دیامر کا سب سے بڑا مسلہ۔۔۔۔۔۔

دیامر کا سب سے بڑا مسلہ۔۔۔۔۔۔

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 تحریر۔اسلم چلاسی

ضلع دیامر ماضی کے تین ریاستوں، داریل، تانگیر اور چلاس ایجنسی پر مشتمل گنجان آباد علاقہ ہے۔ تانگیر کی آخری آبادی ستل سے چلاس شہر تک تین گھنٹوں کا مسافت ہے اور داریل کے آخری آبادی یچھوٹ سے چلاس شہر تک بھی تقریباً اتنا ہی وقت لگتا ہے، جبکہ چلاس سے گلگت شہر کیلے صرف دو گھنٹوں کا راستہ ہے ۔یہ علاقے قدرتی وسائل سے لبریز ہیں وسیع وعریض چراگاہوں بلند و بالا پہاڑوں خوبصورت قدرتی مناظر جہاں وسائل کے تو بہتات ہیں مگر ان کو استعمال میں لانے کیلے انتظامی سطح پر انتہائی مایوس کن رفتار ہے گلگت بلتستان میں ضلع دیامر وہ و احد ضلع ہے جوجنگلات جنگلی حیات معدنیات تفریحی اورسیاحتی مقامات سے مالا مال ہے یہاں کی عمارتی لکڑی دنیاں بھر میں تز ئن و ارائش کے کام آتی ہے یورپ سمیت عرب ممالک کو بھی دیامر کے لکڑی کا فرنیچر جاتا ہے جس سے کروڑوں کے حساب سے ملک کو زر مباد لہ کی شکل میں ڈالر حاصل ہوتا ہے انہی جنگلات کے قیمتی عمارتی لکڑی کے ترسیل سے جرمانہ کی مد میں سرکاری خزانے کو ایک سال میں جو فا ئیدہ ہوتا ہے وہ پورے گلگت بلتستان کے باقی تمام اضلاع کے چار سالوں کے انکم سے کئی گنا زیادہ ہے ۔گزشتہ تین سالوں میں دیامر میں تیار عمارتی لکڑی کی محض ایک فیصد ترسیل ہوئی ہے جس سے اربوں روپے سرکاری خزانے میں جمع ہو چکے ہیں ۔اگر اس تیار قیمتی عمارتی لکڑی کا دس فیصد بھی تر سیل ممکن ہو تو بھی کھربوں روپے کا فائدہ ملکی خزانے کو ہو سکتا ہے ۔دوسری طرف دیامر کے قدرتی جنگلات میں جلغوزہ جیسے قیمتی ڈرائی فروٹ کی فراوانی ہے جس کا طلب مارکیٹ چین یورپ اور عرب ممالک ہیں جس سے سالانہ کروڑوں ڈالر ملک میں آتا ہے گزشتہ ایک سال میں ہمارے معلومات کے مطابق انتہائی معمولی ریٹس کے باوجود چار ارب روپے دیامر کے محنت کشوں کو جلغوزے کے مد میں حاصل ہوئے باوجود اس کے کہ حکومتی سطح پر اس قیمتی فروٹ کے حوالے سے عالمی مارکیٹ تک رسائی کیلے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے اور نہ ہی مقامی لوگوں کو اس حوالے سے کوئی آگاہی دی گئی ہے سالانہ انتہائی کم ریٹس پر یہ فروٹ فروخت ہوتا ہے اس کے باوجود بھی ایک بڑی رقم ملک کو حاصل ہوتا ہے۔اگر اس فروٹ کو عالمی سطح پر متعارف کرائے اور محنت کشوں کی سر پرستی اور حو صلہ افزائی ہو تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ صرف اس فروٹ سے حاصل ہونے والی انکم سے گلگت بلتستان کا سالانہ بجٹ بن سکتا ہے اس کے ساتھ ہی گلگت بلتستان سے جو سا لانہ لاکھوں ٹن اخروٹ ملک کے ہر حصے کو جاتا ہے اس فروٹ کی پچاس فیصد رسد گلگت بلتستان سے ہوتی ہے جس میں سے نصف اخروٹ دیامر کا ہوتا ہے ایسی تناسب سے دیامر پورے ملک کے اس ضرورت کا پچیس فیصد حصہ مہیا کرتا ہے گویا کے سردیوں کے موسم میں بیس کروڑ عوام کے پچیس فیصد اخروٹ کے ضرورت دیامر سے حا صل ہوتا ہے۔اور یہ زمین جغرافیائی لحاظ سے بھی اتنی اہمیت کا حامل ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ہر کوئی اس ضلع کو گلگت بلتستان کا گیٹ وے کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں چونکہ یہ ضلع شرقاً غرباً چارو اطراف سے بڑی بڑی تہذیبوں میں گیرا ہوا ہے اس ضلع کے سر حدیں ،،کاغان ،،چترال ،،کشمیر ،،سوات ،،دیر ،،غذر،،اور کوہستان سے ملی ہوئی ہیں زمانہ قدیم سے دیامر کے یہ درے تجارتی سفارتی اور دفاعی ضروریات کے طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں ہر دور کے مرکزی حکومت نے دیامر کے اس اہمت کو تسلیم کرتے ہوئے ان جغرافیائی وسائل کا بہر پور افائدہ اٹھا یا ہے۔اور یہاں کے باسیوں کو ایک خاص اہمیت دیکر مقامی وسائل کو مسخر کرنے کی کوشش کی ہے وگرنہ تو یہ علاقہ تاریخ کے اوراق میں درد سر بھی بنتے رہے ہیں لیکن ملک و ملت کیلے یہاں سے ہمیشہ اچھا پیغام گیا ہے جب مملکت کو بجلی پانی کی ضرورت پیدا ہواتو کالا باغ بنانے کا خواب پورا ہونے نہیں دیا گیا سندہ اور کے پی کے سے سخت مخالفت ہوئی اس دور کے حکمرانوں نے دیامر کے عوام سے ملک و ملت کی اس ضرورت کو سامنے رکھ کر اپیل کیا کہ دیامر ڈیم تعمیر نہ ہوئی تو ملک اندھیروں میں ڈوب جائے گا اور ہرا بھرا ملک بنجر ہو جائے گا جس پر دیامر کے عوام نے دیامر ڈیم کی صورت میں اپنی قربانی پیش کی ایسی قربانی جو سندھی اور پختون دونوں نہ دے سکے ایسی قربانی دیامر کے عوام سے لی گئی اپنے ہزار وں سالہ تاریخ ابا و اجداد کے باقیات ایک تہزیب و تمدن ملک کے خاطر قربان کردی پھر اسی قوم کے ساتھ کیا ہوا سب کے سامنے ہے مٹی کے بہاؤ سرسبز و شاداب زرعی اراضی ہتھیا لی گئی چھت چھینا گیا اب سر چھپانے کیلے چھت نصیب ہوگا بھی یا نہیں کوئی علم نہیں ہے مگر کم ازکم ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی ملک کے تقدیر بدلنے میں معاون ثابت ہوگی واٹر سٹوریج کی شکل میں آبی قلت کے پچاس فیصد ضروریات پورے ہو جاینگے۔بنجر زمینیں آباد ہونگے صنعتوں کو وسعت ملے گی اندھیرے اجالوں میں تبدیل ہو نگے ملک کے گرتی ہوئی معیشت کو سہارا مل جائے گا دیامر کے عوام نے تو ملک کو یہ سب کچھ دیا مگر سوال یہ ہے کہ اس کے بدلے میں دیامر کے عوام کو کیا ملا؟کدھر گئے وہ دودھ اور شہد کے نہرے؟کوئی ایک بچہ دیکھائے جس کو سکالر شپ ملاہو ؟فی چولہا کے حساب سے معقول رقم کی ادائے گی کے وعدے کیوں پورے نہیں ہوئے؟شفا فیت ایمانداری اور املاک کی پوری ادائے گی ہوئی؟کیسے عوامی ملکیتی سترا ہزار زمین خالصہ سرکار قرار دیا؟ خیر دنیاں کا اصول رہا ہے جس سے کچھ لیا جاتا ہے تو بدلے میں بھی تھوڑی بہت ادائے گی ہوتی ہے مگر یہاں تو معا ملہ عجیب و غریب ہے جس زمین میں ملک و ملت کا مستقبل محفوظ ہے اس زمین میں احساس محرومی اور بے چینی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ لوگوں کو اپنے اس تاریخی قربانی پر ندامت ہونے لگی ہے صرف ایک انتظامی تقسیم ہے جس کو بینس کا سر بنا یا ہوا ہے باوجود اس کے کہ سخت انتظامی مشکلات کا سامنا ہے جس علاقے کو تین اضلاع میں تقسیم کرنا چا ہیے بر سوں سے ایک ہی ضلع کی شکل میں رکھا گیا ہے اب دیامر سے ملک کو اتنا سب کچھ مل رہا ہے تو بدلے میں ایک اضا فی ضلع کونسا مشکل کام ہے فنڈز کے کمی کا بہانہ صر ف دیامر کیلے بالکل انوکھا اور جانبدارانہ ہوگا باقی اضلاع کو انتظامی سہولیات کے فراہمی کے وقت فنڈز کہاں سے آئے تھے؟خیر اب دیامر کے انتظامی تقسیم کے حوالے سے فنڈز کی کمی نہیں ہے اگر صوبائی حکومت شگر کھرمنگ اور ہنزہ نگر کے اضلاع کیلے وفاق سے فنڈز منظور کراسکتی ہے صرف دیامر کیلے مسلہ ہے تو دیامر سے جنریٹڈ فنڈز موجود ہے عمارتی لکڑی کے جر مانے کی مد میں جو رقم سرکار کے خزانے میں جمع ہے اس کو کرپشن کے نظر کرنے کے بجائے دیامر کے انتظامی تقسیم میں خرچ کرکے ضلع داریل تانگیر کا اعلان کریں اگر اس سے بھی کم پڑ جائے تو واپڈا کے پاس متا ثرین کے اعتماد سازی کیلے ایک خطیر رقم موجود ہے اس میں سے بھی استعمال کریں مگر دیامر کو انتظامی طور پر دو حصوں میں تقسیم کریں کیوں کہ اس وقت دیامر کا سب سے بڑا مسلہ انتظامی تقسیم ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔