استور: محکمہ پولیس میں مشتہر آسامیوں میں استور کونظرانداز کرنا صوبائی حکومت کا سوتیلا سلوک ہے ۔ امیر جماعت اسلامی مونا عبدالسمیع

استور: محکمہ پولیس میں مشتہر آسامیوں میں استور کونظرانداز کرنا صوبائی حکومت کا سوتیلا سلوک ہے ۔ امیر جماعت اسلامی مونا عبدالسمیع

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

استور(سبخان سہیل) حکومت گلگت بلتستان ضلع استور کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہی ہے۔ صوبائی حکومت یہ ڈرامہ بازی بند کرے، محکمہ پولیس میں استور کو نظر انداز کرنا، چیف کورٹ کی سیٹوں میں صرف گلگت اور بلتستان کے علاوہ دیگر اضلاع کو نظر انداز کرنا، صوبائی حکومت کی سوتیلا پن ہے۔ امیر جماعت اسلامی مونا عبدالسمیع ۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت ضلع استور کو ہر سطح پر یکسر نظر انداز کررہی ہے۔ محکمہ پولیس میں حالیہ دونوں مشتہر ہونے والی آسامیوں میں استور کی ایک بھی خالی آسامی مشتہر نہ کرنا پوری استوری قوم کے ساتھ مذاق ہے۔ استور میں پہلے سے ہی پولیس نفری کی کمی ہے پورے ضلع میں صرف 195پولیس کی نفری ہے جو کہ انتہائی نا کافی ہے۔ استور میں اگر ہم امن اور محبت سے رہتے ہیں اور جرم کی سطح کم ہے تو اس کامطلب یہ نہیں کہ یہاں کی غریب عوام سے ان کا حق بھی چھینا جائے۔ ہم پر امن ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ استور میں پولیس فورس کی ضرورت نہیں۔ اگر محکمہ پولیس میں مشتہر پوسٹوں میں استور کا حصہ نہیں ملا تو پھر عوام اپنا حق لینا جانتی ہے۔ ہماری شرافت کا کوئی غلط فائدہ نہیں اُٹھائے۔ ہم جہاں امن کے ساتھ بھائی بن کے رے سکتے ہیں وہی اپنا حق بھی لینا جانتے ہیں۔ چیف کورٹ گلگت بلتستان کی خالی آسامیوں کے لیے بھی صرف گلگت اور بلتسان کے لیے آسامیاں مختص کی گئی ہیں۔ کیا چیف کورٹ بلتستان اور گلگت کا ہے باقی اضلاع کا نہیں ہے ۔ چیف کورٹ پوری گلگت بلتستان کا ہے لہذا تمام اضلاع کے لیے برابر کی سطح پر اسامیوں میں بھرتی کیا جائے ۔ استور انتہائی پسماندہ ضلع ہے اس ضلع کو ہمیشہ سے نظر انداز کیا گیا ہے۔ استور کے دونوں منتخب ممبران اپنے عوام کے حقوق کی بات کرنے کے بجائے اعلی حکام کی خوشنودی حاصل کرنے پر لگے ہیں ۔ عوام کے ووٹ لینے کے بعد عوام سے جھوٹ اور عوام کے حقوق پر ڈھاکہ ڈالنے کے بجائے عوام کی ترجمانی کرنی ہوگی ۔ استور میں اس وقت گندم کا بحران ہے شدید برف باری میں لوگ بھوک سے مررہے ہیں ۔ لوگوں کے گھروں میں آٹے کی قلت سے فاقوں کی نوبت آئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت خواب خرگوش کی نیند سو رہے ہیں ۔استور میں جہاں پر سال کے چھہ ماہ کا گندم کا کوٹہ ایک ساتھ ڈیمپ کیا جاتاتھا اس سال ایک ماہ کا بھی گندم نہیں پہنچانے سے علاقے میں قحط کاسما ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔