محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں بھرتیوں کے وقت معذور افراد کی سلیکشن کے لئے میڈیکل بورڈتشکیل دیا جائے:مطالبہ

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں بھرتیوں کے وقت معذور افراد کی سلیکشن کے لئے میڈیکل بورڈتشکیل دیا جائے:مطالبہ

19 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

خصوصی رپورٹ : کریم اللہ

محکمہ تعلیم خیبر پختونخواہ میں اساتذہ کے سلیکشن کے دوران مغزور افراد کے انتخاب کے حوالے سے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے کیونکہ پبلک سروس کمیشن اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے دوران میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر مغزورافراد کی مغزوری کا فیصلہ ان کی صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا ہے جبکہ محکمہ تعلیم خیبر پختونخواہ میں اساتذہ کی سلیکشن کے دوران میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی بجائے محکمہ تعلیم کے افسران اپنی مرضی سے سرٹیفیکٹ کی بنیادوں پر اساتذہ کی بھرتیاں کرتے ہیں ۔جس کی وجہ سے اکثر اوقات سلیکشن کے دوران گھپلوں اور اقراباپروری کے امکانات سامنے آتے ہیں ۔ کیونکہ ایک تو معاشرے کے مغزور افراد کے لئے آٹے میں نمک کے برابر یعنی صرف دو فیصد کوٹہ دمختص ہیں لیکن ان میں بھی شفافیت کا عنصر ناپید ہوتا ہے ۔جس کی وجہ سے حقدار اپنا حق حاصل نہیں کرسکتے۔ گزشتہ چند سالوں میں کئی مغزور افراد اس دوفیصد کوٹے کے لئے دردر کی ٹھوکرین کھانے پر مجبورہیں۔جب اس سلسلے میں یہ مجبور اور ناتوان لوگ محکمہ تعلیم کے کسی آفیسر کے پاس جاتے ہیں تو یا تو ناک بھوں چڑھاتے ہیں یا سالانہ کوئی نیا قانون پیش کرتے ہیں ۔ دوہزار تیرہ اور دوہزار چودہ میں جب این ٹی ایس ٹسٹ ہوا تو مغزور وں کے لئے مختص کوٹہ محکمے کے اعلی عہدے داران کی ملی بھگت سے غیر متعلقہ فرد کو دیاگیا جس کے خلاف ایک متاثرہ شخص نے تین سال عدالتوں کے چکر کاٹنے کے بعد پشاورہائی کورٹ کا فیصلہ کے کر چترال آئے ہیں۔ اب محکمہ تعلیم نے جن لوگوں کووہ کوٹہ سیٹ غیر قانونی طورپر الاٹ کیاتھا ان کو ڈیموٹ یا برخاست کرنہیں سکتے۔ اگر حالیہ این ٹی ایس کا پوسٹ ان کو دیا گیا تو بھی قانونی جواز نہیں بنتا۔ کیونکہ ان کا ایک نیا میرٹ لسٹ بنتاہے ۔ جو کہ موجودہ حقداروں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی بھی ہے ،یہ مسئلہ یونہی سلجھانے سے رہے ۔ محکمہ تعلیم چترال کے جن آفسران نے دو برس قبل جس حقدار سے اس کا حق چھینا تھا ان کے خلاف تفتیش ہونی چاہئے تاکہ کسی سرکاری ملازم کو اپنی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے لوگوں کا حق چھیننے کی ہمت نہ ہوسکے۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ این ٹی ایس ٹسٹ کے بعد جب میرٹ لسٹ لاگوہوتا ہے تو اس میں مغزوروں کا میرٹ لسٹ اویزان نہیں ہوتا کسی بھی امیدوار کو میرٹ لسٹ میں ان کے نام کا پتہ نہیں چلتا جس کی وجہ سے میرٹ کی پامالیاں ہوتی ہے ۔

قانون کے مطابق جس ادارے میں بھی مغزور افراد کا انتخاب عمل میں آتا ہے تو مغزور افراد کی نشاندھی کے لئے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیاجاتاہے جو مغزوری کی نوعیت کا فیصلہ کرتے ہیں کہ آیا امیدوار پیدائشی مغزور ہے یا کہ بعد میں کسی حادثے کی وجہ سے مغزور ہوگئے ۔ قانون کے مطابق پیدائشی مغزور کو سو فیصد جبکہ حادثات میں مغزور ہونے والے افراد کو پچاس فیصد مغزوری کے نمبر دئیے جاتے ہیں۔ مغزور افراد یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ محکمہ برائے پرائمری وثانوی تعلیم خیبر پختونخواہ کو بھی چاہئے کہ اساتذہ کی حالیہ بھرتیوں میں بھی مغزوروں کے لئے مختص پوسٹوں کو جائز حقداروں تک ان کا حق پہنچانے کے لئے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دے تاکہ شفافیت کو برقرار رکھا جائے کیونکہ اکثر اوقات لوگ اپنی ذاتی تعلقات کو بروئے کار لاکر مغزوری سرٹیفکٹ تیار کرتے ہوئے مغزور افراد کے لئے مختص سیٹوں پر قبضہ جمالیتے ہیں ۔ مغزور افراد ای ڈی اوچترال سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ان مغزور افراد کی حالت زار پر رحم فرما کر بھرتی سے قبل میڈیکل بورڈ تشکیل دی جائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔