اپنے من میں ڈوب کے پاجا سراغِ زندگی

اپنے من میں ڈوب کے پاجا سراغِ زندگی

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ازقلم:۔ مشاہد حسین منتظر
طاؤ س یاسین

آج ہم جس محفل میں جاتے ہیں، جن لوگوں سے ملیں، ٹی وی کے کسی بھی چینل کو دیکھیں ہر جگہ ہر شخص حکومت کا اور حکمرانوں کا رونا روتا ہے۔ہر کوئی حکومت سے گلے شکوئے کرتا دکھائی دیتا ہے، ہر محفل میں حکمرانوں پر تبصرے ہوتے رہتے ہیں۔کوئی کسی خاص ادارے پر تنقید کررہا ہوتا ہے تو کوئی کسی حکمران پر کرپشن کا الزام رلگا رہا ہوتا ہے۔

آج کل ہر شخص حکومت کو تنقیدی نظر سے دیکھتا ہے۔ہر کسی کو حکمرانوں کی کرپشن نظر آتی ہے۔مگر ہم نے کبھی اپنے گریباں میں جھانک کر نہیں دیکھا ہو گا کہ ہم لوگ کتنے صاف ہیں؟ شہری ہونے کی حیثیت سے ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کو کس حد تک نبھاتے ہیں؟ ہم ذاتی طور پر کس حد تک رشوت اور کرپشن سے بچتے ہیں؟ یقیناََ میں سمجھتا ہوں ہم اپنا تنقیدی جائزہ لینے کے بعد شاید حکمرانوں پر جابجا تنقید کرنا چھوڑ دیں۔

ہر شخص یہ کہ رہا ہے کہ حکمران کرپٹ ہیں۔ہم نے کبھی سوچا ہے کیا کہ ہم کتنے کرپٹ ہیں؟ کرپشن کی لت کو عروج بخشنے میں حکمرانوں کے ساتھ ساتھ ہمارا بھی بڑا ہاتھ ہے۔حکمران اپنے حیثیت اور اختیارات کے مطابق کرپشن کرتے ہیں اور ہم اپنی حیثیت اور اختیارات کے مطابق کرتے ہیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ ہم کرپشن کررہے ہوتے ہیں اور ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا ہے کہ ہم کرپشن کررہے ہیں اگر احساس بھی ہوجائے تو کوئی افسوس و ملال نہیں ہوتاہے اور الٹا حکمرانوں اور حکومتی اداروں کو طعنہ دیتے ہیں جو بجلی کا بل ادا نہیں کرتا وہ بھی کرپٹ ہے ، وہ جس کے سپرد حکومت نے کچھ ذمہ داریاں اور اختیارات کئے ہیں اور اس کے عوض اس کو ماہانہ معاوضہ ملتا ہے اور وہ اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی اور کام چوری کرتا ہے تو وہ بھی کرپٹ ہے، وہ جو اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتا ہے اور وہ جس کا قلم چند نوٹوں کے عوض بک جاتے وہ بھی کرپٹ ہے۔ہم مختلف حکومتی اداروں پر تنقید کرتے رہتے ہیں، ان اداروں میں کوئی دوسرے لوگ نہیں ہم ہم عوام ہی ہیں۔ہم انفرادی طور پر رشوت لیتے ہیں، کام چوری کرتے ہیں اور ذمہ داریوں میں کوتا ہی کرتے ہیں جس کی وجہ سے ادارے میں بگاڑ پیدا ہوتا اور مجموعی طور پر ادارہ ذوال پذیر ہوتا ہے۔اور ہمارے اپنے ہی طعنوں کا نشانہ بن جاتا ہے۔

ہمیں صرف حکومت کی کاتاہیاں نظر آتی ہیں مگر ہم یہ نہیں سوچتے ہیں کہ ہم ملک کی تعمیر و رترقی کیلئے کتنا کام کررہے ہیں ہمیں چاہئے کہ دوسروں پر تنقید کرنے کی بجائے دوسروں کو نیچا دکھانے کی بجائے دوسروں کی غلطیوں کو گنوانے کی بجائے ہم انفرادی طور پر ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے حصہ ڈالیں۔اپنے اختیارات کو صحیح استعمال کریں اپنی ذات کو کرپشن اور رشوت سے پاک کریں۔قانون کی پیروی اور احترام کریں۔شہری ہونے کی حیثیت سے اپنی اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے سرانجام دیں اور حکومتی اداروں کے ساتھ مخلص ہوں تو میں سمجھتا ہوں کہ سارا حکومتی نظام ٹھیک ہوجائے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔