دیامر میں صنعتی زون کے قیام کا اعلان کیا جائے۔ جمیعت علمائے اسلام دیامر

چلاس(مجیب ا لرحمان) جمیعت علمائے اسلام دیامر کا اہم اجلاس سینئیر امیر جے یو آئی مولانا عبدالہادی کی زیر صدارت جے یو آئی سیکرٹریٹ چلاس میں منعقد ہوا۔اجلاس میں نائب امیر مولانا مزمل شاہ،نائب امیر دوئم مولانا حاجت خان ،جے یو آئی دیامر کے جنرل سیکرٹری بشیر احمد قریشی،جے یو آئی تحصیل چلاس کے امیر مولانا محمد شریف رکن مجلس شوریٰ قاری محمد قاسم،مولانا محمد وکیل جے ٹی آئی کے راہنماء امداد اللہ،مولانا عزیز الرحمان اور مولانا عبیدا لرحمان و دیگر بھی شریک تھے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینئیر امیر جے یو آئی مولانا عبدالہادی نے کہا کہ دیامر میں فوری طور پر صنعتی زون کے قیام کا اعلان کیا جائے۔اطلاعات یہی ہیں کہ صنعتی زون کے قیام کے لئے صرف مقپون داس کا انتخاب کیا گیا ہے۔دیامر کو سی پیک میں نظر انداز کرنے سے عوام میں مایوسی پھیلے گی۔ دیامر تعمیر و ترقی کی دوڑ میں پسماندہ ترین خطہ ہے اس خطے کی ترقی کے لئے سی پیک صنعتی زون کا قیام ناگزیر ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا حاجت خان نے کہا کہ دیامر سی پیک اور دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کی وجہ سے انتہائی اہمیت کا حامل خطہ بنا ہے۔اہمیت کے پیش نظر صنعتی زون کا قیام یقینی بنایا جائے۔قاری مزمل شاہ نے کہا کہ حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دیامر میں ہر صورت صنعتی زون کا قیام عمل میں لایا جائے۔دیامر میں بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔لوگوں کا کوئی ذریعہ معاش ہی نہیں ہے۔حالیہ پولیس کی سیٹوں میں صرف تیرہ سیٹیں دی گئی ہیں۔جو انتہائی کم اور سراسر زیادتی ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بشیر احمد قریشی نے کہا کہ دیامر پاک چائینہ اکنامک کوریڈور کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔دیامر تین ریاستوں کو ملانے میں گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔سی پیک کی سپورٹ کا کریڈٹ پارٹی قائد مولانا فضل الرحمان کوہی حاصل ہے۔ہماری جماعت سی پیک کی کامیابی کے لئے ہر طرح کا تعاون کرنے کو تیار ہے۔لہٰذا جمیعت علمائے اسلام دیامر اپنے قائد کے وژن کی تکمیل کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر دیامر میں صنعتی زون کی ڈیمانڈ کرتی ہے۔اجلاس میں بجلی اور گندم بحران پر اظہار افسوس کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ بحران پر موثر اور دیر پا اقدام کے ذریعے قابو پایا جائے اور عوام کو سہولت فراہم کی جائے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جے یو آئی کا اگلا اجلاس تئیس فروری کو گونر فارم میں منعقد کیا جائے گا اور جے یو آئی کو دیامر کی سطح پر منظم اور فعال بنانے کے لئے حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments