میری دھرتی کا سپوت ہی میری دھرتی کا مقروض ہے

میری دھرتی کا سپوت ہی میری دھرتی کا مقروض ہے

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان کے نوجوان دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے باصلاحیت نوجوانوں کے ہم پلہ ہیں  باوجود عصر حاضر کی تمام بنیادی سہولیات بلخصوص علم و ہنر سے محروم ہمارا آج کانوجوان اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر گلگت بلتستان کی تقدیر بدل سکتا ہے

المیہ یہ ہے کہ باصلاحیت مٹی- سماج- ثقافت – معتبر اقدار  سے محبت رکھنے کے باوجود گلگت بلتستان   میں موجود دو ہی سیاسی طبقات قوم پرستی اور وفاق ہرستی کے نظریات کو تاریخ کے آئینے میں دیکھنے اور انکی افادیت کو سمجھنے ان نظریات اور انکو فروغ دینے والے آکابرین کے کردار پر تحقیق سے بیگانے ہو کر انکی اندھی تقلید کےغلام ہوچکے ہیں جس کا نتیجہ شخصیت پرستی, سچ کا فقدان، جھوٹ, مبالغوں کا غلبہ اور معاشرتی شعور معاشرے کی بہتر تشکیل کے بجائے ہمارے معاشرے کی بہتر تصویر ان دو نظریات کی درمیان مسخ ہو گئی

نوجوانوں کی وفاق پرست اور قوم پرست جماعتوں کی اندھی تقلید کے غلبے کا ایک سبب تاریخ سے دوری بھی ہے. حقیقت یہ ہیں کہ  تاریخ ہی ہے جس سے ہم مسائل کی جڑ تک پہنچتے ہیں کہ ان مسائل کی ابتدا کہا سے ہوئی, اور یہ مسائل کن وجوہات سے پیدا ہوئے, اور ان مسائل کو حل کرنے کے لئے ماضی کا تجزیہ ہمیں تاریخ سے ہی ملتا ہے. اور ہمارے ہاں موجود ان دو نظریات کے پیروکاروں نے ہماری تاریخ کو مسخ کردیا جس سے ہماری قومی شناخت بھی گم ہو گئی ہے اور ہمارا آج کا نوجوان اپنی تاریخ کو ان نظریات کی عینک سے پڑھتا ہے.آج ہم بیک وقت پاکستانی بھی ہیں اور نہیں بھی ہیں اس شناخت کو متنازعہ رکھنے میں پاکستان میں رائج استحصالی نظام کے مختلف دھڑے جن میں فوج، عدلیہ، بیوروکریسی،سیاسی اور مذہبی جماعتیں اور میڈیا شامل ہے

کسی بھی قوم کو اسکی شناخت سے محروم کرنے کے لئیے سب سے پہلے انہیں انکے ماضی تاریخ سے کاٹ دیا جاتا ہے اسے متنازعہ رکھا جاتا ہے

گلگت بلتستان کے سیاسی آکابرین وا قوم پرست ہیں جو گلگت بلتستان کے نوجوانوں میں اپنی سیاست اور مفادات کی دکان کا کاروبار منافع بخش بنانا چاہتے ہیں اور انہیں قوم یا معاشرے کے اجتماعی اور تاریخی تسلسل سے کاٹ رہیے ہیں اس لئیے ہمارے معاشرے کی مثال آندھے, گونگے اور بہرے کی مانند ہوگی, اور اس معاشرے میں آندھی تقلید جیسے خطرناک امراض نے  جنم لے لیا  اور یوں ہمارے نوجوانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح جہاں بھی لے جانا چاہا وہ ایک جھنڈ کی شکل میں با آسانی لے جانے میں کامیاب رہیں. ماضی اور حال میں  پاکستان کے ساتھ بھی کچھ ایسے ہی کھیل کھیلے گئے جس کی کامیابی ہم پارلمینٹ میں موجود لوگوں کے اقتدار کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں . ہمارے ملک میں ایسی بہت سی قوم پرست, سیاسی, مذہبی, اور اصلاحی جماعتیں ہیں جو پچھلی کئی دھائیوں سے ہماری اس معصوم اور لاچار عوام کے ساتھ یہی کھیل کھیلتے ہوئے آرہی ہیں. ان لوگوں کے کھیل کا سب سے بڑا حصہ یہ ہے کہ ان مذہبی  سیاسی قوم پرست  جماعتوں نے ہمارے معاشرے کو اجتماعی تاریخ سے کاٹ کر انفرادی یا پھر ایک ہی جماعت اور تسلسل کے اکابرین اور لیڈروں کو علیحدہ علیحدہ کر کے لوگوں کے شعور میں شخصیت پرستی کا زہر گھول دیا ہے. ہم اپنے معاشرے میں ایسی کئی جماعتیں کا کردار دیکھ سکتے ہیں

حالانکہ اگر تاریخ کو پڑھا جائے تو ہمارے آکابرین ایک ہی مقصد کے لوگ تھے اور ان سب کا ایک ہی مقصد ” سامراج سے مظلوم انسانیت کی اور اپنے خطے کی مکمل آزادی ” تھا اور ساری جدوجہد اور ان کی قربانیاں آزاد تشخص طبقے کے لئے تھیں نہ کہ محض قوم, یا فرقے کی بنیاد پر الحاق پاکستان کے حامی

جبکہ دور حاضر کے آکابرین مذہبی سیاسی قوم پرست جماعتوں نے شخصیت پرستی اور تاریخی تسلسل سے معاشرے کو کاٹ کر عوام کے اندر پھوٹ, فرقہ پرستی, اندھی تقلید, اور معاشرے میں ایک ہی تاریخ کو پارہ پارہ کر کے ایک دوسرے سے نفرت جیسی برائیاں پیدا کر دی ہیں کیونکہ انکے استحصال اور اقتدار کے لئے ” تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو ” کی حکمت عملی بہت ہی اہم اور بنیادی ہے.

ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کے آج کے نوجوان پر لازم ہے کہ اگر وہ اپنے مٹی معاشرے سماج اور اقدار سے مخلص ہے جسکی وہ دعویداری بھی کرتے ہیں تو آج کے ان سیاسی قوم پرستی مذہبی استحصالی کھلاڑیوں کی علمی , سیاسی اور سماجی غلامی سے آزاد ہو کر تاریخ, سیاسیات اور سماجیات سے براہ راست تعلق پیدا کرے, اور حقائق اور نظریات تک عقلی, شعوری اور علمی رسوخ حاصل کرے. اگر آج کے نوجوان نے  اس بنیادی المیہ پر سستی, کاہلی دیکھا کر منہ پھیرا تو لوٹنا اس طبقے کی فطرت ہے اور ہماری آئندہ آنے والی تمام نسلیں نسل در نسل انکی غلام رہیں گی. اور اسکے زمہ دار آج کے گلگت بلتستان کا نوجوان ہوگا

گلگت بلتستان میں رائج  استحصالی نظام  میں طاقت ، وسائل اور اختیارات پر زیادہ سےزیادہ  اجارہ داری قائم کرنے کے لئے کشمکش جاری رہتی ہے۔ ہردھڑا اپنے آپ کو عوام کا نمائندہ اور خیر خواہ بنا کر پیش کرتا ہے  تاکہ عوام کی ہمدردی کو اپنے حق میں استعمال کرسکے ۔عوام کے جذبات کو ابھارنے کے لئے مذہب، جمہوریت، آزاد شناخت، احتساب اور ترقی جیسے مختلف نعروں کا بھی بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔

حیرانگی کی بات یہ ہے کہ آپس میں باہم دست و گریباں یہ تمام دھڑے رائج الوقت سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے استحصالی کردار پر ایک دوسرے کے ساتھ سو فیصد متفق ہیں اوراسی  کو معاشرے کی بقاء اور ترقی کا واحد زریعہ سمجھتے ہیں۔ اختلاف صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ نظام کی ڈرائیونگ سیٹ پر کون بیٹھے گا اور کس کا حصہ کتنا ہوگا۔  اس ضمن میں سب سے بڑا المیہ تب پیش آتا ہے جب معاشرے کا پڑھا لکھا ، ذہین اورباصلاحیت نوجوان مختلف عنوانات کے تحت ان میں سے کسی ایک دھڑے کی حمایت میں اپنی ذہنی اور جسمانی  صلاحتیں استعمال کرنے لگتا ہے۔

کسی کے لئے جمہوریت کا عنوان کشش رکھتا ہے تو کوئی مذہب کے نعرےسے کوئی قوم پرستی سے متاثر ہوتا ہےاور کوئی کرپشن کےخاتمے اور گڈگورنس کے وعدوں میں ملک و قوم کی نجات تلاش کرتا ہے۔  یہ نوجوان اپنے علم اور صلاحیت کی بنیاد پر نہ صرف اپنی پسند کے دھڑے کے دفاع میں پرجوش دلیلیں دیتا ہے بلکہ اپنے دھڑے کو دوسروں سے کم برا اور برتر بھی قرار دیتا ہے۔ اپنے دھڑے کی خامی سامنے آنے پر وہ فورا مخالف دھڑے کی متوازی کمزوری سامنے لا کر اپنے دھڑے کی بالادستی اورپارسائی کو سند جواز بخشتا ہے۔
سابقہ برسر اقتدار پارٹی اور موجودہ برسر اقتدار پارٹی سے وابسطہ نوجوان یہی ہی کر رہے ہیں
حالیہ دنوں میں سماجی رابطہ واٹس اپ  whats app  پر گلگت بلتستان کے بہترین شخصیات پر مشتمل ایک گروپ گلگت بلتستان تھینکرز فورم میں زیر بحث موضوع ” کیا گلگت بلتستان کے نوجوان قوم ہرست نظریہ کی جانب راغب ہو رہیے ہیں ؟
اس پر میں نے قوم پرست نظریات کے حامل شخصیات کے سامنے دو سوالات پیش کئیے تھے

1- قوم پرست نظریہ کی تاریخ اور اسکی تشریح
2- آیا دین اسلام قوم پرستی کی اجازت دیتا ہیں کہ نییں اور اگر دیتا ہیں تو اسکی تعریف

میرے ان سوالات کا  چند ایک دوستوں نے تسلی بخش ہی نہیں بہترین جوابات سے میرے علم میں اضافہ کیا مجھے ان قابل احترام علمی شخصیات کے نام یاد نہیں جس پر میں ان سے معزرت خواہ ہوں . باقی تمام دوستوں نے شدت پسند سوچ سے مجبور ہو کر مجھے مختلف القابات سے نوازا القابات غیر شائستہ نییں تھے
ضرورت اس امر کی ہیں کہ
گلگت بلتستان کا آج کا نوجوان بلخصوص سرکاری اہلکار بیوروکریسی – ڈاکٹرذ – وکلاء  اپنی  قابلیت اور دائرہ کار حلقہ اثر کے ساتھ  عملی جدوجہد سے اپنے معاشرے میں موجودہ نظام کو قابل اصلاح بنانے کے فرائض سرانجام دے نہ کہ اپنی سستی شہرت اور مہزب فلاح انسانیت کے پیشوں کو خالصتا کاروباری بنیادوں اور سرکاری اہلکار بیروکریسی حکومتی و سیاسی آکابرین کے درباری کا کردار نبھائے-
گلگت بلتستان کے سرکاری اہلکار- بیوروکریسی محکمانہ قوانیین کے دائرہ کار اور آپس میں مربوط روابط میں رہ کر  اگر سماج کے خادم بن جائے اپنے زور بازو پر بھروسہ کر کے کوئی اجتماعی شعوری  جدوجہد کا آغاز  کریں تو یقین جانئیے۔ وہ یہ سب کام اپنے تئیں ملک و قوم اورمعاشرے کی بہتری کے لئے ہی سر انجام دینگے جس کے خواب عوام کو وفاق پرست سیاسی- قوم پرست – مزہبی آکابرین دیکھاتے آئے ہیں –

مگر صد افسوس کہ ہمارے مٹی کے سپوت سرکاری اہلکار . بیوروکریٹ اکثریتی حکومتی و سیاسی آکابرین کے درباریوں کا کردار ادا کر رہیے ہیں اور انکی سربراہی میں اپنے اداروں میں میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہیں-

انکا مواخذہ کرنے والے میرے اہل قلم بھائیوں میں بہت سارے مواخذہ کرنے کا جزبہ رکھنے کے باوجود  اداروں کے مالکان کی وضع کردہ پالیسوں کی وجہ سے مواخذہ کرنے میں بے بس ہیں اور کچھ صحافی بھائی بہتی گنگا سے فیض یاب .

ان حالات میں وقت گزرنے کے ساتھ سیاسی، معاشی اور سماجی حالات بدسےبدتر ہوتے جاتے ہیں  معاشرتی حوالے سے کسی بھی قسم کی بہتری کی امید دم توڑنے لگتی ہے جس سے وہ نوجوان جو زیر تربیت زیر علم ہوتا ہے اسکے  مزاج میں ایک جھنجھلاہٹ اوربیزاری کا غلبہ ہونے لگتا ہے۔ کسی وقت میں انتہائی پرامید رہنے والا یہ نوجوان خود مایوسی کی تصویر بننے لگتا ہے۔ چونکہ تاریخ معاشرت سماجیت سامراجیت معاشیت کے علم سے ناآشنائی کی وجہ سے وہ موجودہ  درپیش حالات سے مایوس رہتا ہی ہے اور جس محفل میں شریک ہوتا ہے وہاں بھی اپنے موجودہ معاشرتی سیاسی ‘ علم’، ‘تجربے’ اور ‘فلسفے’ کی بنیاد مایوسی، بے عملی اورمنفی ذہنیت پروان چڑھانے کا باعث بنتا ہے اور اپنے جیسے  مزید کئی نوجوانوں کی فکر وعمل میں بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہمارا نوجوان جذباتیت،مایوسی، سطحی مطالعے و مشاہدے  اور جلد بازی  کے رويوں سے بچتے ہوئےمعاشرے میں  رائج سرمایہ داری نظام، اس کے مختلف اداروں اور ان کے باہمی تعلقات کا شعوری ادراک حاصل کرے۔ جہاں جہاں جس بھی ادارے میں میرٹ کی پامالی ہوتی ہیں ان محرکات اور ان کالی بھیڑیوں کے خلاف مل کر پرامن مہزب احتجاج کا راستہ اپنائے
کھلے اور مثبت ذہن کے ساتھ مطالعے، غوروفکر اور باہمی مکالمے کے عمل  کو آگے بڑھائے۔
اپنے وقت کو قیمتی اور کارآمد بنائے  اور رائج الوقت استحصالی نظام کے خاتمےکے لئے جس باصلاحیت اور باشعور اجتماعیت کی ضرورت ہے، اس کے قیام میں اپنا کردار ادا کرے اپنی سوچ سے شدت پسندی کو ختم کر کے

قوموں کی زندہ رہنے کے لیے نوجوان نسل کی تربیت بہت ضروری ہے اور ہم کو اپنی نوجوان نسل کو سکھانا ہو گا کہ وہ دنیا کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں ان کو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال سکھانا ہو گا تعلیم کے میدان میں ہم بہت پیچھے ہیں ہم آج بھی لارڈ میکالے کا بنایا ہوا نصاب تعلیم استعمال کر رہے ہیں  ہماری نوجوان نسل کو خود محنت کرنا ہو گی کتب بینی کا شوق پالنا ہو گا تحقیق کو عادت بنانا ہو گا خدا کے لیے میری قوم کے جوانوں اپنے آپ کو بدلو آپکے بدلنے سے گلگت بلتستان بدلے گا آپکی جدوجہد سے گلگت بلتستان کا آنے والا کل روشن ہوگا آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ ہوگا

یاد رہیں وقت ابھی آپکی مٹھی میں ہے وقت کی قدر کریں وقت منصف بھی ہیں وقت نوازتا بھی ہیں اور یہ وقت ہی ہیں جو رولاتا بھی ہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔