شہید ذوالفیقار علی بھٹو ۔۔۔۔ایک تاریخ ساز شخصیت

شہید ذوالفیقار علی بھٹو ۔۔۔۔ایک تاریخ ساز شخصیت

20 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

‎وزیر برہان علی

شہید ذوالفقار علی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت تھے۔ جنہوں نے اپنی زندگی آمریت کے خلاف جدوجہد جمہوریت کی بحالی عوام کی خدمت ان کی فلاح و بہبود اور پاکستان کو دنیا کے نقشہ پر ایک با وقار اور اہم ترین مقام دلانے کے لئے صرف کی چیئرمین شہید #ذوالفقار_علی_بھٹو 5 جنوری 1928 کو دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک موہنجو ڈارو کی سر زمین لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ پاکستانی سیاست کی ایک روایت کے مطابق انہوں نے پاکستان میں پہلی مرتبہ نچلے طبقات کے لئے سیاست کے دروازے کھول دیئے انہوں نے عوام میں بنیادی حقوق کا شعور اور حقیقی مساوات و آزادی کی محبت پیدا کی اپنی جدوجہد کے نتیجے میں وہ پاکستانی سیاست کی ماہیت و کیفیت میں انقلابی تبدیلیاں رونما کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے سیاست کے پرانے جاگیرداری کلچر کو عوامی بنادیاٴ یعنی عوامی سیاست عوام کے ذریعے عوام کے لئے یہی حقیقی جمہوریت کی بنیاد ہے۔ ان سے پہلے پاکستان میں ایسے کسی تصور کا وجود نہیں تھا۔ ‎شہید بھٹو نے نظریاتی اور عملی اعتبار سے عوامی سیاست کی بنیاد رکھی۔ شہید بھٹو نے تمام مکتبہ فکر تمام طبقات اور تمام انسانوں کو عزت و احترام دیاٴ خصوصاً انہوں نےطالب علم رہنماوں وکلا برادری مختلف بار کونسلوں کے عہدیداروں مزدوروں کسانوں اقلیتوں کو وہ عزت و احترام دیا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے قافلے میں جوق در جوق شامل ہونے لگے۔ شہید بھٹو کی عوامی سیاست کے سامنے اسٹیٹس کو کی قوتیں بے بس ہوگئیں تھیں شہید بھٹو نے پارٹی پروگرامٴ اپنے نظریات و خیالات کو بڑی سادگی وضاحت اور عوامی انداز میں پیش کیا۔ جس کے نتیجے میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے انہیں بے پناہ تائید و حمایت حاصل ہوئی۔ شہید بھٹو نے خاص طور پر نوجوان نسل کو قیادت کے لئے ابھارا انہیں پارٹی اور بعد میں حکومت میں اہم عہدوں پر فائز کیا۔ نوجوان لیڈروں کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایک اہم سیشن میں شرکت کے لئے بھیجا۔ شہید بھٹو نے سیاست کے پرانے روایتی فرسودہ کلچر کو دفن کرکے ایک نئے سیاسی کلچر کی بنیاد رکهی جس میں ووٹ کی طاقت غریب طبقات کے ہاتھ میں تهی یہ اصول آج پاکستان کی سیاست میں تسلیم کئے جاچکے ہیں۔ شہید بھٹو نے جس عوامی سیاسی کلچر کو معاشرے میں روشناس کروایا۔ اس میں ایک جاگیردار اور امیر کبیر سیاسی امیدوار کو بھی ووٹ کے لئے غریب کے گھر جانا پڑتا ہے بھٹو ازم نے ایک باقاعدہ مسلک کے طور پر فروغ پایا۔ جس کا اہم سبب جمہوریت کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی کی جدوجہد اور بھٹو خاندان کی قربانیاں ہیں۔ بھٹو اور پیپلز پارٹی پاکستان میں جمہوریتٴ وفاق انسانی آزادیٴ عوام کے عزت و وقار کی بحالی کے لئے جدوجہد کی سب سے بڑی علامت بن چکی ہے۔ شہید بھٹو نے پاکستانی روایتی سیاست کو ڈرائینگ روم اور اخباری بیانات سے نکال کر عوام کے ساتھ سڑکوں اور گلیوں میں لے آئے۔ وہ کہتے تھےٴ ایک بھٹو میں ہوں اور دوسرا بھٹو آپ عوامٞ ہیں۔ بھٹو اور عوام میں کوئی فرق نہیں ۔ ‎پاکستان کے سیاسی افق پر شہید ذوالفقار علی بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی بادل کی گرج اور بجلی کی کڑک بن کر ظاہر ہوئے تهے اس کی قیادت کے اعلیٰ کردار اور پارٹی کے عوامی منشور نے ہر طبقہ فکر کو متاثر کیا۔ پی پی پی میں سول سوسائٹی کا ایک بڑا قافلہ جوق در جوق شامل ہوا طلبہ و طالبات اور نوجوان طبقہ اس کا ہر اول دستہ بناٴ وکلا برادری ٹریڈ یونین مزدوروں کسانوں شاعروں دانشوروں ادیبوں اور آرٹسٹوں نے پارٹی کو مضبوطی بخش۔ اس عوامی قوت کے آگے تمام فوجی آمر اور ان کی سرکاری جماعتیں خس و خاشاک کی طرح بہہ گئیںٴ فرسودہ نظام کی گرہیں کھل گئیںٴ فوجی حکومتٴ وڈیرہ ازمٴ صنعتی اجارہ داریاں اور سول ملٹری بیورو کریسی کاظالم اندھیرا ختم اور حقیقی جمہوریت کا سورج طلوع ہونے لگا۔ ‎شہید بھٹو نے اپنی شاندار خداداد صلاحیتوں کی بدولت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی اقوام کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا آغاز کرنے سے قبل انہوں نے عوام کے ساتھ اپنے رشتے کو مضبوط کیا جس کے لئے وہ سب سے پہلے اقتدار کی مسند کو ٹھوکر مار کر عوام کی صفوں میں آگئے تھے اور ایوب کی فوجی آمریت کے خلاف ایک عوامی تحریک کا آغاز کرکے ایک تاریخی جدوجہد کرتے ہوئے اس ملک کو پارلیمانی جمہوریت اور متفقہ آئین کا تحفہ دیاٴ اور عوام کو جمہوریت کے تصور سے روشناس کروایا۔ ‎انہوں نے ملک سے مارشل لائ اٹھایاٴ تاریخ ساز شملہ معاہدہ کیاٴ پہلے ایٹمی ریکٹر کا افتتاح کیاٴ پاکستان کے مقبوضہ علاقے بھارت سے واگزار کروائےٴ بھارت سے جنگی قیدیوں کی واپسی کا معاہدہ کیاٴ شہید بھٹو کی بدولت پاکستان سلامتی کونسل کا رکن بناٴ قائد عوام نے بین الاقوامی انرجی کمیشن سے فرانس سے پلانٹ حاصل کرنے کی اجازت لیٴ نیو کلیئر ری پراسیسنگ پلانٹ حاصل کرنے کے معاہدے پر دستخط کئے۔ شہید بھٹو کو تیسری دنیا کے 77 ممالک نے ان کی فہم و فراست کا یہ تحفہ دیا کہ پاکستان تیسری دنیا کا چیئرمین بنا۔ مزید برآںٴ بین الاقوامی میڈیا اور اداروں نے بھی شہید بھٹو کی عظمت کو انتہائی خراج تحسین پیش کیا ہےٴ نیویارک ٹائمز کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو نے مختصر عرصے میں پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک آزاد جمہوری ملک کا روپ عطا کردیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو مزاج کے لحاظ سے عقلی اور سیاسی اعتبار سے ان جرنیلوں پر فوقیت حاصل ہےٴ جو ملک پر حکمرانی کررہے تھےٴ ان تمام ابتدائی داخلی اور خارجی پالیسیوں کے اقدامات نے اس حقیقت کی تصدیق کردی۔ نیوز ویک نے ان الفاظ میں شہید بھٹو کو خراج تحسین پیش کیاٴ آنے والے دنوں میں ذوالفقار علی بھٹو ہی پاکستان کی بڑی امید ہیں۔ ان کے نقاد بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ بھٹو صاحب بنیادی طور پر ایک مخلص جمہوریت پسند قوم پرست ہیں۔ ‎شہید بھٹو نے جمہوریتٴ وفاقیت کی مضبوطی اور عوامی نمائندہ اداروں کی بالادستی کی جو جنگ لڑی ہےٴ اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا انہوں نے عوام اور جمہوریت کا نیا اسلوب عوام کو دیا ہے انہوں نے عوام کو ان کے حقوق سے روشناس کروایاٴ جس سے ان میں ایک نیا جوش پیدا ہوا۔ 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔