تعلیمچترال

آغا خان اسکول مدک لشٹ میں مڈل اسکول پروگرام کے سلسلے میں تقسیم اسناد کی تقریب

تحریر: فدا حسین
بچوں کے چہروں میں بشاشت، ہونٹوں پہ مسکراہٹ، آنکھوں میں حیرانگی اور تجسس نمایاں تھی۔ اساتذہ اور والدین بھی انتہائی پر مسرت نظر آرہے تھے ۔ کیونکہ آغا خان سکول مدک لشٹ میں کلاس ششم ،ہفتم اور ہشتم کے طلبہ اپنے والدین کے ساتھ آغا خان یونیورسٹی ایگزامینشن بورڈ کے زیرِ انتظام مڈل اسکول پروگرام کے تحت اپنے پراجیکٹس کے اختتام پر تقسیم اسناد کی پروقار تقریب میں شریک تھے ۔
اس تقریب کی صدارت سابق صدر ایف ای او اور سابق ماسٹر ٹرینیر نور اعظم صاحب تھے اور مہمان ِ خصوصی قا ضی فدا محمد صاحب تھے۔ کلاس نہم کی طالبہ روشی الرّ حمٰن کی تلاوت ِ کلام ِ پاک سے تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس کے بعد آغا خان یونیورسٹی ایگزامینشن بورڈ) سپورٹ یونٹ (چترال کے انگریزی کے کریکولم سپورٹ اسپیشلسٹ محمد نبی نے مہمانوں کو خوش آمدید کرنے کے ساتھ ساتھ مڈل سکول پروگرام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مڈل اسکول پروگرام آغا خان یونیورسٹی ایگزامینشن بورڈ کی جانب سے کلاس ششم ، ہفتم اور ہشتم کے طلبہ کے لیے پراجیکٹ پر مبنی ایسا تجرباتی پروگرام ہے ۔ جو حقیقی دنیا کے حالات میں علم کے اطلاق کے ذریعے بین الضابطہ تعلیم پر زور دیتا ہے۔ یہ پروگرام ان طلبہ کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتا ہے جو سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری لیول میں آغا خان یو نیورسٹی ایگزامینشن بورڈ کے ساتھ منسلک ہوکے اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ مڈل اسکول پروگرام طلبہ کے درمیان اکیسویں صدی کی مہارتیں پیدا کرنے کے حوالے سے توجہ مذکور کرتا ہے جس میں تخلیقی صلاحیت اور اختراع، تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے، باہمی مہارت اور ٹیم ورک جیسی صلاحیتیں شامل ہیں۔ جدید دنیا میں یہ مہارتیں پڑھائی کے دوران اور بعد کی زندگی میں کامیابی کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے ۔
بیالو جی کے کریکولم سپورٹ اسپیشلسٹ ظفر علی شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا گلوبل ویلج بن گیا ہے ۔ دنیا جہاں کی کتابیں الماری کے بجائے اب موبائل کی ایک کلک پہ دستیاب ہے ، ساتھ ہی پروفیشنل ڈیویلپمنٹ کے لیے کسی ٹریننگ سنٹر کی ضرورت ختم ہوتی جارہی ہے ، ساری چیزیں انٹرنیٹ میں آپ کو آسانی سے دستیاب ہیں ۔ اس لیے صرف کچھ کتابوں کو یاد کرتے امتحان دے کے ہم عملی دنیا کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ نہیں کرسکتے ۔ مڈل اسکول پروگرام کا سیلبس بھی طلبہ کو اس عملی تعلیم کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔ اس میں موجود پروجیکٹس سے طلبہ عملی طور پر خود سے کچھ کرنے اور اس تعلیم کو اپنی عملی زندگی میں استعمال کرنے کے قابل بن جاتے ہیں ۔
اردو کے کریکولم سپورٹ اسپیشلسٹ عطاحسین اطہر نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیااور بچوں کی تعلیمی میدان میں ترقی کے لیے اساتذہ اور والدین کے درمیان ربط کو انتہائی ضروری قرار دیا ۔ انہوں نے قدیم اور جدید دور میں تعلیم کا موازنہ کرتے ہوئے معیاری تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ انہوں نے آغا خان ایجوکیشن سروس کی میعار ی تعلیم کے حوالے سے خدمات کا ذکر کرتے ہوئے آغا خان یونیورسٹی ایگزامینشن بورڈ کے ساتھ منسلک اسکولوں کی کاکردگی کے حوالے سے بھی بات کی ۔ انہوں نے آغا خان یونیورسٹی امتحانی بورڈ کے قیام کے مقاصد کی بات کرتے ہوئے کہا کہ آغا خان یونیورسٹی ایگزامینشن بورڈ کا بنیادی مقصد پاکستان میں معیاری طریقہ ٔ امتحانات فراہم کرکے مجموعی طور پر تعلیم کے میعار میں بہتری لے کے آنا ہے ۔ اس بورڈ سے منسلک اسکولوں کے طلبہ کی کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ انتہائی کم عرصے میں اس بورڈ سے منسلک اسکولوں کے طلباؤ طالبات پاکستان اور پاکستان سے باہر تعلیمی میدان میں کار ہائے نمایاں سرانجام دے رہے ہیں ۔
مہمان ِ خصوصی قاضی معراج الدین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوے بچو ں کے کام کو سراہا اور والدین سے گزارش کی کہ با مقصد تعلیم حاصل کرنے میں اپنے بچوں کے ساتھ گھر پہ بھی تعاون کریں ۔
صدر محفل نور اعظم صاحب نے مدک لشٹ اسکول کی تاریخ کو یاد کیا اور اس وقت کے اسکول کے مقاصد ا ور آج کے مقاصد میں فرق کو واضح کیا۔انہوں نے کہا جب ہم نے آغا خان ایجوکیشن سروس چترال میں کام کا آغاز کیا تو بچوں خاص کر بچیوں کو اسکول کی طرف لانے کے لیے والدین کو منت سماجت کرنا پڑتی تھی ۔ لیکن آج آغا خان اسکولوں میں داخلے کے لیے ٹیسٹ اور انٹرویو دے کے میریٹ پہ داخلہ لینا پڑتا ہے ۔ انتہائی کم عرصے میں اسکولوں کا اس مقام پہ آنا یقیناً ہمارے لیے فخر کا مقام ہے ۔ انہوں نے اساتذہ ٔ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے ۔ ان طلبہ کی ناکامی یقیناً آپ کی ناکامی تصور ہوگی ۔ اس لیے سخت محنت کیجیے ۔ جدید دور کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے طلبہ کو انگلش زبان میں ماہر بنائیں۔
اس تقریب کی سب سے خاص بات یہ تھی ۔ پراجیکٹس مکمل کرنے والے طلبہ نے اپنے والدین کے ہاتھ سے اسناد حاصل کی ۔طلبہ اپنی اسناد ہاتھ میں لیے ہوے خوشی سے انہیں دیکھتے ہوئے اور ہنستے ہوے ایک دوسرے کو دکھاتے ہوے اس محفل سے ایک ایک ہو ئے ۔
تقریب کی نظامت صاحب زار اور فائزہ فیکلٹی ممبر آغا خان اسکول مدکلشٹ نے کیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: