روداد مشاعرہ

روداد مشاعرہ

30 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:جمشید خان دکھی

حلقہ ارباب ذوق(حاذ)گلگت کے زیر اہتمام ماہانہ مشاعرہ26فروری2017کوریویریا ہوٹل گلگت میں منعقد ہوا جس میں پروفیسر محمد امین ضیا، خوشی محمد طارق، عبدالخالق تاج، حفیظ شاکر، غلام عباس نسیم، فاروقیصر، نذیر حسین نذیر، عزیز الرحمان، ملنگی، نیت شاہ، قلندر تہذیب برچہ، عباس صابر، شیر عالم حیدری، سید تنصیرعلی، جمیل امنگ اور جمشید خان دکھی نے شرکت کی۔ نظامت کے فرائض غلام عباس نسیم نے انجام دئے۔ اس مشاعرے کے مہمان خصوصی محترم بشیر صاحب ز ونل منیجر ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن جبکہ میرمحفل معروف شاعر اور کئی کتابوں کے مصنف جناب خوشی محمد طارق تھے جو کہ حاذ کے نائب صدر بھی ہیں اور ایک عرصے سے بیمار ہونے کی وجہ سے مشاعروں سے غیر حاضر رہے ہیں۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے جناب بشیر صاحب نے کہا کہ ایک عرصے تک حاذ سے دور رہ کر شدید کمی محسوس کی اور آئندہ انشاء اللہ یہ مواقع مزید ملیں گے۔مشاعرے کے آخر میں محمد علی شیخ ممبر قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ معروف صحافی راجہ حسین خان مقپون کی برسی کے حوالے سے سے بھی فاتحہ خوانی کی گئی۔

معروف شاعر عبدالخالق تاج، عزیزالرحمان ملنگی، نذیرحسین نذیر، غلام عباس صابر نے شینا میں اپنا خوبصورت کلام سنا کر سامعین سے خوب داد حاصل کی۔ یاد رہے کہ پچھلے مشاعرے کا مصرعہ طرح درج ذیل شعر کا پس مصرعہ تھا۔

جو میں کہہ دوں تو سمجھا جائے مجھ کو دار کے قابل

’’جو تو کہدے تو تیری بزم کا دستور بن جائے‘‘

جن شعراء کرام نے اردو طرحی اور غیر طرحی کلام سنایا ان کا نمونہ کلام نذر قارئین کیا جاتا ہے:

پروفیسر محمد امین ضیاء
اگر بیدار ہو دل چشم بینا نور بن جائے
ترے سر پر کھڑا کوہسار کوہ طور بن جائے

خوشی محمد طارق
کرامت ہے جمال یار کے رخشندہ جلوؤں کی
اندھیروں میں میرا یہ دل چراغ طور بن جائے

حفیظ شاکر
مداوا لازمی کرنا ہے اخلاقی عوارض کا
کہیں ایسا نہ ہو قومی بدن ناسور بن جائے

غلام عباس نسیم
غریب شہر سچ بولے تو سب پاگل سمجھتے ہیں
امیر شہر کا جھوٹا بیاں منشور بن جائے

شیر عالم حیدری
عیاں رہتا ہے اک خدشہ جو تو بن ٹھن کے بن آئے
تجلی سے تیرے جل کے نہ کوہ طور بن جائے

تہذیب برچہ
حیا کی اوٹ میں قوس و قزح کے رنگ ابھرتے ہیں
توجہ عارض جاناں پہ جب مذکور ہوجائے

فاروق قیصر
یہ کیا ممکن ہے قیصر شہر کے مکار لوگوں میں
خوشی سے دار پہ چڑھ کر کوئی منصور بن جائے

جمشید خان دکھی
جو محنت کش ہے اے لوگو!خدا کا دوست کہلائے
نشانہ طعن و تشنیع کا نہ پھر مزدور بن جائے
دکھیؔ ! مہرو وفا، برداشت اور اخلاص پر مبنی
نہ جانے کب ہمارے دیس کا دستور بن جائے

نیت شاہ قلندر
کیوں کسی کی راہ میں دیوار بن جائیں نیت
پیار کرنا ہر کسی کا حق ہے تمہاری طرح

سید تنصیر علی شاہ
سب یہاں پہ بکاؤ ہیں یعنی
اپنی اپنی سبھی کی قیمت ہے

اگلے مشاعرے کیلئے صدر حلقہ کی جانب سے کسی نا معلوم شاعر کے درج ذیل شعر کا پس مصرعہ بطور طرح دیا گیا ہے جسمیں ’’جہاں‘‘ قافیہ ہے اور ’’سے الگ‘‘ ردیف:
دو جہاں چھوڑ کر ملو اس سے
“وہ کہ رہتا ہے دو جہاں سے الگ”

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments