خاکی لفافے تک کا سفر

خاکی لفافے تک کا سفر

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اُس نے گاڑی میں بیٹھتے ہی کہا کل میری طرف سے دعوت ہے۔ دعوت کہاں پہ کرنی ہے وہ آپ منتخب کر۔ خیر تو ہے بڑی دعوتوں کے اعلان ہو رہے ہیں۔ اُس نے گاڑی کے ڈیش بورڈ پر رکھے ڈبے سے ٹشو نکالتے ہوئے کہا ایڈوانس کامیابی کی دعوت میں نے جو ٹیسٹ اور انٹرویو دیا ہے وہ بہت اچھا ہوا ہے ۔ مجھے سو فیصد یقین ہے اس بار میں کامیاب ضرور ہو جاؤنگا۔

خدا کریں آپ کامیاب رہومیری دُعا پر اس نے امین کہا۔ اتنے میں اس کے موبائل پر ایس ایم ایس موصول ہوا۔ ایس ایم ایس پڑھتے ہی اس نے گاڑی کو ایک سرکاری دفتر کی طرف لیجانے کا کہا۔میں نے گاڑی متعلقہ سرکاری آفس کی طرف موڑ دی۔ میری رفتا ر سے وہ مطمئن نہیں تھا۔وہ جلدی اس سرکاری دفتر میں پہنچنا چاہتا تھا۔اسکی پریشانی کو بھانپتے ہوئے میں نے گاڑی کی رفتار تیز کر دی۔تیس منٹ کی ڈرائیونگ کے بعد ہم اس سرکاری دفتر کے پاس پہنچ گئے۔میں نے گاڑی پارک کی اور وہ بڑی تیزی کے ساتھ گاڑی سے اُتر گیا اور سرکاری دفتر کے سامنے لگے ہجوم میں گُم ہو گیا۔ کچھ دیر بعد اس کو گاڑی کی طرف آتے ہوئے دیکھا اس کے بوجھل قدموں سے اندازہ لگانا مشکل نہیں رہا کہ میرا یار اَب کے پھر ناکام ہوا ہے۔میں نے گاڑی سٹارٹ کی ، وہ آیا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اس کی نظر میں اب بھی ہجوم کی طرف تھی ۔ میں نے گاڑی تیز کر دی اور اس ہجوم سے دور نکل گئے۔میرے دوست کے چہرے پر بارہ بج رہے تھے اور بلکل خاموش تھا۔گاڑی میں مکمل خاموشی چھائی رہی اور میں نے اس خاموشی کو توڑنے کی کوشش کئے بغیر گاڑی ایک پکنک پوائنٹ کی طرف موڑ دی جہاں اکثر ہم چائے پینے جایا کرتے ہیں گاڑی پارک کی اور ہم چائے کا آرڈر دیکر بیٹھ گئے۔اُس کے چہرے پر اب بھی افسردگی کا راج تھا۔ مجھے اپنے دوست کی ناکامی پر بہت افسوس اور دُکھ ہو رہا تھا۔یہ بہت ذہین اور قابل انسان ہے۔مالی مشکلات کو اُس نے اپنے تعلیم پر حاوی ہونے نہیں دیا اوراپنی تعلیم مکمل کردی۔متعلقہ محکمے میں ٹیسٹ کی تیاری کیلئے 2 تین مہینوں سے یہ انڈر گراؤنڈ تھا۔اس کی ناکامی کا علم ہونے کے باوجود انجان بننے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا جناب کے چہرے پہ کیوں بارہ بجے ہیں۔ اس نے چائے کی ایک چسکی لی اور کہا جناب پھر ناکام ہو گیا۔ اوہ ۔۔۔ بہت بُرا!۔اگلی دفعہ پھر محنت کرنا کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔میں نے اُس کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔دُکھ اس بات کا ہو رہا ہے کہ لسٹ میں اُن کا نام بھی تھا جو محنت اور کتابوں سے دور رہنا پسند کرتے تھے۔مجھے اپنے قابلیت پر پورا یقین تھا اور ہے لیکن آج کی لیسٹ دیکھ کر مایوسی کی دریا میں ڈوب ہی گیا۔میں نے ایک دفع پھر اس کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا اگلی دفعہ اس سے بہتر محنت کرو، کامیاب ہو جاؤگے۔میرے اس جملے پر وہ چونک کر میری طرف دیکھنے لگا اور قدرے غصے میں کہا آپ کو لگتاہے میں نے محنت نہیں کی ہے۔ میں نے نفی میں سر ہلایا۔آپ کو لگتا ہے میں نے محنت کم کی ہے۔ ہاں اگر مجھ سے بھی ذیادہ کسی نے محنت کی ہوگی بھی تو وہ بھی میری طرح ناکام ہو ا ہوگا۔کامیاب ہونے والوں کی محنت کا بھی مجھے پتہ ہے۔یار اب تو پڑھائی ، محنت ان چیزوں سے دل بھر گیا ہے۔مجھے لگتا ہے میرے میرٹ پر کسی وزیر یا سیاسی رہنما کاسایہ پڑھاہوگا جو فیصلہ کرنے والوں کو نظر نہ آیا ہوگا یا شاید کسی خاکی لفافے نے میرا نام۔۔۔۔ اس نے جملہ مکمل کئے بغیر کرسی سے کھڑا ہوا۔دریا کی طرف نظریں گاڑتے ہوئے کہا میرے بھائی جہاں میرٹ کے جنازے نکلتے ہو وہاں کتابوں کو ہضم کرنے سے بھی کچھ نہیں ہوتا۔جہاں 10000 کے بل کیلئے بھیدو ہزار رشوت دینی پڑے اور اپنے جائز کام کیلئے بھی افسروں کے جیب گرم کرنے پڑے وہاں ہماری محنت کسی کام نہیں آتی۔میرے جیسے غریب لوگوں کے پیچھے کوئی سیاسی طاقت نہیں یا میرے پاس خاکی لفافے کی طاقت نہیں۔ اسلئے میں ناکام ہو۔ ان کو کیا پتہ جو سیاسی شخصیات اور وزیروں کے کہنے پر دوسروں کا حق چھین لیتے ہیں یا ان کو کیا خبر جو خاکی لفافے دیکر ہم جیسے غریبوں کے حق دوسروں کو دیتے ہیں کہ ایک غریب شخص کیلئے اس خاکی لفافے تک کا سفر کتنا اذیت ناک ہوتا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔