سکردو: وزیر اعلیٰ اور وزراء اسلفیاں فیس بک پر اپ لوڈ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے، صوبے کا پورا نظام ڈپٹی کمشنرز اور اسٹنٹ کمشنر ز چلا رہے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ

سکردو(پریس ریلز ) سابق وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ، وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن نے گلگت کے بجائے اسلام آبادکو گلگت بلتستان کا صوبائی ہیڈ کواٹر بنا لیا ہے ، تمام وزراء اور بیوروکرٹیس اسلام آباد میں مزے کر رہے ہیں اور عوام لوڈشیڈنگ کا غذاب سہہ رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ حفیظ الرحمن وہ واحد وزیر اعلیٰ نے جنہوں نے شجر کاری مہم کا افتتاح اسلام میں کیا جبکہ باقی تمام صوبوں کے وزراء اعلیٰ نے شجر کاری مہم کا افتتاح اپنے اپنے صوبوں میں رہ کر کیا ، اسلام آباد میں بیٹھ کر نظام حکومت چلایا نہیں جا سکتا ، صوبے کے عوام برف باری اور برفانی تودوں کو زرد میں آکر مشکلات میں شکار ہیں ، ایک ماہ سے سکردو سمیت اکثر علاقوں میں بجلی کا نام و نشان تک نہیں ، صوبائی وزراء اور وزیر اعلیٰ نے اسلام آباد کو اپنا مستقل ٹھکانا بنا لیا ،عوام مر رہی ہے عوامی مشکلات سے کسی کو کوئی سروکار نہیں ، حفیظ الرحمن اسلام کی پرفضا ہوا میں مزے لیے رہے ہیں ، عوامی نمائندے عوام سے چھپتے پھر رہے ہیں ، صوبے کا پورا نظام ڈپٹی کمشنرز اور اسٹنٹ کمشنر ز چلا رہے ہیں۔ حکومت کہیں نظر نہیں آتی ، اسلام آباد کی فضاوں میں مزے کرنے والے عوام کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہے۔ برف باری سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ حکومت ان کی کوئی مدد نہیں کر رہی۔ متاثرین آج بھی امداد کے منتظر ہیں۔ بجلی کا نظام درہم برہم ہونے کے باعث معاملات زندگی درہم برہم ہیں۔ جن لوگوں سے بجلی کا نظام ٹھیک نہیں ہو پا رہا وہ صوبے کا نظام کیا خاک چلائیں گے۔ وزراء اور وزیر اعلیٰ اپنی سلفیاں فیس بک پر اپ لوڈ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ والے شغرتھنگ پاور پروجیکٹ کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں ، عوام کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ پروجیکٹ ن لیگ والوں نے ہی بند کر ایا تھا ان کی یہ پرانی روش رہی ہے کہ پہلے پروجیکٹ بند کراتے ہیں اور پھر بعد میں کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ضیا الحق کی پیداوار ن لیگ کے قول و فعل میں تضاد ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments