سکردو : سکردو پُل کی تعمیر کا کام دسمبر 2017 تک مکمل ہوگا۔ یگزیکٹو انجینئر عامر حسین

سکردو : سکردو پُل کی تعمیر کا کام دسمبر 2017 تک مکمل ہوگا۔ یگزیکٹو انجینئر عامر حسین

21 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سکردو ( رجب علی قمر ) دریائے سندھ پر بننے والی گلگت بلتستان کے سب سے بڑے برج چھومیک پُل کے پی ڈی ایگزیکٹو انجینئر عامر حسین نے میڈیا کو زیر تعمیر برج کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ 41 کروڑ لاگت سے بننے والی پُل پر تیزی کے ساتھ کام جاری ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ پُل کی تعمیر کا کام دسمبر 2017 میں پایہ تکمیل کو پہنچا سکیں۔ گلگت بلتستان کے سب سے بڑا پُل کے بارے میں اُنہوں نے کہا کہ پُل کی اوسط لمبائی905 فٹ ہے جو کہ 276 میٹر کا حساب بنتا ہے۔ اہم پُل کی تعمیر میں انتہائی اعلیٰ قسم کے میٹریل کا استعمال کیا جارہا ہے۔ 780 ٹن سریا اور 80 ہزار بیگ سیمنٹ استعمال ہوں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ پُل کی تعمیر سیلاب اور کسی بھی دریائی طغیانی اور پانی کے بہاؤ میں اضافہ کی صورت میں محفوظ طریقے سے بنایا جارہا ہے۔ ممکنہ ہائی فلڈ پلان کے تحت برج دریا ئے سندھ میں سال کے عین سیزن میں پانی کی آخری بہاؤ سے 20 فٹ اُونچا بنایا جارہا ہے جبکہ 27 سے زائد انڈر وال تیار کئے جاچکے ہیں جو کہ تقریبا 80 فٹ گہرائی سے پیلرز بنایا جارہا ہے۔ ایگزیکٹو انجینئر عامر حسین نے کہا کہ چھومیک پُل سے ملحقہ سکردو شہر سے جانے والی سڑک کے لئے 27 فٹ وسیع رقبے کے تحت بنایا جائے گا جس کے لئے خطیر رقم منظور ہوگئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ دریائے سندھ پر بننے والے تاریخی پُل کے بعد ضلع سکردو اور شگر کے درمیان سفری فاصلہ نصف ہوجائے گا اور 15 کلومیٹر میں سفر طے ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ بعض لوگ پُل کے بارے میں منفی پرو پیگنڈہ کررہے ہیں جو کہ صرف او ر صرف افسانہ ہے۔ پُل کے بننے کے بعد شگر تھنگ میں نیو سٹی آباد ہوں گے۔ 17 ہزار کنال پر پھیلے رقبے پر نیا شہر آباد ہوگا جس کے لئے پلاننگ کی اشد ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے حالات سازگار رہے تو پُل کی تعمیرجلد ہوگی۔ کریشنگ مشین بھی تنصیب کیا گیا ہے جبکہ تمام مٹیریل سٹاک کیا جارہا ہے تاکہ شاہراہ قراقرم کی ممکنہ بندش سے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا نہ پڑے سکیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔