گانچھے: لائن مین کرنٹ لگنے سے جان بحق ہو گئے

گانچھے: لائن مین کرنٹ لگنے سے جان بحق ہو گئے

21 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گانچھے (اے آر رینگ چن ) محکمہ برقیات کی نا اہلی اور غفلت نے ایک اور لائن مین کی زندگی لے لی۔ فدا حسین نامی لائن مین کو بجلی کی کھمبے پر کام کرتے وقت کرنٹ لگنے سے جان بحق ہو گئے خپلو محلہ خانقاہ سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ لائن مین فدا حسین خپلو گمبہ بٹھونگ کے مقام پر ڈی ایچ کیو ہسپتال کو بجلی لائن بحال کرنے کے لئے کھمبے پر کام کرنے کی غرض سے گیا اور بجلی کی لائن کو ہاتھ لگاتے ہی کرنٹ لگا اور نیچے گر پڑا اور موقع پر ہی جان بحق ہو گیا ۔ ذرائع کے مطابق ہیوی ٹراسمیشن لائن پر کام کرنے سے پہلے فدا حسین نے بجلی والوں کی کنڑول روم سے رابطہ کیااور بجلی مکمل بند رکھنے کی استدعا کیا تھا اور کنٹرول روم سے بذریعہ سیٹ بجلی بند کرنے کی اطلاع دیا اور کہا کہ بجلی مکمل بند کیا ہے اور کام شروع کرنے کی احکامات بھی موصول ہوئے جس پر فدا حسین کھمبے پر چڑ ھ کر کام شروع کیا مگر لائن میں بجلی موجود تھا جس کے سبب کرنٹ لگ گئی اور فدا حسین کی زندگی کی چراغ گل ہو گئی۔

مرحوم فدا حسین کے دو بچے ہیں اور بیوہ حاملہ بھی ہے ۔ ذرائع کے مطابق مرحوم کی لواحقین نے محکمہ برقیات کے خلاف درخواست دائر کیا ہے جس پر پولیس نے دفعہ نمبر 319 اور 322 کے تحت مقدمہ درج کیا اور اس وقت کنڑول روم میں ڈیوٹی پر موجود تین افراد اختر حسین ، احمد علی اور محمد اسحاق کو گرفتار کیا ہے اور قانونی کاروائی جاری ہے ۔

لائن مین فدا حسین کی موت محکمہ برقیات کی کارکردگی اور لائن مین کو دینے والے ٹول کے بارے میں کئی سوالات چھوڑ گئے ۔ کیا محکمہ برقیات کے لائن مین کو دینے والے دستانے کرنٹ نہیں روک سکتے کیو نکہ لائن مین فدا حسین کے ہاتھوں میں کھمبے پر چڑھتے وقت دستانے پہنے ہوئے تھے اس کے باوجود فدا حسین کی ہاتھوں پر کرنٹ لگنے سے گہرے نشانات لگے تھے اور ہسپتال کا پوسٹ ماٹم رپوٹ نےبھی ہیوی کرنٹ لگنے کی تصدیق کیا۔ اس کے علاوہ کیا ان لائن مینوں کو سیفٹی شوز ، سیفٹی ہیلمٹ ، سیفٹی بیلٹ و دیگر اوزار میسر نہیں اگر سرکاری طور پر ان تمام اوزاروں کی فنڈ آتے ہیں اور باقاعدہ ٹینڈر ہوتا ہے تو لائن مینوں تک کیوں نہیں پہنچتے اور بڑی مشکل سے جو دستانہ اور ایک عدد پلاس ملتا ہے اسکی معیار بھی انتہائی کمزور ہیں۔ ہمیشہ کھمبوں پر چڑھ کر کام کرتے وقت سر کے اوپر سے گیارہ ہزار ولٹیج کی بجلی گزر نے کے باوجود چوبیس گھنٹے کام کرنے والے ان ملازمین کو رسک الاونس سرئے سے ہی نہیں ، ان ملازمین کی زندگی ہمیشہ رسک پر ہوتے ہیں ۔

واضع رہے کہ آج شگر مکں بھی ایک لائن مین کرنٹ لگنے سے جان بعق ہو گیا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔