عوامی منتخب نمائندوں کے عدم تعاون اور اناپرستی کی وجہ سے چترالی قوم مشکلات سے دوچار

عوامی منتخب نمائندوں کے عدم تعاون اور اناپرستی کی وجہ سے چترالی قوم مشکلات سے دوچار

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال ( محکم الدین ) کنوینئر تحصیل کونسل چترال خان حیات اللہ خان نے کہا ہے کہ حکومتی نظام کی خرابی کی وجہ سے نمایندگی کے جم غفیر کے باوجود عوام کے مسائل حل نہیں ہو رہے ۔ ایم این اے ، ایم پی ایز ، ڈسٹرکٹ کونسل ، تحصیل کونسل اور ویلج کونسل کے آپس میں عدم تعاون اور ہر ایک کی انا پرستی کی وجہ سے چترالی قوم مشکلات سے دوچار ہے ۔ اور اس کی بنیادی وجہ قرآن پاک سے لا علمی اور اسلامی و انسانی ہمدردی کا فقدان ہے ۔

ان خیا لا ت کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز تحصیل کونسل چترال کے اجلاس کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ باہمی قریبی روابط سے چترال کے لوگوں کے مسائل بہتر طریقے سے حل کئے جاسکتے ہیں ۔ مگر افسوس کا مقام یہ ہے ۔ کہ انا نیت نے تمام نمایندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔

اجلاس میں اے کے آر ایس پی کے آر پی ایم سردار ایوب ، ڈی پی ایم ایس آر ایس پی طارق احمد اور سی ڈی ایل ڈی کے قاضی بھی موجود تھے ۔ آر پی ایم اے کے آر ایس پی سردار ایوب نے اپنے ادارے کی کارکردگی اور کام کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی اور کہا ۔ کہ دیگر ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ اے کے آر ایس پی تحصیل چترال میں اکتیس اور تحصیل مستوج میں چوبیس منی ہائیڈل پاور اسٹیشن تعمیر کر چکا ہے ۔ ان سے عوام کو بجلی کے حوالے سے بہت سہو لت ملی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ بعض ایم ایچ پیز کی عمر ختم ہو چکی ہیں اور ایسے منصوبے ایک خاص دورانیے کے اندر لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے تعمیر کئے جاتے ہیں ۔ اس لئے جہاں کمیونٹی ارگنائزیشن مضبوط اور فعال ہیں ۔ وہاں اس قسم کے چھوٹے پاور سٹیشن اب بھی کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے ارندو میں بجلی گھر کے حوالے سے خاتون ممبر آمنہ بی بی کی طرف سے اُٹھائے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ارندو میں بجلی گھر کا مسئلہ تیکنیکی غلطی کی وجہ سے نہیں بلکہ کمیونٹی کے باہمی عدم تعاون کی وجہ سے ہے ۔ اسی طرح عشریت میں تین ایم ایچ پیز کی عمر پوری ہو چکی ہے ۔ خاتون ممبر فریدہ سلطانہ کی طرف سے خواتین کی ضلع سے باہر شادی روکنے کے سلسلے میں آگہی پروگرام سے متعلق اُٹھائے گئے سوال پر سردار ایوب نے کہا کہ اے اکے آر ایس پی کے زیر نگرانی ایک پراجیکٹ صرف خواتین کیلئے کام کرنے کیلئے موجود ہے ۔ جس کے ذریعے آگہی پھیلانے میں مدد مل سکتی ہے ۔ تاہم میری کونسل سے درخواست ہے ۔ کہ اس کیلئے قانون سازی کی جانی چاہیے ۔ تاکہ اس کو بنیاد بناکراے کے آر ایس پی بھی اس میں اپنا حصہ ڈال سکے ۔

کونسل کے کئی ممبران ، عبدالحق ، شمشیر خان ، قسوراللہ ، نظر گئے کالاش ، عبدالقیوم شاہ وغیرہ نے ایس آر ایس پی کے کام کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ۔ اورترقیاتی منصوبوں کی تعمیر میں بلدیاتی نمایندگان نظر انداز کرنے اور بعض مقامات پر ناقص تعمیرات کے بارے میں بات کی۔ خصوصا چترال ٹاؤن کیلئے تعمیر شدہ گولین بجلی گھر سب سے زیادہ موضوع بحث رہا ۔ اس کے جواب میں ڈی پی ایم طارق احمدنے کہا ۔ کہ ایس آر ایس پی عوام کی مشکلات کم کرنے کیلئے چترال بھر میں کام کر رہا ہے ۔ اور اسکا بنیادی مقصد لوگوں کو سہولت فراہم کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر کے دوران کمیونٹی کے اند سوشل مسائل ضرور اُٹھتے ہیں ۔ اور اُنہیں حل بھی کیا جاتا ہے ۔ تاہم ایس آر ایس پی اپنے کام سے مطمئن ہے ۔ انہوں نے گولین بجلی گھر کے بارے میں کہا  کہ لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ یہ منصوبہ چترال ٹاون کیلئے مکمل کیا گیا ہے ۔ اور 10فروری تک چائنیز کمپنی کے انجینئرز واپس آکر اس کو ٹسٹ کریں گے ۔ اور بجلی چترال ٹاؤن کو مہیا کی جائے گی ۔

انہوں نے کہا ۔ کہ بعض شر پسند افراد اس منصوبے کو ناکام بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ اور چوری چھپے ٹرانسمیشن لائن میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں کوغذی ایریے میں ٹرانسمیشن لائن کو شارٹ سرکٹ میں تبدیل کرنے کیلئے استعمال شدہ وائر کو بھی ہاؤس میں پیش کیا ۔ اجلاس میں ممبر تحصیل کونسل عشریت روئیداد احمد نے عشریت میں دونوں این جی اوز کی طرف سے ترجیحی بنیادوں پر کام شروع کرنے اور خاتون ممبر کونسل ارندو بی بی آمنہ کی طرف سے ایک قرار داد کے ذریعے عوامی چراگاہ ناریت گول تا لنگور بٹ کو وائلڈ لائف کولجر قرار دینے کے عمل میں اصلی باشندگان ارندو کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ بعد آزان کنوینئر نے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔