وزیر اعلیٰ صاحب ۔۔۔۔۔اس نوجوان کو بچائیں

وزیر اعلیٰ صاحب ۔۔۔۔۔اس نوجوان کو بچائیں

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:شمس الحق نوازش غذری

ایک روز ایک شخص سلطان محمود غزنویؒ کے دربار میں انصاف حاصل کرنے کیلئے حاضر ہوا جب محمود اس کی طرف متوجہ ہوا، تو اس شخص نے عرض کیا، میری شکایت ایسی نہیں ہے کہ میں اُسے سردربار سب لوگوں کے سامنے بیان کردوں، محمود فوراََ اُٹھا اور اُسے تنہائی میں لے جاکر اُس کا حال پوچھا، اُس شخص نے روتے ہوئے فریاد پیش کی کہ آپ کا بھانجا ایک عرصے سے رات کو مسلح ہوکر میرے گھر آتا ہے، مجھے کوڑے مار مار کر باہر نکال دیتا ہے اور پھر خود تمام رات میری بیوی کے ساتھ شبِ بسری کرتا ہے، میں نے امیر کو اپنا حال سُنایا، لیکن کسی کو میری حالت پر رحم نہ آیا اور کسی کو جراء ت نہ ہوئی کہ وہ آپ سے یہ بات بیان کرتا، جب میں اُن اُمراء سے مایوس ہوگیا تو میں نے آپ کے دربار کے دروازے پر آنا شروع کردیا اور موقع کی انتظار میں رہا کہ کسی طرح آپ سے اپنا حال بیان کرسکوں خداوند تعالیٰ نے آپ کو ملک کا حاکم اعلیٰ بنایا ہے اس لئے رعایا اور کمزور بندوں کی نگاہ داشت آپ پر فرض ہے، اگر مجھ پر رحم فرما کر میرے معاملے میں انصاف کریں گے تو زہے نصیب۔۔۔۔۔ورنہ میں اس معاملے کو خُدا کے سپرد کروں گا، اور اس کی منصفانہ فیصلے کی انتظار کروں گا، محمود پر اس بات کا اتنا اثر ہوا کہ وہ یہ سُن کر زاروقطار رونے لگا اور کہا کہ اے مظلوم! تو اس سے پہلے میرے پاس کیوں نہ آیا اور اتنے دنوں تک یہ ظلم کیوں برداشت کرتا رہا۔اس شخص نے جواب میں کہا، کہ بادشاہ صاحب! ایک مدت سے میں کوشش کررہا تھا کہ کسی طرح آپ کے حضور حاضر ہوسکوں لیکن دربار کے چوکیداروں اور دربانوں کی روک تھام کی وجہ سے کامیابی حاصل نہ ہوسکی، یہ خُدا ہی بہتر طور پر جانتا ہے کہ اب میں کسی تدبیر اور بہانے سے یہاں پہنچا ہوں اور کس طرح ان چوکیداروں سے نظر بچا کر آپ کے حضور میں حاضر ہوا ہوں ہم جیسے فقیروں اور غریبوں کی یہ قسمت کہاں۔۔۔کہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سلطانی دربار میں چلے آئیں اور بادشاہ کے بالمشافہ اپنی روادادِ غم بیان کریں۔محمود نے جواب دیا تم یہاں مطمئن ہوکر بیٹھو لیکن اس ملاقات اور گفتگو کا حال کسی کو نہ بتانا اور اب خیال رکھنا کہ جس وقت وہ سفاک تمہارے گھر میں آئے تو فوراََمجھے اطلاع دینا، میں اُسی وقت تمہارے ساتھ انصاف کروں گا اور اُس سفاک کو اُس بد کرداری کی سزا دوں گا، اُس شخص نے کہا، کہ اے بادشاہ! مجھ جیسے نادار شخص کیلئے یہ ناممکن ہے کہ جب چاہوں بلا روک ٹوک آپ سے مل سکوں۔

محمود نے فوراََ دربانوں کو بُلایا اور اُن سے اس شخص کو متعارف کروا کر انھیں حکم دیا کہ جس وقت بھی یہ شخص ہمارے حضور میں آنا چاہے اِسے بغیر کسی اطلاع اور روک ٹوک کے آنے دیا جائے، دربانوں کو رخصت کرنے کے بعد سلطان محمود نے اُس شخص کو قریب بلایا اور کہا، اگرچہ اَب میرے حکم کے مطابق یہ لوگ تمہیں روکنے کی جراء ت نہ کریں گے، لیکن پھر بھی احتیاتاََ تمہیں یہ بتا ہی دیتا ہوں ، اگر کبھی اتفاقاََ یہ چوکیدار میری عدیم الفرصتی یا آرام کا عُذر کرکے تمہیں روک دیں، تو تم فلاں جگہ سے چھپ کر چلے آنا اور آہستہ سے مجھے آواز دینا، میں یہ آواز سنتے ہی تمہارے پاس پہنچ جاؤں گا، یہ کہہ کر اُس شخص کو رخصت کیا اور اُس کی آمد کا انتظار کرنے لگا، دو راتیں سکون سے گزریں تیسری رات سلطان محمود کا بھانجا اس کے گھر داخل ہوا، اور حسبِ دستور اُسے مار پیٹ کر باہر نکال دیا اور خود اُس کی بیوی کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول ہوگیا، وہ شخص اُسی وقت شاہی محل کی طرف دوڑا اور دربانوں سے کہا کہ بادشاہ کو اُس کی آمد کی اطلاع دی جائے دربانوں نے جواب دیا کہ بادشاہ اس وقت دیوان خانے کی بجائے اپنی حرم سرا میں ہے لہذا تمہیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، وہ شخص مایوس ہوکر پیچھے ہٹا اور اُس جگہ پر پہنچا، جس کے بارے میں سلطان محمود نے اسے بتا رکھا تھا۔اُس نے آہستہ سے کہا اے بادشاہ! اس وقت آپ کس کام میں مشغول ہیں؟ سلطان نے جواب دیا، ٹھہرو میں آتا ہوں۔

اب اس کہانی کو تھوڑی دیر کیلئے یہی روکتے ہیں اور دوسری کہانی کا آغاز کرتے ہیں۔۔۔۔۔روز صبح اُن کی آنکھ دوگونگے بھائیوں کے اشاروں اور چھوٹے بہن بھائیوں کے شور غل سے کھلتی تھی اور حالات کے بوجھ اور ضروریات کی گرانی تلے بند ہوتی تھی، اُن کے چہرے میں ہمیشہ مایوسی چھائی رہتی تھی اُن کی زندگی دردو الم کی کی ایک کرنباک کہانی تھی، وہ تین سال کا تھا تو اُن کی والدہ انتقال کرگئی، والد نے دوسری شاد ی کرلی، سوتیلی ماں کے گھر کے چوکھٹ پر قدم رکھتے ہی گھر اُس کیلئے اجنبی بنا، اُس کا سارا بچپن، سارا لڑکپن اور جوانی کے خوبصورت ایّام محرومیوں میں گزرا، وہ معمولی معمولی خواہشات کیلئے ترستا رہا۔تعلیم مڈل تک تھی۔کیونکہ جس گھر میں اُس نے آنکھ کھولی تھی وہ گھرکئی نسلوں سے غربت اور تنگ دستی کے دلدل میں دھنسا ہوا تھا اُس کے پاس گھنٹی بیلچہ کے علاوہ اور کسی چیز کا ہنر نہیں تھا ہنر سیکھنے کیلئے زندگی نے انھیں مہلت ہی نہیں دی، مڈل کی دہلیز میں قدم رکھتے ہی انھوں نے سکول کو خیرباد کہہ دیا اور سکول کے دَر سے باہر قدم رکھتے ہی بیلچہ اُن کے بغل میں اور گِھنٹی اُن کے کاندھے میں سوار ہوا، اس نوجوان کو سرکاری نوکری حاصل کرنے کا جنوں کی حد تک شوق تھا، لیکن اُس کی معیار کا کوئی عہدہ پورے تحصیل میں کہیں موجود نہیں تھا۔نوجوان ہر سول محکمے کی طرف سے”گریڈ ون”کی ملازمتوں کیلئے اشتہار دیکھ کر درخواست جمع کراتا اور جب وقت گزرتا جاتا، کسی آفیسر کا بھائی، کسی کا کزن، کسی کا بہنوئی اور کسی کا پیسہ اُسے چور دروازے سے اندر داخل کراچکا ہوتا اور اس کو خبر ہونے تک وہ ایک ماہ کا تنخواہ بھی نگل لیا ہوتا،اُس نے غذر کے”پیر”کا دور دیکھ دیکھ کے تنگ آیا تو پھر ہنرہ کے “میر”کا دور شروع ہوا، “میر”کے دور سے جب وہ اُکتا گیا، تو پھر تیر کے بطن سے دوبارہ وہی”پیر” نمودار ہوا، اپنے ہی اعمالِ بد کو کوستے کوستے جب دوسری بار”تیر”اور “پیر” سے چھٹکارا ملا تو آنکھ مچولی کے کھیل کی طرح پھر وہی “میر”سائیکل سے اُترا اور”شیر”پر سوار ہوا۔ القصہ!غذر کے پیر سے لیکر ہنزہ کے میر تک اور سندھ کے سید قائم علی شاہ سے لیکر سکردو کے مہدی شاہ تک۔۔۔۔کے ادوار میں ان کا یہ شک نہ صرف یقین میں بدل گیا بلکہ اُن کے ایمان کا جزولاینفک بنا، اور اُس نے ایک دن یہ کہتے ہوئے انتہائی بیزاری سے بیلچہ کو بغل اور گِھنٹی کو کاندھے میں رکھا’’ ہمارے سرکار کی آئین میں”سرکاری نوکری اُن لوگوں کا حق ہے، جن کے “چاچے”، “مامے” متعلقہ اداروں میں ملازم ہیں یا نوکریوں کی جمعہ بازار کے دن خریداری کیلئے حرام کی کمائی سے جن کے جیب لبالب بھرے ہیں‘‘۔

لیکن جب9جون2015 ؁ء کا سورج طلوع ہوا تو” پَل تنی”محلے سے بلند ہونے والی اس آواز کی صدائے بازگشت سے گلگت بلتستان کے تمام پہاڑ گونجنے لگے ’’آج کے بعد بے ضمیروں کی بے ضمیری، میرٹ کی پامالی، نوکریوں کی سوداگری اور اقرباء پروری کا کلچر اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ دفن ہوا، آج کے بعد ہر کام میں میرٹ کی پاسداری ہوگی، نوکری کلاس ون کی ہو یا گریڈ ون کی۔۔۔ وہی لوگ مستحق ٹھہریں گے، جو میرٹ کو الیفائی کریں گے” یہ خبر پلک جھپکتے ہی ملک کے ہزاروں بیروزگار نوجوانوں کی طرح اس نوجوان تک بھی پہنچی، جو اپنی دُنیا میں مست گھنٹی سے مٹی کے تودے گرا رہا تھا یہ سُن کر نوجوان زیر لَب مُسکرایا اور اپنی گھنٹی سے ہی مٹی پر”میرٹ” لکھ کر قہقہہ لگایا اور کہنے لگا، کل تک جس معاشرے میں مستقبل کے معماروں اور حال کے نونہالوں کے مستقبل کو سنوارنے والوں کی آسامیاں تین تین لاکھ روپے میں بِک رہے تھے اور اُسی کل کے بطن سے نموپانے والی آج اتنا بڑا انقلاب اور اتنی بڑی تبدیلی۔۔۔ نوجوان نے خود کو مخاطب کرکے کہا’’ اگر یہ دعویٰ سچ ثابت ہوا، تو پھر ہم بھی اُمید سے ہونگے یہ کہتے ہوئے گھنٹی سے مٹی کے تودے پر زوردار ضرب لگایا اور مٹی کی دُھول میں گُم ہوا‘‘۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک دن محکمہ پولیس میں خالی اسامیوں کا اعلان۔۔۔اور پھر ان آسامیوں کیلئے تحریری اور زبانی امتحان ہوا، اس امتحان میں ملکی تاریخ میں پہلی بار حقدار کو حق مل گیا، ملک کے دوسرے حصوں کی طرح غذر کے دور آفتادہ بستیوں سے بھی وہ اُمیدوار کامیاب ٹھہرے جن کے کسی سرکاری ادارے میں کوئی’’چاچے‘‘ ’’مامے‘‘ تھے او ر نہ ہی نوکری خریدنے کیلئے اُن کے پاس پیسے اور اثاثے۔۔۔۔لیکن نوجوان اس کو بھی ایک حادثہ تصور کیا کچھ عرصہ بعد پھر اُن آسامیوں کا ٹسٹ بذریعہ این۔ٹی۔ایس ہونے کا اعلان ہوا، جن کیلئے پچھلی حکومتوں میں جمعہ اور اتوار بازار لگتا تھا، اور سانپ کا ڈسا رسی سے بھی ڈرے کے مصداق نوجوان نے اس کو بھی ایک شعبدہ بازی تصور کیا۔ٹسٹ انٹرویو کے مراحل سر ہونے کے بعد جب نتائج سامنے آگئے، تو یہ راز اظہر مِن الشمس کی طرح عیاں ہوا کہ حقدار کو حق دینے کا دعویٰ حقیقت پر مبنی ہے۔یہ دیکھتے ہی مٹی کے دھول میں گُم نوجوان اپنا دامن جھاڑکر گَرد اڑادیا، گِھنٹی، بیلچہ اور کھرپا پرے پھینک دیا اور سرکاری نوکری کیلئے خود کو ایک نئے محاذ سے دوچار کردیا۔میرٹ کی چوٹی سَر کرنے والے اساتذہ ابھی سکولوں میں جوائیننگ بھی نہیں دیے تھے اتنے میں محکمہ ہیلتھ کو جوش آیا اور انھوں نے چھوٹی سطح کے نوکریوں کا اعلان کردیا۔’’کبھی ایسی حکومت آئے گی نہ کبھی ایسے حکمران‘‘ یہ خیال اور یہ سوچ سُوجھتے ہی نوجوان کے جذبات میں طغیانی آگئی جوش سے اُٹھا اور گاؤں کے ہیڈماسٹر کے پاس پہنچا، اور اُن سے کہا اللہ کا شُکر ہے میرے گاؤں کے ہسپتال میں وارڈ سرونٹ، نائب قاصد، دایہ اور خاکروپ کی خالی اسامیوں پر پچھلی حکومت کے شاہوں کی نظر نہیں پڑیں ورنہ کہاں ہم اور کہاں یہ نکہتِ گل۔۔۔۔ہیڈ ماسٹر نے مسکرا کر گردن ہلائی اور نوجوان سے پوچھا،تو تمہیں کس گُل کیلئے اپلائی کرنے کا ارادہ ہے؟ نوجوان نے گہرے تاسف کے ساتھ بولے، وارڈ سرونٹ کیلئے تو پڑھے لکھے بلکہ شعبہ طب میں تربیت یافتہ اُمیدوار میدان میں ہیں، اُن میں سے جو رہ جائیں گے وہ نائب قاصد کیلئے پنجہ آزمائی کریں گے،’’رہ گیا کُدال کا آپریٹر‘‘۔۔۔۔تو اس خاکسار کا نام خاکروب کے خانے میں ہی فٹ آتا ہے یہ کہتے ہوئے اُس نے ہیڈماسٹر کے چہرے پر نظریں گاڑدیں اور ملتجانہ مسکراہٹ اپنے چہرے میں سجا کر نرم آواز میں بولا’’اگر بالفرض آپ سلیکشن بورڈ کے چیئرمین ہیں، اور یہ خاکی آپ کے سامنے اُمیدوار برائے خاکروب تو اس خاکسار اور خاکروب کا موازنہ کرکے کوئی فال نکال لیجئے ، تاکہ ماضی کی طرح مفت میں رُسوائی ہی میرا مقدر نہ ہو اور میری کدوکاوش پھر سے رائیگان نہ جائے‘‘یہ کہتے ہوئے نوجوان اپنے داستانے کی اُنگلی کا سِرا چبانے لگا۔ ہیڈ ماسٹر چند لمحے کی توقف کے بعد بولے، میری ڈکشنری میں خاکروب کیلئے میرٹ کی تشریح یہ ہے۔اُمیدوار صحت مند، سمارٹ، ضرورت مند اور مستحق ہو لوئر مڈل تعلیم ہے تو سونے پہ سہاگا اور گھر ہاسپٹل کے قریب ہو، میں ان کوائف کی روشنی میں میرٹ کا پیمانہ طے کرونگا پھر بھی آپ مجھے ہی سیلیکشن کمیٹی کا چیف تسلیم کرتے ہیں تو یہ لیں اپنا اَپائنٹ لیٹر، ہیڈماسٹر درخواست نوجوان کی طرف بڑھاتے ہوئے فلک بوش قہقہہ لگایا۔نوجوان نے درخواست کو تعویز بنا کر جیب میں رکھا اور محلے کے دُکاندار کے پاس پہنچا، ستائشی نظروں سے دُکاندار کی طرف دیکھا اور بول پڑا، پانچ ہزار روپے درکار ہیں۔دکاندار اپنے چہرے پر مصنوعی سنجیدگی تان کر بولے”ان دنوں آپ مجھے خالی نہیں بلکہ کنگلا تصور کریں، نوجوان اپنے کانپتے ہوئے جسم کو قابو میں رکھ کر دکاندار کو اپنی کامیابی کے بارے میں ہیڈ ماسٹر کا تجزیہ دہرادیا اور ساتھ ہی پولیس اور اساتذہ کے بھرتیوں میں شفافیت کی مثالیں دی، چند لمحوں کی سوچ نے دُکاندار کے دماغ کے کونے میں لالچ کے اس خیال کو جگادیا، کہ سرکار کا حصہ بننے کے بعد نوجوان بھلے سرکاری ڈیوٹی کرے نہ کرے لیکن خریداری تو تاحیات تیرے ساتھ ہی کرتا رہیگا۔اسی سوچ نے دکاندار کے خزانے کا در اُمیدوار کیلئے وا کردیا، دکاندار اپنے شیلف میں موجود رقوم کو کسی کی امانت ظاہر کرکے کاروباری مکّاری سے بچنے کی طفلانہ کوشش کی اور مٹھی میں بند پانچ ہزار کا نوٹ نوجوان کی طرف بڑھا دیا اور نوجوان کے نوکری کے روشن امکانات دیکھ کر اپنے خزانے کا منہ اُن کیلئے کھول دیا۔اسی اثناء میں انہی افواہوں کے طفیل اسی تحصیل سے ملحقہ تحصیل میں انٹرمیڈیٹ کی طالبہ سے نوجوان کا رشتہ بھی طے پاگیا، رشتے کے پیغام رسانی کیلئے ایلچی کے کرایہ سے لیکر منگنی کے رسم تک سارے اخراجات دکاندار نے اپنے سر لیا۔

اور دوسری طرف خُدا خُدا کرکے ہیلتھ سکریٹریٹ گلگت سے گریڈ ون کے اسامیوں کی نتائج کا جب اعلان ہوا تو سب کے اوسان خطا ہوگئے نہ وہ اُمیدوار وارڈ سرونٹ بنا جنھوں نے شعبہ طب میں عملی تربیت کے ساتھ تجربہ بھی حاصل کیا تھا اور نہ ہی وہ اُمیدوار نائب قاصد۔۔۔جن کی ملکیتی اراضی اور ہاسپٹل کی چاردیواری کے مابین چترال روڈ حائل تھی اور خاکروب کی اُمیدیں تو اُس وقت خاک آلودہ ہوئیں جب گاہکوچ کے رہائشی”گلاغمولی نژاد”خاتون اس لیے میرٹ کوالیفائی کرنے میں کامیاب رہی کہ اُن کا بھائی پہلے سے ہی ڈی ایچ او آفس غذر میں سرکار کے ملازم تھے۔

حاصلِ کلام یہ کہ نوجوان کو شاہوں کے بعد شیروں کے دورِ حکومت میں بھی ناکامی اور نامرادی سے دوچار ہونا پڑا۔نوجوان کے ناکامی کی خبر سنتے ہی دوسرے دن ہی بانگِ سحر سے کچھ دیر بعد دکاندارنے درِ نادر کو جارحانہ انداز میں کھٹکھٹایااور نوجوان کو ایک لاکھ چھبیس ہزار کا بِل پکڑا دیا۔مفلسی میں آٹا گیلا کے مصداق ناکامی کا غم غلط ہوا نہیں تھا۔ اس غم زدہ پر دکاندار کی پریشانی کا غم سوار ہوا نوجوان فروری کی یخ اور طویل شبِ غم دکاندار کے اُدھار چُکانے کی سوچ میں گزار دیااور اس شبِ دیجور میں غم سہتے سہتے جب صبح ہوئی تو اَن پریشانیوں کا سردار اور صدقہ جانکاہ دینے والا مسیج اِن کے موبائل کی انِ بکس سے جھانک رہا تھا۔مسیج منگیتر کے ابا جان کی طرف سے سینٹ(Sent)ہوچکا تھا۔خیال آیا، متوقع سسر شاید ناکامی کی خبر سُن کر غم زدہ سے غمخواری کیلئے کوئی پیغام بھیجا ہو۔اس گومگو میں”اِن بکس”کھلنے سے پہلے اُن کا منہ کُھل گیا، لکھا تھا” میری پڑھی لکھی بیٹی باروزگار سوئپر کے ساتھ تو زندگی گزار سکتی ہے لیکن بے روزگار لیبر کے ساتھ نہیں”۔

نوجوان نے دکاندار کا کھاتہ، منگیتر کا قضیہ، اور محکمہ ہیلتھ کا المیہ سمیٹ کر دستِ تاسف ملتے ہوئے ہیڈ ماسٹر کے پاس پہنچا اور لجاجت بھرے الفاظ میں بولا، ’’میں زندگی کی اس بند گلی سے رہائی کے واسطے رہنمائی کی بھیک مانگنے کیلئے دستِ سوال دراز کرنے آیا ہوں‘‘ ہیڈ ماسٹر نے گہرا سانس لیا، نوجوان کو غور سے دیکھا اور سر جھکاکر صوبائی وزیر فداخان کے گھر کی راہ لینے کا مشورہ دیا، صوبائی وزیر کی زیارت کیلئے نوجوان نے اپنے گاؤں میں موجود وزیر کے حق میں دستبردار(دورانِ الیکشن) اُمیدوار سے رابطہ کیا اُمیدوار نے یہ کہہ کر نوجوان کے اُمیدوں پر پانی پھیر دیا۔منسٹر اسلام آباد میں ہیں اور اُن کا غیر ملکی دورہ متوقع ہے۔یہ سُن کر نوجوان کے پیشانی میں پسینہ آگیا لیکن حوصلے کی زنجیروں سے خود کو باندھ کر انھوں نے بالآخر آپکا(وزیراعلیٰ) در کھٹکھٹانے کا فیصلہ کرلیا، لیکن اس کیلئے انھیں دو بڑے محاذ سر کرنا پڑے اول، گلگت آکر آپ سے ملاقات کی انتظار میں ہوٹل کے اخراجات کا بارِگراں اور دوم آپ کے دربانوں اور پہر ہ داروں سے بچ بچاؤ کر کے آپ تک رسائی کا امتحان۔۔۔۔۔۔۔!

قِصہ مختصر! یہ سوچ اور یہ آرزو خواہش بننے سے پہلے ہی دم توڑ دیا۔ سلطان محمود کا رعیت شاہی دربار تک رسائی کیلئے بار بار اس لئے جتن کرتا رہا اُن کا ٹھکانا شاہی محل سے کونوداس اور کشروٹ جتنے فاصلے پر تھا لیکن اس نوجوان کا گھر سطح سمندر سے 12500 فٹ بلند ی پر واقع ہے جبکہ آپ کبھی گلگت اور کبھی اسلام آباد میں ہوتے ہیں۔

اب اس کہانی کو یہی روک کر پہلے کہانی کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد سلطان محمود باہر آیااور اُس شخص کے ساتھ اُس کے گھر پہنچا ، وہاں جا کر محمود نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اس کا بھانجا اس غریب شخص کی بیوی کے ساتھ ہم آغوش ہو کر سویا ہوا ہے اور شمع اُس کے پلنگ کے سرہانے جل رہی ہے۔محمود نے شمع بجھائی اور خنجر سے اُس ظالم کا سر تن سے جُدا کر دیا ، پھر اس مظلوم شخص سے کہا اے بندۂ خدا!ایک گھونٹ پانی اگر مل سکے توفوراً لے آنا۔تاکہ میں اپنی پیاس بجھاؤں، اس شخص نے فوراً پیالے میں پانی لا کر سلطان کی خدمت میں پیش کیا۔ محمود نے پانی پیا، اپنی جگہ سے اُٹھااور اُس نادار سے یوں مخاطب ہوا۔ اے شخص، اب تو اطمینان کے ساتھ آرام کر، میں جاتا ہوں اور رخصت ہونے لگا۔لیکن اُس شخص نے بادشاہ کا دامن پکڑ لیا اور کہا اے بادشاہ! تجھے اُس خُداکی قسم ہے کہ جس نے تمہیں اس اعظیم الشان مرتبے پر سرفراز کیا ہے تُو مجھے یہ بتا، شمع گُل کرنے اور سفاک کا سر تن سے جُدا کرنے کے فوراً بعدپانی مانگنے اور پینے کی وجہ کیا ہے؟سلطان محمود نے جواب دیا اے شخص میں نے تجھے ظالم سے نجات دلا دی اور اس کا سر اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں۔شمع کو میں نے اس لئے بجھایا کہ اس کی روشنی میں مجھے اپنے بھانجے کا چہرہ نظر نہ آجائے اور میں اس پر رحم کھا کر انصاف نہ کر سکوں۔ پھر پانی مانگ کر پینے کی وجہ یہ تھی کہ جب تم نے مجھ سے اپنی رودادِ غم بیان کی تھی۔تو میں نے عہد کیا تھا کہ جب تک تمھارے ساتھ پورا پورا انصاف نہیں ہوگا۔تب تک میں نہ کھانا کھاؤنگا اور نہ پانی پیؤنگا۔

اب دُوبارہ دوسری کہانی کا رُخ کرتے ہیں۔کل شام کو اُس نوجوان کے ایک قریبی دوست نے صوبائی وزیر فدا خان کے حق میں دستبردار اُمیدوارکو یہ کہہ کررنجیدہ اور شرمندہ کر دیاکہ وہ مایوس اور اُداس نوجوان اس وقت زہر ہلاہل کے بیوپاری کی تلاش میں ہے۔ اُمیدوار کیلئے یہ خبر نہیں کرنٹ کا جھٹکا تھا انھیں فوراً اس فاسد وہم نے گھیر لیا۔کوئی اخبارکل کلاں کو’’غذر میں ایک اور خودکشی‘‘۔۔۔۔۔۔۔ کی سرخی لگائے۔اس سے پہلے سلطان محمود غزنوی کے محکوم کے طرز کے مظلوم کی ’’آہ‘‘ آپ تک پہنچایا جائے۔ شاید آپ بھی اس مظلوم نوجوان کا، زہر کی خریداری اور زندگی سے دستبرداری کا ارادہ ترک ہونے تک نہ روٹی کے ٹکڑے کو چُھولے اور نہ ہی پانی کا گھونٹ پی لے۔

اب یہ وقت ہی بتائے گا، بے بس اور بے دست افراد کے مُنہ سے ’’نوالہ‘‘ اور اُن کی زندگی سے منسوب ’’ملکہ‘‘ چھیننے والوں کا سر سلطان محمود کے بھانجے کے سر کی طرح قلم ہوتا ہے یا غزنوی کے دور کے مظلوم شخص کی طرح ظالموں کے ستائے ہوئے ستم دیدوں کے گھر وں میں ظُلم و ستم اور ماتم ہوتا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔