پشاور ہائی کورٹ کی طرف سے فرحان کی غلط آپریشن سے موت پر ڈاکٹر صدیق چترالی و دیگرکے خلاف نوٹس جاری

پشاور (نمائند ہ ) پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس مسرت بلالی اورجسٹس غضنفر علی خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے چترال کے معروف قانون دان اور پشاور ہائی کورٹ کے وکیل محب اللہ تریچوی ایڈووکیٹ کی وساطت سے سینئر صحافی گل حماد فاروقی کی آئین کی آرٹیکل 199کے تحت رٹ پٹیشن کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل محب اللہ تریچوی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کا تیرہ(13)سالہ نوجوان بیٹا محمد فرحان ڈاکٹر صدیق چترالی وغیرہ کے غلط آپریشن کی وجہ سے وفات پا گیا ہے۔مریض کے اپینڈیکس پھٹنے پر ہسپتال لایا گیا جس کا بر وقت آپریشن نہیں کیا گیا اور بعد میں غلط اور نا کام آپریشن ہوا۔ اس وجہ سے مریض کی موت واقع ہوئی۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا یہ اقدام جرم کے زمرے میں آتا ہے اور اقدام جرم ہے اور اقدام قتل ہے اور تعزیرات پاکستا ن اور دوسرے مر وجہ قوانین کے تحت قابل سزا جرم ہے ۔لہذا ڈاکٹر صدیق چترالی وغیرہ کے خلاف FIRدرج کرکے قانونی کاروائی کی جائے تا کہ دوسرے مریضوں کے ساتھ ایسا سلوک نہ ہو۔عدا لت نے دلائل مکمل ہونے کے پر ڈاکٹر صدیق چترالی وغیرہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کر لیا۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت کی وجہ سے چترال کے معروف صحافی حماد خان فاروقی کا جوان سال بیٹا موت کی آغوش میں چلا گیا تھا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments