ملکی دفاع کے غازیوں کی ایک جوڑی (یوسف عشور اور اسکی شریک حیات)

انجنئیر شبیر حسین

پاکستان بھر میں آج یوم دفاع اس عہد کے ساتھ منایا جا رہا ہے ، کہ مملکت خداداد پاکستان کو تمام تر بیرونی و اندرونی دشمن کی شر سے محفوظ رکھنے کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا ، اسی مناسبت سے آج ایک دوست جو 1999 کی کارگل جنگ کے غازی ہیں کو فون کیا ، تاکہ انہیں ان کی قربانی پر خراج تحسین پیش کر سکوں ، دوست کا نام یوسف عاشور ہے ، جو کھرمنگ کے سرحدی گاوں مرول سے تعلق رکھتے ہیں ،اپنے گاوں مرول سے پرائمری پاس کر نے کیبعد مڈل سکول کی تعلیم کے حصول کیلئے موصوف کیونکہ میرے گاوں آگئے تھے اور ایک ہی سکول میں زیر تعلیم تھے اور اسی لئیے ان سے اچھی دوستی بھی تھی، وہ مجھ سے ایک کلاس سینئیر تھے ، ہنس مکھ ، ایک جاندار اور بھرپور زندگی گزارنے والے یوسف عشورمڈل سکول ترکتی سے آٹھویں جماعت پاس کرنے کیبعد ہم دور ہو گئے۔ بعد ازاں وہ فوج میں چلے گئے، 1999 کا خونی سال تھا، جس میں گلگت بلتستان کی بہادر آرمی ناردرن لائیٹ انفنٹری(این ایل آئی )نے قربانی کی عظیم داستانیں رقم کیں ، کارگل کی چوٹیاں فتح کر لیں ، یہ الگ بات ہے کہ بعد میں سول قیادت نے کلنٹن کے ساتھ تصویر کھچوانے کی قیمت پر سارا علاقہ سرنڈر کیا ، اسی جنگ میں یوسف عشور حمزی گوں چھاونی میں دشمن کے بھاری گولہ باری مین ذد میں آکر شدید ذخمی ہوئے ، اگرچہ ان کی جان بچ گئی مگر وہ زندگی بھر کیلئے مؑزار ہو گئے، ان کی ریڑھ کی ہڈی میں شیل (گولے کا ٹکڑا) پیوست ہونے کی وجہ سے ان کے جسم کا نچلا حصہ شل ہو گیا اور وہ چلنے پھرنے ، اٹھنے بیٹھنے سے معزور ہو گیا ، 19 سال گزر گئے یوسف عاشور ایک وہیل چئیر کے سہارے زندگی گزار کر ہے ملک کیلئے عظیم قربانی کا نشان بنے ہوئے ہیں ۔ آج ان سے فون پر بات ہوئی تو ماضی ایک بار پھر نظروں کے سامنے گھوم گئی اورنظروں کے سامنے ہنستا کھیلتا ، چلتا پھرتا ، زندگی سے بھرپور ، شوخ و چنچل یوسف عاشور کی ویڈیو فلم چل گئی۔

میں نے مضمون میں غازیوں کا جوڑا لکھا ہے، جب یوسف بیس سال کے تھے تب وہ زخمی ہوئے ، اس وقت وہ شادی شدہ تھے اور اس کی شریک حیات کی عمرانیس سال تھی، یوسف کا زخمی یوسف کے خاندان کے ساتھ ساتھ اس کی انیس سالہ شریک حیات کیلئے ایک بڑے امتحان سے کم نہ تھا ، یوسف اب مکمل معزور ہو چکا تھا، اس کی کوئی اولاد بھی نہیں تھی ، اب اس معذوری کیبعد آگے بھی کسی امکان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، لڑکی جوان تھی ، یوسف کے گھر والوں اور پہاڑ جیسا حوصلہ رکھنے والے یوسف عاشور نے اپنی شریک حیات کو سمجھایا ، اور کہا کہ تم جوان ہو اور تمہاری ساری زندگی پڑی ہوئی ہے، تم یوسف کو چھوڑ دو اور دوسری شادی کر لو ، تم صاحب اولاد ہو جاو گی ، اور اچھی زندگی گزر جائے گی، معزورغازی یوسف عشور کیلئے اگرچہ یہ لمحہ بہت کٹھن ہو گا مگرقربانی کے جذبے سے سرشار یوسف نے کہ دیا کہ میں تمہارے بغیر جی لوں گا ، میری خواہش ہے تم اچھی زندگی گزار لو ، مگر وہ وفادار عورت ڈٹ گئی اور اپنے شوہر کو چھوڑ کر کہیں جانے سے انکار کر دیا ، آج انیس سال گر گئے ،تب19 سال کی عظیم غازیہ اب 38 سال کی ہو گئی ، اور وہ قربانی کی عظیم تاریخ رقم کرتی جا رہی ہے، اسی لئیے میں قربانی کے اس عظیم استعارے کو” غازیوں کی جوڑی” سے تعبیر کرتا ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ جتنی بڑی قربانی غازی یوسف کی ہے اتنی ہی بڑی قربانی اس کی شریک حیات کی ہے۔ ہمین چاہیئے کہ ایسے مواقع پہ جب ہم شہیئدوں غازیوں کی قربانی کی یادیں مناتے ہیں تب اس طرح کے عظیم لوگوں کی قربانیوں کو بھی نہیں بھولنی چاہیے، مجھے نہیں معلوم پاک آرمی کی طرف سے کوئی ان کے پاس گیا یا نہیں گیا ،میں نہیں جانتا سول ایڈمنسٹریشن کی طرف سے ان سے کوئی ملا یا نہیں ملا ، میں نہیں جانتا ان کو کسی یوم دفاع کی تقریب میں مدعو کیا یا نہیں کیا مگر میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ یہ جوڑا قربانی کا استعارہ ہے ، اور یہ خاتوں پاکستان آرمی کی طرف سے میڈل کی حقدار ہے ۔ اگرچہ اتنا بڑا دل جگر رکھنے والے لوگ میڈل اور انعامات کے بھوکے نہیں ہوتے ، مگر ایسا کرنے سے شاید اور بہت ساروں میں ملک کیلئے قربانی دینے کا جذبہ بیدار ہو ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments