بروشسکی شاعری اور آصف علی آشرف

گل نایاب شاہ 

مشہور سائنس دان البرٹ ائینسٹاین کا قول ہے کہ “جس قوم کو ادب کا شعور نہ ہو وہ قوم تعلیم یافتہ تو ہوسکتی ہے پر مہزب نہیں ہو سکتی”۔ الحمدولللا یاسینی قوم کے بارے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ تعلیم یافتہ کے ساتھ ساتھ مہزب بھی ہو چکی ہے۔ ادب کی محفلوں میں رونق انے لگی ہے، لوگ بلا جھجک اپنے نظریات اور جزبات کو کاغز پہ بکھیرنے میں مگن ہوگئے ہیں۔ شعور کے دروازے پر دستک سنائی دینے لگی ہے، لب و رخسار کے قصے بھی ایک خوب صورت ادبی اور شاعرانہ رنگ میں منظر عام پر آنے لگے ہیں۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ انقلاب ہمیشہ قربانی سے ہی ممکن ہے اور قربانی بھی ایسی جو ناقابلِ تلافی ہو۔ یاسین میں ادبی انقلاب کا آنا تب واضع ہوگیا جب یاسین کے ادب کا درخشاں ستارہ بشارت شفیع لالا اس جہان فانی سے کوچ کر گئے. وہ گئے مگر اپنے پیچھے ایسا نقش چھوڑ گئے کہ جب تک لفظ بروشسکی زندہ ہے تب تک بشارت شفیع اس لفظ کے رگ رگ میں سمائے ہونگے۔ گو کہ بروشسکی ادب شفیع کی زندگی میں بھی اپنے عروج کی طرف رواں دواں تھا، لیکن شفیع کی رحلت کے بعد بروشسکی ادب کے ہونے کا صحیح معنوں میں اندازہ ہوگیا۔ محبوب جان یاسینی، ریاض ساقی، آصف آشرف، شاہی، عابد، فگار، علی اور بہت سے شعراء نے اپنے اور بروشسکی ادب کے ہونے کا خوب آحساس دلایا۔ اپنی غزلوں میں نایاب بروشسکی الفاظ کے ساتھ عشق و محبت سے لے کر معاشرے کے ہر پہلو کو اس خوب صورتی سے بیان کیا کہ غزل پڑھنے والا داد دئے بغیر نہ رہ سکا.

شاعری الہامی ہے اور شعر کہنا شاعر کے فطرت کا حصہ ہوتا ہے، البتہ کسی مخصوص وقت اور حالت میں شاعر اپنے اندر چھپے اس فن کو دریافت کرتا ہے۔ وہ حالت کسی دوشیزہ سے دل لگی سے لے کر کسی چھوٹی ناکامی یا کسی بھی دیگر صورت میں ممکن ہیں، جب شاعر کو شاعر ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ شعر کہنے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ شعر میں جہاں شعراء نئے خیالات کو جنم دیتے ہیں وہی  اس میں ایک ہی خیال اور نظرئے کو مختلف زاویوں اور مختلف انداز کے ساتھ بھی پیش کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں. یہ انداز بیاں ہی ہے جو ایک شاعر کا دوسرے سے سے فرق واضع کرتا ہے۔

یاسین بروشسکی کے شعرا کا اگر ہم جائزہ لے تو ہر ایک کا باالکل منفرد مقام دیکھنے کو ملتا ہے۔ خواہ وہ نایاب بروشسکی الفاظ کا استعمال ہویا ان کا انداز بیاں۔ یاسین بروشسکی میں ایک خوب صورت نام آصف علی آشرف کا ہے۔ آصف لالا جتنے مزاج کے شاہی ہے اتنے ہی افکار کی تجارت کے ہنر سے بھی خوب واقف ہے۔ ان کا گانا جب محفل میں سامانِ موسیقی کے حوالے کیا جاتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے ستار اور رباب میں اس گانے کو اپنے اپنے تاروں میں ضم کرنے کی جنگ چل رہی ہو۔ آصف لالا جہاں مختصر بحر میں کمال مہارت رکھتے ہیں وہی ایسے الفاظ کا استعمال بھی کرتے ہے جن کا کوئی عام بندہ تصور ہی نہیں کر سکتا۔۔۔چند اشعار ملاحضہ فرمایئں

ان انگی باستوما سیا نوخاتین

ایچوم اکھر اینگا برینگ جا اخوش

لفظ “سیا” کا مطلب ہے فرض کرتے ہوئے۔۔اس لفظ کا شعر میں استمعال کس قدر مہارت سے کیا ہے، کہ یہ فرض کرتے ہوئے کہ تم میرے سامنے بیٹھے ہو، مجھے خود سے مخاطب ہونا اچھا لگتا ہے۔ اسی طرح ایک اور جگہ لکھتے ہے کہ

ہیشنگے باول آن دا دی ایتی کا اس اے ہینگ چیکینگ

آصف نمہ سیامبا زرن، ہن چم خالاصہ سیا ہن

اس شعر میں لفظ “چیکینگ” جس کا مطلب ہے وہ اواز جو دروازے کے اہستہ کھلنے پہ آتی ہے۔ اب اس اواز کو لفظ بنا کر شعرمیں بیان کرنا آصف لالا کے انفرادییت کی ضمانت ہے۔ ایک اور جگہ لکھتے ہے

جہ گو گوچے باوار نیتے گو ہینگ ایچا ڈک ڈک

اسقا نیت نایچ دیچوم با دا بو ایچوما تھوم

اس شعر میں بھی “ڈک ڈک'” یعنی دستک کی اواز۔۔لکھتے ہے کہ میں آپ کے بھروسے آپ کے دروازے پہ دستک دیتا ہوں اور حالت یہ ہے کہ مجھے دیکھتے ہی در بند پلٹ جاتے ہو، اور کیا کرو گے۔

آصف لالا جہاں رومانی کلام ایک خوب صورت آحساح کے ساتھ کہہ دیتے ہے وہی ان کی شاعری میں مزاہمت کا رنگ بھی واضع دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ روایات کے پھندوں میں گرفتار ہونے کے پابند نہیں ہے، بلکہ زندگی اپنے اصولوں پر گزارنے کو سراہتے ہے۔۔۔لکھتے ہے کہ

چھق ایت مہر ے فو، جا کا گو گوکاٹ

دستو کیچن جھو آکل اے چھمر

کہتے ہے کہ محبت کی آگ کو اور ہوا دو کہ میں بھی اس فعل میں آپ کے ساتھ ہوں، دیر کس بات کی ،آؤ کہ روایات کے اس لوہے کو پگلانا ہے۔

آصف لالا جہاں روایات کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی بات کرتے ہے وہی انھیں پیر و شیخ کی صحبت پہ بھی یقین نہیں ہے

لمن چے پیر ے کھی رو رو اکومن

نے کا ارکن نے کا ارکن مایمی وہجم جمل

کہتے ہے کہ پیر کے دامن سے خود کو مت ناندھے رکھو، عین ممکن ہے کل کو وہ بھی بھٹک جائے۔

عشق و وفا کی جب بھی بات کی اپنے مخصوص انداز میں ہی ہر بات کہہ ڈالی۔ یاد ماضی کا تزکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہے کہ

اکاٹ گوچھرم گنچی جا التولوم

نے کا بو جا نایو گالیا ہیکن

لکھتے ہے کہ میری طرح کیا وہ بھی کھبی اس راستے سے گزرا ہوگا کہ جہاں سے ہماری گزر ہوا کرتی تھی۔

بظاہر محبوب کی یاد سے غافل رہتے ہوئے بھی دل میں اسی کے لیے گھر سجائے بیٹھا ہے جس کا زکر اس طرح سے کرتے ہے

نییچ ہن سیسن دونیش گوگا گالی

گو گوچم تل عالچا اچھو جا گمان

آج کسی کو دیکھا ہے اور تمہارا خیال آیا ہے، مجھے ایسا لگتا یے کہ میں تمہیں ابھی تک بھول نہیں پایا ہوں۔

آصف آشرف کو بروشسکی میں منفرد مقام دینے میں ان کے مشہور زمانہ “تے ہن” کا بھی بڑا کردار ہے۔ لفظ تے ہن کو اردو میں ہم “وہ” کہہ سکتے ہے۔ اب تک آصف کے دو تے ہن منظر عام پر آچکے ہیں اور کسی حد تک بروشسکی آدب میں مقام بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ دونوں کلام تبقاتی تفریق کی بہترین نماییندگی کرتے ہیں. تے ہن میں لفظ تے ہن کے جگے میں کوئی بھی لفظ اپنے سمجھ کے مطابق استمعال میں لایا جا سکتا ہے۔

 پہلے تے ہن میں سے چند اشعار دیکھیے کہ

ہوروشم تھغ یٹے مایون اے دورو

نی یو دو ول چھیریمی فینے تے ہن

کہ بلبل کا کام ہے کہ وہ کسی ہرے سر سبز درخت پر اپنا گھر بناتا ہے اور مکھی تے ہن کے تلاش میں دربدر ہوتی ہے۔ یہاں تے ہن گندگی کے طور پر استمعال کیا جا سکتا ہے۔

نی یچ ٹمبک نے رینچی آیی دو دولم

مخت عییا جی او چھیاس چھینے تےہن

کہ شکاری کے ہاتھ میں غولیل دیکھنے کے باوجود نہیں اڑتا ہے اور مفت میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بھیٹتا ہے تو اس پرندے پہ تے ہن ہے۔ یہاں تے ہن لعنت کے طور پر استمعال کیا جا سکتا ہے۔

دوسرا “تے ہن” بہت ہی سبق آموز ہونے کے ساتھ ساتھ پسے ہوئے تبقات کے لیے پیغامات سے بھی بھر پور ہے۔ شعر دیکھیے کہ

گر کیسے جی سیگا نیام، بش بہا غا ول منی
بشے شیلن زن ایچن، زو کہ ہک تے ہن ایچن

کہ چوہے کو اس کی جان پیاری ہے اور وہ بل میں ڑرے سہمے چھپا ہوا ہے، جب کہ بلی اس بل کے منہ پہ انتظار کیے بیٹھا ہے، بلی کے دم کو پکڑ کر کھینچتے ہے، آؤ کہ پھر تے ہن کرتے ہے۔ یہاں تے ہن ظالم کے خلاف لڑنا ہو سکتا ہے۔ اور اسی طرح اس کلام کے دیگر شعر بھی اس موضوع کے ارد گرد گومتے ہیں۔

آصف علی آشرف کی شاعری کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے، لیکن یہ کام مجھ جیسے کم فہم کی بس کی بات نہیں ہے۔ البتہ یہ کی بروشسکی شاعری کو اور پختہ کرنے کے لیے تنقید بہت ضروری ہے۔ اور یہ کام ہم جیسے ہی ادب سے شغف رکھنے والوں کے سپرد ہے۔ اگر کسی شعر کی وضاحت میں کوتاہی ہویی ہے تو آصف علی آشرف لالا سے معزرت۔ دیگر شعرا کے حوالے سے بھی جلد تحریر قاریین کی خدمت میں پیش ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments