گلگت بلتستان میں‌پرائیویٹ‌سکولز کی بھرمار، قانون سازی کب ہوگی؟‌

تجزیاتی رپورٹ: محمد علی عالم

گلگت بلتستان میں پرائیویٹ سکولوں کے لئے اب تک سرکاری سطح پر کوئی قانون سازی نہیں کیا گیا ہے نہ ہی کوئی پالیسی مرتب کی گئی ہے جس سے پرائیوٹ سکولوں کی رجسٹریشن کا عمل لٹکا ہوا ہے گلگت بلتستان کے ہر گلی کوچے میں پرائیویٹ سکولوں کی بھرمار ہے چند بڑے سکولوں کے علاوہ کسی پرائیویٹ سکول کا کوئی ضابطہ اخلاق موجود ہے نہ ہی سکول کا کوئی معیار ہے متعدد سکولوں میں دو ہزار روپے تنخواہ دے کر میٹرک پاس  ٹیچرز رکھے ہوئے ہیں اور سکول کی بلڈنگ کا بھی کوئی معیار نہیں ہے اس وقت گلگت بلتستان میں پرائیویٹ سکول ایک بہترین کاروبار بنا ہوا ہے ہزاروں روپے فیس لیتے ہیں اس کے علاوہ ہر سال مخلتف مد میں ہزاروں روپے بٹورتے ہیں سالانہ فیسوں میں مرضی سے اضافہ کرتے ہیں پرائیوٹ سکول ایک مافیا بنا ہوا ہے جس کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر محکمہ تعلیم کے ایک اہم سرکاری آفیسر نے بتایا بلتستان میں تین سو سے زائد پرائیوٹ سکول ہے جس میں سے تقریباً پچاس کے قریب سکول محکمہ تعلیم کے پاس رجسٹرڈ ہے محکمہ تعلیم نے اپنی سطح پر ایک پالیسی بنایا ہوا ہے جس کے تحت رجسٹرڈ کرتے ہیں شرائط پر اترنے والے سکولوں کو سالانہ گرانٹ دیتے ہیں محکمے کے پاس سالانہ ٹوٹل ڈھائی لاکھ روپے مخصوص بجٹ ہوتا ہے 2019 میں صرف دس سکولوں نے رزلٹ کاونٹر سائنٹ کیا ہے آفیسر نے یہ انکشاف کیا کہ اگر متعدد پرائیوٹ سکولوں کا وہ معیار نہیں ہے جو ایک پرائیوٹ سکول کا ہونا چاہیے سرکاری سطح پر انکی نگرانی شروع کیا جائے تو پچاس فیصد بند ہو جائے گا پرائیوٹ سکول مرضی کے مالک ہے نگرانی کا کوئی عمل نہیں ہے تعلیمی کارکردگی کو دیکھنے کے لئے سرکاری کسی آفیسر نے آج تک کسی سکول کا دورہ کر کے معائنہ نہیں کیا ہے مخلتف سکولوں کا پالیسی الگ الگ ہے اٹھارہ ترمیم سے پہلے ایجوکیشن سسٹم وفاق کے پاس تھا جس کے تحت محکمہ تعلیم نے سکولوں کو رجسٹرڈ کیا تاہم اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو دیا گیا پھر کوئی پالیسی مرتب نہیں کی گئی اس حوالے سے ہم نے صوبائی وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ وزارت تعلیم گلگت بلتستان نے پرائیویٹ سکول ایکٹ کا مسودہ تین سال پہلے تیار کر کے صوبائی کابینہ سے پاس کیا ہے اس کو اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کیا ہوا ہے تاہم ابھی تک اسمبلی اجلاس میں نہیں لایا گیا ہے پرائیوٹ سکول مالکان کا لوبی اس قدر طاقتور ہے کہ اس بل کو پاس ہونے نہیں دیا جا رہا ہے اگر بل پاس ہر کر قانون بن گیا تو ان پر چیک اینڈ بیلنس ہو گا نگرانی کا عمل شروع ہو گا تو مالکان کی بدمعاشی ختم ہو جائے گی خود ساختہ فیسوں میں اضافہ کرنے کا سلسلہ رک جائے گا جتنا پرائیوٹ سکولوں میں فیس لیتے ہیں اس حساب سے اس وقت پرائیویٹ سکولوں میں اساتذہ کی تنخواہ بہت کم ہے صوبائی حکومت نے مزدور کی اجرت کم از کم چودہ ہزار کر دیا ہے تاہم پرائیوٹ سکولوں میں بعض اساتذہ کو دو ہزار روپے دیتے ہیں وزیر تعلیم نے یہ بھی بتایا کہ بعض اراکین اسمبلی بھی اس بل کے مخالف ہے محکمہ تعلیم کے پاس پرائیوٹ سکولوں کو رجسٹرڈ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اگر کوئی کرتا ہے تو غیر قانونی ہے پرائیوٹ سکول ایسو سی ایشن بلتستان کے صدر افتخار علی نے بتایا کہ صوبائی وزارت تعلیم نے پرائیوٹ سکول ایکٹ کے مسودہ تیار کرتے وقت ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے اس سے انکی بدنیتی صاف ظاہر ہوتی ہے لہذا کسی صورت ہم نے یہ بل پاس ہونے نہیں دینا ہے تمام ممبران اسمبلی ہمارے ساتھ ہے ہمیں پورے بل پر اعتراض ہے بل کا پہلا جملہ غلط ہے جس پر ہمیں اعتراض ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ پرائیویٹ سکول اپنا نظام بہتر کریں ہم کہتے ہیں کہ صوبائی وزیر تعلیم اپنی سرکاری سکولوں کا نظام ٹھیک کریں والدین ہم پر اعتماد کر کے ہمارے پاس بچوں کو تعلیم کے لئے بھیجتے ہیں انہوں نے کہا کہ فیس، ودری اور سلیبس ہر سکول کا مخلتف ہے ایک جیسا ہونا ضروری نہیں ہے ہر سکول اپنی بجٹ کے تحت فیس پالیسی بناتے ہیں اس میں وہ آزاد ہے ہماری کابینہ کا اجلاس ہوتی ہے جس میں تمام ایشوز پر بات کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سکول گورنمنٹ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اس سلسلے میں پرائیویٹ سکولوں کو دیکھنے کے لئے ایک ایجوکیشن آفیسر موجود ہے جو پرائیویٹ سکولوں کے تمام چیزوں کو دیکھتے ہیں جو سکول رجسٹر نہیں وہ ہمارا ممبر نہیں ہے اگر پالیسی نہیں ہے تو صوبائی وزیر کیا کر رہے تھے اتنا عرصہ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا تھا وہ یہاں لاگو نہیں ہوتا۔  والدین کی نمائندگی کرتے ہوئے محمد علی نامی شخص نے بتایا کہ پرائیویٹ سکولوں میں جتنا فیس لیتا ہے اس طرح پڑھائی کا معیار نہیں ہے ہر سال مرضی سے فیسوں میں اضافہ کرتے ہیں اس حوالے سے والدین کو بھی اعتماد میں نہیں لیا جاتا اس کے علاوہ کر ماہ مخلتف مد میں پیسہ وصول کرتے ہیں ہر سکول نے اپنا پولیس بنا کر فیس رکھا ہوا ہے پرائیوٹ سکول صرف ایک کاروبار کر رہی ہے گورنمنٹ کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے پرائیویٹ سکولوں میں بچوں کو بھیجنا ایک فیشن بن گیا ہے سکول مالکان کتابیں، وردی، کاپی یہاں تک کہ پنسل بھی خود دیتے ہیں جو کہ بازار سے دس گناہ زیادہ وصول کرتے ہیں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments