ضلع شگر میں ریسکیو 1122 کا قیام ناگزیر ہوچکا ہے

ضلع شگر میں ریسکیو 1122 کا قیام ناگزیر ہوچکا ہے

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شگر(عابدشگری) ضلع شگر میں ریسکیو 1122کا قیام ناگزیر ہوچکا ہے۔حالیہ برف باری کے بعد شگر کے عوام میں ریسکیو 1122 کی عدم موجووگی کی وجہ سے بے چینی پائی جاتی ہے۔جبکہ حادثات اور ایمرجنسی کی صورت میں کوئیک رسپانس ک لیےکوئی ادارہ نہیں جو انسانوں کو فوری طور پربچانے کیلئے اقدامات کریں۔اس سال سردی اور سخت برف باری کی وجہ سے پورے ضلع شگر میں کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری امدادی ادارے کی عدم موجودگی کی وجہ سے انتہائی کسمپرسی کی حالت میں اپنے اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ۔ اطلاعات کے مطابق شگر میں برف باری کے سابقہ 20سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ،اور خصوصاً برالدو، باشہ اور ارندو کے عوام سخت برف باری میں پوری دنیا سے کٹ کر رہ گئے۔ اس دوران کسی بھی امدادی ادارے کے عدم موجودگی کی وجہ سے لوگوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ۔ اطلاعات کے مطابق ارندو میں گردن توڑ بخار کی وبا پھیل گئی ہے اور کسی بھی زمینی راستے کے تاحال بحال نہ ہونے کی وجہ سے لوگ محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس سخت پریشانی کے عالم میں صرف پاک فوج اور ضلع انتظامیہ کی جانب سے ایک روزہ میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا تاہم اس پورے علاقے کے لئے صرف ایک ڈاکٹر کا ایک روزہ کیمپ کتنے مریضوں کو طبی امداد دے سکے گا۔ باوجود اس کے علاقے کے نمائندوں کی طرف سے پاک فوج کی طرف سے کی گئی امدادی کاروائیوں کا کریڈٹ لینے کا سلسلہ جاری ہے۔ مستقبل میں اس طرح کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے ضلعی انتظامیہ اور کسی ادارے کے قیام کے حوالے سے کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے ۔ واضح رہے حالیہ مہینوں میں ہونے والے شدید برف باری میں ضلع سکردو، گانچھے ، کمبہ سکردو اور روندو میں ریسکیو 1122 نےبلا کسی تعاطل عوام کی خدمات جاری رکھی اور عوام کے لیے24گھنٹے سروس جاری رہی اور سینکڑوں قیمتی جانوں کو بچایا ۔ تاہم پورے ضلع شگر میں کسی بھی امدادی ادارے کی عدم موجودگی کا احساس ابھی تک کسی بھی سیاسی عہدادار کو نہیں ۔ شگر کے لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کی جلد از جلد ضلع شگر میں ریسکیو 1122 مستقل طور پر اپنی سروس کو شروع کرے تاکہ آئندہ کسی نا خوشگوار واقعے سے بچا جاسکے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔