وسائل کا منصفانہ استعمال پائیدار ترقی کے لئے ناگزیر ہے، مقررین

وسائل کا منصفانہ استعمال پائیدار ترقی کے لئے ناگزیر ہے، مقررین

36 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شگر(عابد شگری)کسی بھی معاشرے میں پائیدار ترقی کیلئے لازمی ہے کہ ہم اتنے ہی وسائل کا ستعما ل کریں جو کہ ہمارا حق ہے ہمیں اپنے مستقبل کے نسل کی وسائل کو استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں۔کرپشن ،اقراء پروری،ناانصافی،غیر معیاری نظام تعلیم ہمارے معاشرے کی ترقی میں سب سے بڑا رکاوٹ ہے۔ اگر ہمیں اپنے معاشرے میں پایہ دار ترقی لانا ہے تو ہمیں اپنے وسائل کو برؤکار لاکر خود کے پاؤں پر کھڑے ہونے کی ضرورت ہیں۔زراعت کو ترقی دیکر ہم یہاں کے معاشرے کو بھرپور ترقی دے سکتے ہے۔

ان خیالات کا اظہار مرکنجہ ایل ایس او اور اکے آر ایس پی کے اشتراک سے شگرمیں پایہ دار ترقی میں کمیونٹی اور سول سو سائٹی تنظیموں کی گراس روٹ اور مستحکم ترقی گول میں شمولیت کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے حاجی وزیر فداعلی،سید حسن شاہ،عاشق حسین اور دیگر نے کیا۔

مرکنجہ ایل ایس او اور اکے آر ایس پی کے اشتراک سے شگرمیں پایہ دار ترقی میں کمیونٹی اور سول سو سائٹی تنظیموں کی گراس روٹ اور مستحکم ترقی گول میں شمولیت کے موضوع پرسپیس ہوٹل شگر میں ورکشاپ منعقد ہوئی جس میں سرکاری اداروں کے سربراہوں اور ایل ایس اوز کے ممبران نے شرکت کی۔ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے یہاں کے حالات انتہائی دشوار اور خطرناک ہے۔ہمار ملک کے نصف سے زیادہ لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں۔صرف 35فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر ہے۔جبکہ تعلیمی اداروں کی صورتحال بھی انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کررہا ہے۔

مقررین نے کہ پایہ دار ترقی کیلئے لازمی ہے کہ معاشرے کی خواتین کو مردوں کی شانہ بشانہ کام کرنے اور زندگی کے تمام شعبوں میں موقع فراہم کیا جائے۔اور خواتین کو ان کی جائز حقوق سے محروم نہ رکھا جائے۔مقررین اور شرکاء کا کہنا تھا کہ خصوصا گلگت بلتستان میں سرکاری ادارون میں کرپشن کی وجہ سے ہمارے ادارے مکمل طور مفلوج ہوکر رہ گیاہے۔ محکمہ تعمیرات عامہ میں انجینئرز اور ٹھیکیدارون کی ملی بھگت سے کرپشن کی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہے۔ناقص میٹریل اور غیر معیاری کام کی وجہ سے قومی خزانے کو سالانہ اربوں کا نقصان برداشت کرنا پڑرہاہے۔اگر تعمیرتی کاموں میں مقامی کمیونٹی کی نگرانی یقینی بنایا جائے تو کرپشن کی حوصلہ شکنی ہوگی اور کاموں کی معیار بڑھ جائے گا۔تعلیمی ادارون میں سیاسی مداخلت اور نااہل اساتذہ کی تقرری کی وجہ سے نظام تعلیم کا بیڑاغرق ہے۔ جسے درست کئے بغیر معیاری تعلیم ممکن نہیں۔ورکشاپ میں گرپ بناکر شرکاء سے مختلف حوالے سے رائے بھی لیا گیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔