افتتاحی تقریب کے بعد پرنسپل صاحب نے ،کالج کا نمائندہ رسالہ ’’دبستان‘‘ آل پاکستان ایسوسی ایشن کے ممبران  اور ملک بھر سے آئے ہوئے مہمانوں کو بطور ہدیہ پیش کیا۔پہلے دن میں تین سیشن ہوئے جن کی صدارت پروفیسر حافظ عبدالخالق ندیم نے کی۔ جبکہ  پہلے دن کے تینوں سیشن کی کاروائی آل پاکستان ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری جناب پروفیسر نصراللہ خان یوسف زئی نے چلائی۔پہلے دن کے دو سیشنوں میں گزشتہ سال کی مینٹس آف میٹنگ کے علاوہ صوبائی یونٹس کے صدور نے سال بھر کی کارکردگی پیش کی۔یہ  دونوں سیشن بہت تفصیلی مباحث پر مشتمل تھے۔ تمام یونٹس کے صدور نے اپنی کارکردگی اور اپنے یونٹس کے مسائل و مشکلات بلاکم وکاست فرینڈلی ماحول میں شیئر کیے۔میرا اپنا یہ تجزیہ ہے کہ سب سے زیادہ مسائل سندھ اور بلوچستان کے ہیں۔ وہاں کے پروفیسروں کی انتظامیہ اور سول حکومت تک اپروچ نہیں۔  اسی طرح تمام یونٹس میں سب سے بہترین کاردگرگی آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کی نظر آئی۔ ان دونوں یونٹس کے پروفیسر وں کی اپنی ہائی اتھارٹی تک بہت آسانی سے اپروچ ہے۔ کے پی کے  کی ایسوسی ایشن نے اپنے مطالبات منوانے کےلیے سب سے زیادہ کوشش کی ہے اوراس کوشش کے بعدان کو وہی ٹارگٹس اچیووف بھی ہوئے ہیں جو مطالبات کی شکل میں تھے۔اس تمام کا کریڈٹ پروفیسر نصراللہ خان اور پروفیسر طوفان کی بہادری اور ان تھک محنت کو جاتا ہے۔

میٹنگ کے دوسرے سیشن سے پہلے آل پاکستان پروفیسر ایسوسی ایشن  کی کابینہ بھی منتخب کی گئ جس میں پروفیسر عبدالخالق ندیم (پنجاب) صدر، پروفیسر چودھدری محمدایوب(آزاد جموں و کشمیر) جنرل سیکرٹری،پروفیسر محمد سعید مندوخیل (بلوچستان) سینئر نائب صدر،پروفیسر محمد حبیب اللہ (فیڈرل) ایڈیشنل جنرل سیکرٹری، پروفیسرعرفان علی صدیقی(جی بی) جوائنٹ سیکرٹری اور پروفیسر راجا افضل اقبال(آزاد جموں وکشمیر) پریس سکریٹری منتخب ہوئےجبکہ تمام یونٹس کے صدور کو آل پاکستان پروفیسر اینڈ لیکچرار ایسوسی کے نائب صدور منتخب کیا گیا۔آئینی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جس نے اپلا کےلیے دستور مرتب کرنا ہے ۔ پروفیسر عبدالخالق ندیم چیئرمین جبکہ پروفیسرنصراللہ خان، پروفیسر راحت شاہ اور پروفیسر صغیر احمد میرانی اس کے ممبران منتخب ہوئے۔

دو دنوں کی طویل نشستوں کے بعد آل پاکستان پروفیسر اینڈلیکچرار ایسوسی ایشن نے تمام یونٹس کے مسائل  اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے چندمطالبات متفقہ طور پر میڈیا کے نمائندوں کو تحریری پیش کیے اور ایک پریس کانفرنس بھی کیا۔ اور اس عزم کا اظہار و اعادہ کیا کہ آل پاکستان پروفیسر اینڈ لیکچرار ایسوسی ایشن اپنے جائز اور آئینی مطالبات کی منظوری تک کسی بھی حد تک جائے گی اور کہا گیا کہ تمام یونٹس اپنی انتظامیہ کو مطالبات کی منظوری کے لیے باقاعدہ تحریری نوٹس بھجوائیں گے اور حل نہ ہونے کی صورت میں ملک بھر میں ایک ساتھ احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے ۔ضرورت پڑنے پر قومی اسمبلی کے سامنے بھی احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔اپلا کے منظور کردہ مطالبات یہ ہیں۔

۱۔ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے۔

۲۔ ملک بھر کے تمام شہروں میں پروفیسروں کے مسائل، تعلیمی معیار اور امتحانی نظام کی بہتری کے لیے سیمینارز اور سمپوزیم منعقد کروائے جائیں۔ جبکہ تعلیم کو عصری اور قومی تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے۔

۳۔ بین الصوبائی رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے کالج پروفیسرز کے وفود کے تبادلے کرانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

۴۔ آئندہ بجٹ میں تعلیم کی مد میں GDPکا چھ فیصد حصہ تعلیم کے لیےمختص کیا جائے۔

۵۔ پاکستان کے تمام صوبوں ، وفاق، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے تمام کالجز کے پروفیسروں کو ون اسٹپ/ون اسکیل اپ گریڈیشن دی جائے۔

۶۔ سروس سٹرکچر میں تفاوت کو فوری طور پر دو ر کیا جائے اور تمام کالج اساتذہ کو خیبر پختونخواہ کی طرز پر چاردرجاتی فارمولا دیا جائے۔

۷۔ تمام سرکاری کالجز کے پروفیسرز کی رہائشی ضرورت  کو دیکھتے ہوئے ان کے لیے دوران سروس پلاٹ یا گھر  آسان قسطوں پر  اور رعایتی نرخوں پر دی جائے۔

۸۔ 2017,18 کےبجٹ میں تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب میں اضافہ کیا جائے نیز پہلے سے دی گئی  ایڈہاک ریلیف کو بنیادی تنخواہوں  کا حصہ بنا یا جائے اور تمام منجمد الاونسس  بحال کیے جائے

۹۔ پاکستان کے تمام حصوں کے پروفیسرز کے  لیے اعلان کردہ پی ایچ ڈی  اور ایم فل الاونس میں پیدا ہونے والی تفاوت ختم کی جائے نیز ڈائریکٹ سلیکٹ ہونے والے تمام پروفیسرز ، لیکچررز کا پی ایچ ڈی الاونس بحال کیا جائے۔

۱۰۔ پاکستان بھر کے کالج اساتذہ اور دیگر اساتذہ کو انکم ٹیکس میں 75%چھوٹ حاصل تھی ، موجودہ حکومت نے کم کردی۔فوری طور پر یہ شرح بحال کی جائے۔بصورت دیگر پورے پاکستان میں احتجاج کیا جائے گا۔

۱۱۔ بورڈ آف گورنرز اور کالجوں کی نجکاری کسی صورت میں قبول نہیں کی جائے گی۔

۱۲۔ پاکستان بھر میں کالج پروفیسر ز کے لیے ہیلتھ انشورنش سکیم متعارف کروائی جائے جبکہ میڈیکل الاونس میں معقول اضافہ کیا جائے۔

۱۳۔ چھٹیوں کے دوران کنونیس الاونس کی کٹوتی بند کی جائے اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ملک بھر کے باقی حصوں میں بھی چھٹیوں میں کنونیس الاونس دیا جائے۔

۱۴۔ بینوولنٹ فنڈ کی رقم ریٹائرڈ منٹ پر یک مشت ہر ممبر کو ادا کیا جائے۔

پروفیسر ایسوسی ایشن سے میری چند طالب علمانہ گزارشات ہیں۔یہ گزارشات بنیادی طور پر ان تمام مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے کررہا ہوں جو دو دن میں پورے ملک کے ذمہ داروں کے مسائل و مشکلات سن کردل و دماغ میں آئیں۔یہ بات بہت ہی افسوس ناک ہے کہ اپلا کے تمام یونٹس پریشر گروپ کی شکل اختیار کررہے ہیں یا کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ کچھ علمی وسماجی اور تعلیمی ایکٹویٹیز کو بھی اپلا نے جگہ دینی ہوگی بصورت دیگراپلا ایک مفاداتی پریشرگروپ بن کررہ جائے گا۔ اپلا پڑھے لکھے اور ویل ایجوکیٹڈ لوگوں کا ایک ملک گیر فورم ہے تو اپلا کی سوچ دیگر پریشر اور مفاداتی تنظیموں اور گروپس سے الگ ہونی چاہیے۔ اپنے جائز مطالبات کی طرح کریٹیو ایکٹویٹیز کی طرف آنا ہوگا اور ترجیحی بنیادوں پراپلا کو پہلی فرصت میں ایچ ای سی سےمنظوری لے کر ایک  ریسرچ جرنل نکالنا ہوگا۔ اس سے کالجز لیکچراروں  اور پروفیسر کو اپنے ریسرچ پیپر شائع کروانے میں آسانی بھی ہوگی  اور سرکار کی طرف سے یہ اعتراض بھی نہیں اٹھایا جاسکے گا کہ کالجز والے تحقیقی کام نہیں کرتے اور انہیں ریسرچ پیپرز کی بنیاد پر کالجز کے پروفیسر آسانی سے یونیورسٹیوں تک اپروچ کرسکیں گے۔ اپلا کو دوسرا کام فوری طور پر ایک نیوز لیٹر جو شائع کرنا ہوگا جس میں تمام یونٹس کی مشکلات، مسائل اور کارکردگی شائع کی جائے گی۔اسی طرح آج ویب سائٹس کا دور ہے۔ اپلا بہت آسانی کے ساتھ ایک ویب سائٹ ڈویلپ کرسکتی ہے۔ اپنے مشکلات، مسائل، کارکردگی اور تعلیمی ترقیاں ارباب اقتدار اور صاحبان بست و کشاد تک پہنچانے کے لیے یہ ویب سائٹ بنیادی کردار ادا کرے گی۔ اور اپلا کو کمرشل میڈیا کے نخروں سے بھی چھٹکارا حاصل ہوگا۔اپلا کو سالانہ ایک یونٹ میں ایک مشاورتی وعلمی ورکشاپ منعقد کرنا ہوگا جس میں مسائل و وسائل کو تفصیلی ڈسکس کیا جائےاور مستقبل کا لائحہ عمل بھی طے کرنے کے حوالے سے علمی بنیادوں پر غور و خوض کیا جائے ۔اپلا کی فوری رجسٹریشن کروائی جائے اور تمام یونٹس کو بھی رجسٹرڈ کروایا جائے۔بصورت دیگر قانونی پیچیدگیاں پیدا ہونگی۔اور فوری طور پر دستور بھی مرتب کرنا ہوگا، بغیر منشور و دستور کے چلنے والی ایسوسی ایشن زیادہ دیر تک نہیں چل پاتی۔

بہر صورت یہ ایک فروٹ فل میٹنگ تھی۔ جس میں سب سے بہترین بات جو مجھے نظر آئی وہ یہ ہے کہ اپلا نے مکمل اعتماد اور سنجیدگی کے ساتھ ملک بھر کے لیے یکساں نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کا مطالبہ کیا۔ یقینا یہ مطالبہ اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اپلا کے تمام ممبران نے قائداعظم لائیبریری میں ایک حساس موضوع پر مشتمل ایک سیمنار میں بھی شرکت کی۔ اردو ڈائجسٹ کے مدیر اعلی جناب الطاف حسن قریشی نے طلبہ تنظیموں کی بحالی کے مضمرات پر قائداعظم لائیبریری لاہور میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا تھا جس میں طلبہ یونین کے سابق قائدین اور  نامور اساتذہ اور سول سوسائٹی کے لوگوں کو بطور سپیکر دعوت دیا تھا۔ اپلا کے تمام ممبران کو بھی مدعو کیا گیا ۔ اپلا کے صدر عبدالخالق ندیم نے بھی سیمنار سے گفتگو کیا۔ جاوید ہاشمی، مجیب الرحمان شامی، الطاف حسن قریشی، غلام عباس،احمدبلال، حفیظ اللہ نیازی، ڈاکٹر راشدہ قریشی اور ڈاکٹر محمد اکرم جیسے لوگوں نے خطاب کیا۔ ان لوگوں کو پہلی دفعہ سننے کا موقع ملا۔ الطاف حسن قریشی ، جاوید ہاشمی، حفیظ اللہ نیازی ، اور ڈاکٹر  راشدہ قریشی سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ ان کے ساتھ تصویریں بھی کھنچوائی۔ بہت مزہ آیا۔ قائداعظم لائیبریری کی طرف سے صرف پروفیسر ایسوسی ایشن کے ممبران کوخصوصی شیلڈ بھی دیے گئے۔اپلا کے صدر عبدالخالق ندیم نے تمام اپنے معزز مہمانوں کی اپنی بساط سے زیادہ خدمت کی اور انہیں آرام پہنچانے کی بہترین کوشش کی۔ میں دوران سفر اپلا کے ذمہ دار وں کو پروفیسروں پر مشتمل کئی  لطائف سنائیں جن پر وہ انتہائی محظوظ ہوئے۔

اپلا کے صدر اور جنرل سیکرٹری سے خصوصی گزارش کی کہ جولائی اگست میں اگلی میٹنگ گلگت میں رکھا جائے تاکہ احباب گلگت بلتستان کو بھی دیکھ سکیں اور روابط کا سلسلہ بھی بڑھے۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔