متاثرین ڈیم کی آبادکاری اور مسائل

متاثرین ڈیم کی آبادکاری اور مسائل

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گزشتہ دنوں گوہر آباد کے عمائدین نے چلاس پریس کلب میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سگہ سل داس کا ایوارڈ ہمیں منظور نہیں ہے چو نکہ ایوارڈ کے تیاری میں ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا اور ہمارے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات یا ڈائیلاگ سگہ سل داس کے حوالے سے کبھی نہیں ہوئے جو کچھ بھی کاروائی مزکورہ داس کے حوالے سے ہوئی ہے یکطرفہ بنیادوں پر عمل میں لائی گئی ہے اور ایوارڈ چوری چھپے بند کمروں میں تیار کیا گیا ہے لہذا اس ظا لمانہ اقدام کو واپس لیا جائے چو نکہ سگہ سل داس کو ہم کسی بھی صورت میں سرکار کو دینے کیلے تیار نہیں ہیں البتہ تین داسز جس کے حوالے سے انتظامیہ کو مطلع کیا گیا ہے وہاں پر کالونی بنائے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے اب حیرانگی اس بات پر ہے کہ پورے ضلع کے میدانی اراضی بخوشی دیامر ڈیم پروجیکٹ کیلے معمولی قیمت پر فروخت کیا جا چکا ہے مگر سگسہ سل کے اس ریتلے زمین کے اندر کیا مدفن ہے ساتھ بادشاہوں کے خزینہ یا تیل کے چشمے کہ گو ہر آباد کے عوام اس داس کو فرو خت کرنے کیلے بالکل تیار نہیں ہے البتہ جن تین داسز کا زکر ہے جو واپڈا کالونی کیلے گوہر آباد کے عوام دینے کو تیار ہیں وہ بھی مشروط طور پر کہ اس میں ماڈل کالونیاں صرف اور صرف گوہر آباد کے متا ثرین کیلے بنا ئے جائے ۔گویا کہ اس کالونی میں دیامر بھا شہ ڈیم متا ثرین کیلے جگہ نہیں ہے صرف گوہر آباد سے تعلق رکھنے والے مخصوص متا ثرین کیلے جگہ ہوگی۔ دوسری طرف بٹو خیل قبائل چلاس ڈی ایچ کیو ہسپتال سے متصل زیرے تعمیر واپڈا کالونی پر اپنے حق کا عندیہ دے چکے ہیں ساتھ میں ایک تحریری معاہدے کی صورت میں کئی دستا ویزات کا بھی زکر ہے جس میں رہایشی کالونی کے علاوہ زرعی پلاٹس فی گھرانہ چند کنال کی بات بھی چل رہی ہے مذکورہ بنجر زمین بٹو خیل قبائل کو رہائیش بمع زرعت کیلے دیا گیا تو یہ قطعہ زمین مکمل طور پر پورا ہو جائے گا اس میں مذید متا ثرین کی آبادکاری کیلے بالکل گنجائش نہیں رہ جائے گا چونکہ اس داس میں پہلے سے ہی کئی منصوبے زیرے تعمیر ہے ہسپتال کالونی ایرپورٹ کے علاوہ مالکان میں آپسی تقسیم کی وجہ سے زمین بہت ہی کم باقی رہ چکی ہے اب ماڈل کالونیوں کیلے مذید کوئی جگہ نہیں بچتی ہے تھور ہڈور کھنبری کے جو متا ثرین بچتے ہیں ان کیلے کوئی جگہ باقی نہیں ہے چونکہ یہ علاقے مکمل طور پر میدانی علاقوں سے محروم ہو چکے ہیں ۔کیو نکہ پہلے سے ہی دیامر کے نوے فیصد بنجر اراضیات کا تصرف و ملکیت بٹوخیل کے پاس ہے یا تصور کرتے ہیں اب بٹوخیل اپنی جگہ پر خد ہی رہینگے دوسرے علاقے کے لوگوں کو برداش نہیں کرینگے ادھر گوہر آباد والے ایک انچ زمین دینے کیلے تیار نہیں ہیں تو ایسی صورت میں باقی متا ثرین کے مستقبل خطرے میں پڑنا یقینی امر ہے چو نکہ واپڈا بھی آبادکاری کے حوالے سے کوئی خاص مخلصی نہیں دیکھا رہا ہے حلہ بہانوں سے اس تمام جھنجٹ سے کنارہ کشی کیلے راستہ ڈھونڈ رہا ہے ایسی صورت میں پاکستان کیلے قربانی دینے والے فیز ون کے متا ثرین جو پہلے سے ہی کم ریٹس کی وجہ سے انتہائی تحفظات رکھتے ہیں اور ان کیلے مذید مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اگر نوے فیصد بنجر اراضیات رکھنے والے قبائل اپنے زمینوں پر کسی اور کو برداشت نہیں کرینگے تو ظاہرہے ایک مسلہ اٹھ کھڑا ہو گا ۔ سر کاری اعداد وشمار کے مطابق ساڑھے چار ہزار گھرانے دیامر ڈیم سے متا ثر ہونگے لیکن یہ تعداد اس سے زیادہ ہے اور اس میں سے تقریباً ادھی تعداد فیز ون ہڈور کھنبری اور تھور کے متا ثرین کی ہے گویا کہ اس وقت واپڈا کے پاس ادھے متا ثرین کو ریسٹل کرنے کیلے زمین نہیں ہے ایسی صورت میں واپڈا کے پاس دو ہی راستے ہیں یا متا ثرین کو کسی اور شہر میں آباد کریں یا آبادکاری کی رقم متا ثرہ گھرانوں کے حساب سے متا ثرین کو نقد ہی ادا کریں تاکہ متا ثرین اپنے مر ضی سے آباد ہو سکے اور نویں فیصد عوام کی خواہش بھی یہی ہے کہ ان کو پنجاب میں ریسٹل کیا جائے اب سارھے چار ہزار کے ادھے لوگ بچتے ہیں جن کو با آسانی سے ریسٹل کیا جاسکتا ہے چلاس کے متا ثرین کو ماڈل کالونی چلاس میں ریسٹل کریں گوہر آباد والوں کو ان کے منشا کے مطابق سگہ سل کے قریب کہے بسائے اور تھور ہڈور اور کھنبری کے متا ثرین کو اسلام آباد کے قریب کوئی متا ثرین کالونی بناکر آباد کیا جائے اس سے فائدہ یہ ہو گا کہ ان علاقوں کے جو متا ثرین ہے ان کے تحفظات کم ریٹس اورمعاوضات کے ادائے گی کے حوالے سے تھے وہ ایک حد تک ازالے کے طور پر پورے ہو جانگیے۔چونکہ فیز ون تھور ہڈور اور کھنبری کے متا ثرین کے زمینوں کے معاوضات میں ریٹس انتہائی کم رہے ہیں بنسبت فیز ٹو اور فیز تھری کے اگر فیز ون کے متا ثرین کو ڈاون کنٹری میں کسی مناسب جگہ میں آباد کیا جائے تو اس سے ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ بھی ہو گا اور ساتھ میں زمین کے حصول کیلے پیدا ہو نے والی بدمذگی بھی اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔ورنا آنے والے دنوں میں عوام اور انتظا میہ کے درمیان توں تکرار کا سلسلہ شروع ہو گا جس سے مسائل پیدا ہو نگے چو نکہ پہلے سے ہی قبائلی چھپقلشوں کے صورت میں اتنے مسائل موجود ہیں مذید مسائل سے دیامر ڈیم کی تعمیر میں رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔