تحصیل پالس کے تیرہ یونین کونسلوں سمیت کسی بھی علاقے کو اپر کوہستان میں شامل کرنے کی شدید مخالفت

تحصیل پالس کے تیرہ یونین کونسلوں سمیت کسی بھی علاقے کو اپر کوہستان میں شامل کرنے کی شدید مخالفت

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کوہستان (نامہ نگار) کوہستان، اپر کوہستان میں اقوام شناکی ،جالکوٹ ، کندیا اور سیو کے مشران کا گرینڈ جرگہ ، لوئر کوہستان کی تحصیل پالس کے تیرہ یونین کونسلوں سمیت کسی بھی علاقے کو اپر کوہستان میں شامل کرنے کی شدید مخالفت، کوہستان اپر کے حقوق کے حصول اور زیادتیوں کے ازالے کے لئے 80رکنی کمیٹی تشکیل ، کمیٹی عنقریب صوبے کے مرکزی مقام پشاور میں ڈیرے جمائے گی ۔اعلامیہ

تفصیلات کے مطابق داسو میں ممکنہ طوپر لوئر کوہستان کے کسی بھی حصے کو اپر کوہستان میں شامل کرنے کے خدشے کے پیش نظر گرینڈ جرگے کا انعقاد ہوا،جہاں علاقہ شناکی ، جالکوٹ ، سیو اور کندیا سے سینکڑوں کی تعداد میں معززین ،مشران سمیت سابق ممبران اسمبلی،یونین ناظمین ، علماء اور سول سوسائیٹی کے نمائندوں نے شرکت کی ۔جرگے سے خطاب کرتے ہوئے حاجی ملک سخی ،حاجی منور شاہ ، حاجی شیر غازی و دیگر نے کہا کہ کسی بھی صورت تحصیل پالس لوئر کوہستان کے تیرہ یونین کونسلوں کو کوہستان اپر میں شامل ہونے نہیں دیں گے ۔ دریاء کے آر پار ک اور لسانی تعصب پھیلانے والے اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہونگے ۔ شناکی ،جالکوٹ ،کندیا اور سیو کے باسیوں کے غمی خوشی ، جنازہ ، مساجد، بازار اور لین دین سمیت سماجی رسم و رواج مشترک ہیں انہیں جدا کرنے کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ صوبائی حکومت کا ضلعی نوٹیفیکشن جسے ملک کی عدالت عالیہ نے بحال کیا ہے جس کے مطابق تحصیل پالس اور تحصیل پٹن لوئر ضلعے کا حصہ ہیں اور اُن کو اپر کوہستان میں شامل کرنے سے ایک جانب عوامی حقوق متاثر ہونگے تو دوسری جانب توہین عدالت کے زمرے میں بھی آئیں گے۔ گرینڈ جرگے کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے دھرنا دیا جہاں ڈپٹی کمشنر کوہستان محمد آصف نے ان کے جائیز مطالبات مانتے ہوئے مطالبات حکام بالا کے نوٹس میں لانے کا یقین دلایا جس پر لوگ منتشر ہوئے ۔اپر کوہستان کے باسیوں کی جانب سے80 رکنی ایکشن کمیٹی ترتیب دی گئی جس نے شروع ہی سے ایک درخواست ڈی سی آفس میں گزاری جس میں موقف اخیتا رکیا گیاہے کہ لوئر کوہستان کی بحالی پر من و عن عمل کیا جائے اور لوئر کوہستان کے کسی بھی حصے کو اپر کوہستان میں شامل نہ کیا جائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔