ضلع گانچھے کے علاقے تھلے میں آئی بیکس کا غیر قانونی شکار، عوامی شکایت پر انکوائری کا آغاز

ضلع گانچھے کے علاقے تھلے میں آئی بیکس کا غیر قانونی شکار، عوامی شکایت پر انکوائری کا آغاز

21 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گانچھے ( اے آر رینگ چن ) ضلع گانچھے کے علاقے تھلے میں غیر قانونی طور پر ہمالین آئی بیکس کا شکار ، تھلے کے علاقہ تاسو کے عوام کی شکایت پر برددوس بلغار کے ثناء اللہ نامی شخص کے خلاف انکواری جاری ہیں ۔ ایس ایچ او ڈغونی کے مطابق پولیس اہلکاروں کو مخبر نے اطلاع دیا کہ تھلے میں غیر قانونی شکار کیا گیا ہے جس پر ثنا ء اللہ نامی شخص کوپوچھ گھچ کے لئے تھانہ ڈغونی بلایا گیا اور پولیس اہکار وں نے تاسو تھلے جا کر بھی عوام سے معلومات جمع کئے اور دفعہ 157 کے تحت کاروائی کرنے لگا تھا کہ وائلٹ لائف کے اہلکاروں کو بھی خبر ملی تو تھانہ پہنچ کر ثناء اللہ کو اپنے حوالہ کرنے کا کہا اورساتھ لے گئے اس حوالے سے جب وائلٹ لائف بلتستان ریجن کے ذمہ دار آفیسر یعقوب علی خان سے رابط کیا تو ان کو واقعے کے بارے میں معلومات نہیں تھیں۔ انھوں نے کہا کہ میں گلگت سے سکردو جا رہا ہوں اور مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد صبح پریس ریس جاری کرتا ہوں ۔

یعقوب علی خان نے مزید کہا کہ ضلع گانچھے میں صرف ہوشے اور کاندئے میں ٹافی ہنٹنگ کی اجازت ہے اس کے علاوہ ضلع بھر میں شکار کی اجازت نہیں ہے ۔

ذرائع کے مطابق اب تک محکمہ وائلٹ لائف کے اہلکاروں کوجائے وقوعہ پر آئی بیکس کے خون کی نشانات ملے ہیں اسکے علاوہ کوئی ثبوت نہیں ملا ہے اور ثناء اللہ نامی شخص مکمل انکار کر رہے ہیں کہ اس نے کوئی آئی بیکس کی شکار نہیں کیا ہیں تاہم تاسو کے چند لوگوں نے ثناء اللہ کو آئی بیکس کا شکار کرتے دیکھا ہے محکمہ تحفظ جنگلی حیات ضلع گانچھے میں مکمل طور پر ناکام ہیں اور ضلع میں درجنوں کی تعداد میں غیر قانونی شکار ہو رہے ہیں مگر محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے اہلکاروں کونظر ہی نہیں آتا اور نظر کیسے آئے جو گھروں میں آرام سے بیٹھ کر تنخواہیں لینے کے عادی ہو وہ شدید برف باری میں جنگلی حیات کا تحفظ کرنے پہاڑوں پہ کیسے چڑ ھ سکتے ہیں ضلع گانچھے میں سیکڑوں کی تعداد میں مارخور ، ہمالین آئی بیکس ، برفانی چیتا ، چکور ،و دیگر جنگلی حیات موجود ہیں مگر وائلٹ لائف کے عملے ان کی تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہونے کی وجہ سے ان کی تعداد میں روز کمی واقع ہو رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان جنگلی حیات کی تحفظ کو یقینی بنائیں تاکہ ان ناتاب نسل کی جانداروں کے نسل کشی کا سلسلہ بند ہو ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔