گلگت بلتستان میں صحافتی اقدار اور اظہار آزادی رائے کی صورتحال

گلگت بلتستان میں صحافتی اقدار اور اظہار آزادی رائے کی صورتحال

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

راشد حسین

دیکھو کہیں ایسا تو نہیں ہے تم کو ہی ادراک نہ ہو
غنڈہ صحافت کرنے والے زریعہ خبر ہو معاش نہ ہو

سب کے گریبان جھانکنے والو
کیوں اپنا گریبان چاک نہ ہو

گلگت بلتستان میں صحافت کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان کے دیگر صوبوں کی نسبت نہایت ہی کم وسائل اور پیچیدہ معروضی حالات کے باوجود اہل علم و قلم نے بہت ہی قلیل عرصے میں قلم کے زریعے ابلاغ کی داغ بیل ڈالی۔ ان میں سے چند افراد جن کو بلا شک و شبہ گلگت بلتستان میں صحافت کا سرخیل کہا جا سکتا ہے جنہوں نے محدود بلکہ نہ ہونے کے برابر وسائل کے باوجود اپنی تحریروں سے خطے کے مسائل کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار واضح طور پر ادا کیا۔ چاہے ظفر حیات پال ہوں، شیر باز برچہ ، اقبال عاصی ، سعادت علی مجاہد ہوں یا ایمان شاہ صاحب۔ ان اہل قلم افراد نے صحافت اور ابلاغ کے ہنر کو استعمال کرتے ہوئے خطے کے حالات سے مقتدر حلقوں بالخصوص وفاق کو آگاہ کرنے میں ہرممکن کردار ادا کیا ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ خطہ شمال کے باسی آج سے صرف ایک دہائی قبل جب پاکستان بھر میں ٹیلی ویژن اور دیگر ابلاغ عامہ کے زرائع ابھی پھل پھول رہے تھے ایک دو ہفتہ وار اخبارات پر انحصار کر رہے تھے۔ پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے بصری و سمعی خبری بلیٹن کے علاوہ تین دن بعد بذریعہ روڈ گلگت آنے والے قومی اخبارات ملک اور دنیا کے حالات سے باخبر رہنے کا زریعہ ہوا کر تے تھے۔

بعد ازاں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مقامی ہفت روزے روزنامہ اخبارات میں تبدیل ہو گئے۔ انٹرنیٹ کی آمد اور خبروں کی ترسیل کے لیئے دیگر تیز ترین زرائع کی دستیابی کے بعد مقامی طور پر اخبارات کے پرنٹنگ پریس بھی قائم ہونا شروع ہو گئے۔ یوں صیح معنوں میں گلگت سمیت دیگر شہروں اور قصبوں میں مقامی ، قومی اور بین الاقوامی خبروں سے مزین مقامی طور پر تیار شدہ اخبارات کی ترسیل کا سلسلہ شروع ہوا۔ صحافت اور اخبارات کا پیٹ بھرنے کے لیئے بغیر کسی ابتدائی تربیت اور متعلقہ تجربے کے دستیاب افرادی قوت سے کام لیا جانے لگا۔ یہ افراد صحافت کی ابجد سے بھی واقف نہیں تھے مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اور اور کاروان کا حصہ بننے والے دیگر افراد کی صحبت میں رفتہ رفتہ اپنی صحافت کو بہتر بناتے چلے گئے۔ ایسے افراد کی فہرست بہت ہی طویل ہے جنہوں نے صحافت کی رسمی تعلیم نہ ہونے کے باوجود اپنی لگن اور محنت سے اس ہنر کو نہ صرف خود سیکھا بلکہ دوسروں کو بھی قلم کا بہتر اور مثبت استعمال سکھایا۔ یہاں ایک نکتہ قابل غور ہے کہ ایسے قابل اور اپنے کام میں انتہائی سنجید ہ ان چند افراد نے ابلاغ کی طاقت کے غلط استعمال کو روکنے میں اپنی کردار بخوبی نبھایا۔ اظہا ر آزادی را ئے کی اہمیت سے انکا ر اب ممکن نہیں رہا ،دنیا گلو بل ویلیج کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ انٹر نیٹ اور سو شل میڈ یا کی مو جود گی نے جہاں اظہا ر آزادی را ئے کی تر سیل کو سہل اور آسان بنا یا ہے وہاں آزادی اظہار رائے کا غلط استعما ل عام ہو تا جا رہا ہے ۔اظہار رائے کی آزادی کے حو الے سے مرو جہ قوا نین سے نا بلد اکثر صحا فی حضرات جب قلمی تلوار سے کسی کی گر دن کا ٹنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے جو اب میں مروجہ قوا نین کے تحت کا رروائی عمل میں لا ئی جا تی ہے تو ایک دم صحا فتی اقدار اور آزادی پر حملہ تصور کیا جا تا ہے ۔اقوام متحدہ کے اعلا میہ (UDHR) کے آ رٹیکل 19دنیا بھر میں اظہار را ئے کی آزادی کی ضما نت فراہم کرتا ہے جس کے مطابق کوئی بھی آ دمی اپنی سوچ و فکر اور نظر یات کا پر چا ر بلا خو ف و خطر کرسکتا ہے ۔ اور کسی دوسرے شخص کو یہ حق حا صل نہیں کہ وہ مداخلت کرے اور اس پر اپنے نظریات زبر دستی تھو پ دے اس آرٹیکل 19کے تحت اقوام متحدہ کے تمام مما لک کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے مما لک میں اظہار آزادی را ئے کو یقینی بنا نے کیلئے اقدا ما ت کرے لیکن اسی کے ساتھ یہ حق بھی دیا گیا ہے کہ اظہار را ئے کی آزاد ی کی تشریح میں مذ ہب ، کلچراور مرو جہ سسٹم کو دیکھ کر قوانین میں تر میم کر سکتے ہیں ۔1973کے آئین کے آ رٹیکل 19کے مطابق پا کستان کے تمام شہر یوں کو اظہا ر آزاد ی را ئے کی اجا زت ہے لیکن کوئی بھی شخص اظہار آزادی رائے کے آڑ میں ملکی سلا متی ، افواج پا کستان اور اسلا م کے بنیا دی عقا ئد پر حملہ آور نہیں ہو سکتا ہے ۔ اس ضمن میں تشر یحا ت آ ئین میں مو جود ہے ، بد قسمتی سے پا کستان میں صحا فت سے وا بستہ افراد کی ایک بہت بڑی تعداد صحا فتی قوا نین سے نا بلد ہو نے کی وجہ سے ماد ر پدر آزاد ی کا راگ الا پتے ہو ئے دوسروں کے پگڑیا ں اچھا لنے میں مصروف نظر آ رہے ہو تے ہیں ۔صحا فت جسے کسی بھی ریا ست کا چو تھا ستون گردانا جا تا ہے کہ مو جودہ دور میں اس کی اہمیت سے انکا ری نا ممکن ہے ،جمہو ریت کے استحکام ، اداروں کی مضبو طی اور معاشر تی نا سوروں کی بیخ کنی کیلئے مستند میڈ یا کی مو جو دگی انتہا ئی ضروری ہو تی ۔

پا کستان بھر کی طرح گلگت بلتستان میں شعور اور آگاہی کے فروغ اور نظام کی مضبو طی میں میڈیا کا اہم رول رہا ہے ، بد قسمتی سے گز شتہ چند سا لوں سے گلگت بلتستان کے میڈ یا میں چند ایسی کا لی بھیڑیں گھسی ہو ئی ہیں جو صحا فت جیسے مقدس پیشے اور جن لو گوں نے گلگت بلتستان کے اندر قر با نیاں دیکر صحا فت کو ایک مقام دلوا یا تھا ،ان کی قربا نیوں پر پا نی پھیر رہے ہیں ۔صحا فتوں صفوں میں ان افراد کی صحافتی اقدار اور پیشے سے وفا داری آ خر ی تر جیح اور مسلک اور فسادی گروپوں سے وفاداری اولین تر جیح دیکھا ئی دیتی ہے ۔خبر ی لوازمات سے نا بلد یا مفا دات کے خا طر یہ افراد بغیر تحقیق کسی کی پگڑی اچھا لنے میں ذرہ بھر خو ف محسو س نہیں کرتے ،بلیک میلنگ ، لفافہ صحا فت اور زرد صحا فت جیسے اصطلا حا ت جس سے گلگت بلتستان کے صحا فت سے وا بستہ افراد نا بلد تھے ان کا لی بھیڑ یوں کی بدو لت اب بلیک میلنگ اور ذرد صحا فت کو لو گ اپنا اوڑ ھنا بچھو نا بنا تے دیکھا ئی دے رہے ہیں ۔جہاں ایک طرف کچھ افراد پر مشتمل یہ گروہ صحا فتی حلقوں کی بد نا می کا باعث بن رہے ہیں وہاں دوسری طرف مختلف اخبارات جن کیلئے یہ حضرا ت کا م کرتے ہیں ان کی خا مو شی بھی معنی خیز ہے ، اخبارمیں خبر کی حصول سے خبر کی اشاعت کا مر حلہ کا فی طویل ہو تا ہے اور ڈیسک پر بیٹھے ایڈ یٹر خبر کی سچا ئی ،توازن اور دیگر لو ازما ت کو دیکھنے کے بعد اخبا ری کی پا لیسی کے تحت فریم کررہے ہیں ہو تے ہیں ۔لیکن جھو ٹ پر مبنی خبرو ں کی بلا تحقیق اشاعت ایڈ یٹروں کی اہلیت اور پا لیسی پر بھی کئی سوا لیہ نشانا ت چھوڑ رہی ہو تی ہے ۔جہاں صحا فتی مقتدر حلقے اس صورتحا ل پر خا مو ش دیکھا ئی دے رہے ہیں ،

وہا ں حکومت بھی اپنی ذمہ داری نبھا نے میں پس و پیش سے کا م لے رہی ہے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان میں دورست اطلاعات کی عوام تک فراہمی کو یقینی بنا نے کیلئے حکو متی ادارے اور صحا فتی تنظیموں کے درمیان مر بو ط اور جا مع روا بط کی اشد ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی شخص صحا فتی لبا دہ اوڑھ کے صحا فت کے مقدس پیشے کو بد نا م کرتے ہو ئے اپنے ذاتی مفادات کی خا طر علا قے کی مفا د اور ترقی واستحکام کیلئے خطر ہ ثابت نہ ہو ، اور علا قے میں تر قی ،خو شحا لی اور امن کا سفر اور ما حو ل جا ری و ساری رہے۔

صاحب مضمون قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت، شعبہ ابلاغ عامہ میں بطور سینئر لیکچرر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔