وہ امید ہی کیا جس سے گزارہ نہ ہو

وہ امید ہی کیا جس سے گزارہ نہ ہو

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

غلام نصیر برکتؔ

جذبات کی ایک لہر جس سے جھونچتاہوا بے بس و لاچار میں خدا کا بندہ ایمان کے دوسرے درجے پر عمل کرتا ہوا قلم کی نوک کو دبائے محبان وطن سے التجا کرتا ہوں۔ میرے عزیز ہم وطنوں آخر وہ امید ہی کیا جس سے گزارہ نہ ہو۔ ہمیں اپنی امید میں عقابی روح پیداکرنی ہے اپنے برسوں کی امید کو حقیقت بنانے کی صحیح معنوں میں جدوجہد کرنی ہوگی اور دور حاضر کا اہم تقاضہ بھی یہی ہے کہ ہمیں اپنی اہمیت و صلاحیت اور اپنی جغرافیائی اہمیت کو سمجھنا ہوگا ورنہ ہم تاریخ کے پنوں سے لقمہ اجل بن جاےٗ نگے۔ تاریخ گوا ہے جس بھی جگہ قربانی کی قدر نہ کی گئی ہو وہاں قربانی رائیگاں چلی جاتی ہے اورمحبانے وطن قربانی دینا ترک کردیتے ہیں اورایک ملت کے لئے ناسور ساز ثابت ہوتا ہے جوکہ کسی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے اب کسی سے اتنی بھی قربانی نہ مانگی جائے جس کے بوجھ تلے دب کے خود ہی مٹ جائے ۔پاکستان اورگلگت بلتستان کا گٹھ جوڑ ایک نہ ٹوٹنے والا رشتہ ہے جو کہ پاک کلمہ طیبہ جوہر مسلمان کی شان ہے ۔پاک کلمے کی فضیلت یہ ہے کہ ساری دنیا کو ترازو کے ایک پلے میں رکھا جائے اورکلمہ کو ایک پلے میں رکھا جائے تو کلمے والا پلہ بھاری ہوگا۔ اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہم کتنی بڑی طاقت کے دم سے جوڑے ہوئے ہیں اورگلگت بلتستان حصول آزادی کے بعد اسی کلمے کی خاطر مملکت پاکستان سے جوڑنے کا ایک اہم اور درست فیصلہ کیا۔

تیرے تقدیر کاکلمہ پڑھتے ہی شاہد
تو جہی میں سمانے کی صحبت ملی تھی

اب ذرا آزادی کے 70سالوں کی طرف نظر پڑھتی ہے تو محرومیوں کے سوا کچھ نہ دیکھائی دیتاہے پہلے FCRکا ظالم دور جی بی کے عوام کے اوپر قیامت کی طرح برسا اس کے بعد جی بی کے عوام سیاسی محرومیوں کا شکار رہے ۔ ہمیں قومی سیاست سے تو ہمیشہ دور رکھا گیا اور علاقائی سیاست کا بھی پورا اختیار نہ دیا گیا۔ کہنے کو تو حکومت عوام کی ہوتی ہے لیکن یہاں جی بی میں معاملہ کئی برسوں سے الٹا چلا آرہاہے جی بی کی حکومت ایک ڈھول کی سی ہے اور اس ڈھول کی بجانے والا وفاق ہے وفاق ہی سب کچھ ہے وفاق کی پارٹی جی بی کی پارٹی یہ کیسے ممکن ہے آئے ایک مشاہدہ کرتے ہیں جی بی میں تمام پارٹییوں کے نظریاتی لوگوں کی تعداد شاید ہی 20-15 یا زیادہ سے زیادہ 30فیصد ہونگے او ر اعداد و شمار کے مطابق تقسیم کرے تو ایک پاڑٹی کے نظریاتی وٹرز کل جی بی کی آبادی کے ۱۰ فیصد ہونگے اور غور طلب یہ ہے کہ یہ اعداد و شمار زیادہ سے زیادہ بتا رہا ہوں ۔ حیران کن اور سوچنے پہ مجبور کرنے والی بات یہ ہے کہ کیسے چند نظریاتی وٹرز کے بنا پر کھبی PPP کی تو کھبی PMLN کی اکشریتی حکومت بن جاتی ہے حالانکہ جی بی کے عوام کا اکثر یتی نظریے انتخاب تو ہمیشہ سے یہی رہا ہے اوریہی ہے کہ امیدوار یا تو رشتہ دار ہو یادوست ہو یا کردار والا ہو یا پھران سے کوئی اختلاف نہ ہو۔تو پھر یہ کیسے ممکن ہے ایک ہی پارٹی جو وفاق میں ہو وہی پارٹی جی بی میں بھی جیتی آرہی ہو۔ ظاہر ہے اکیسویں صدی میں دھاندلی کے ایک سو ایک طریقوں میں سے دو چار ہی جی بی جیسے چھوٹے علاقے کیلئے کافی ہے ۔

جی بی کے عوام آزادی سے لے کر آج تک اپنے آپ کو پورے کے پورے پاکستانی سمجھتے ہیں اور یہی امید لئے ہیں کہ کبھی نہ کبھی تو جی بی کو پاکستان میں مکمل آینی حیسیت ملے گی ۔ جی بی کے عوام نے پاکستان کیلئے پہلے بھی لہو بہایا ہے اورانشاء اللہ مستقبل میں بھی وطن عزیز کے لئے اپنے لہو کا نظرانہ دیتی رہے گی ۔جی بی کے عوام پچھلے 70سالوں سے قربانی دئے جا رہے ہیں لیکن افسوس ان کی قربانی کی قدر سہی معنوں میں نہ کی گئی۔ آ ج کل گلگت بلتستان میں کش مکش کی ایک لہر نمایاں ہے ۔آج کل یہ رجحان بنایاجارہا ہے کہ جوبھی جی بی کے حقوق کی بات کرتا ہے تو کچھ احباب کے نزدیک غلط سمجھا جاتا ہے میں یہ کبھی سمجھ نہیں پایا اپنا حق مانگنے پر کوئی کیوں برا سمجھے ؟آخر کیوں۔ یا خدا برا سمجھنے والوں کا ہو منہ کالا ۔جو گنہگار ہو اسے سخت سے سخت سزادی جائے یہ ہر محب وطن پاکستانی کا جواب ہوگا لیکن اپنے حق مانگنے پر کیسا گناہ۔ خدا را پہرے نہ لگائے جائے جس سے جی بی کی عوامکے جزبات کو ٹھیس پہنچے ۔ہمیں اپنے جائز حقوق مانگنے کا پورا پوراحق ہے اورہمیں ایسا کرنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی لیکن ہم اپنی میڈیا کی بات کر تے ہیں تو ہماری میڈیا خاموش نہیں بلکہ اس کا آج تک کوئی وجود نہیں ہے۔ہماری آواز کہی نہیں پہنچ رہی ہم ایک بند کمرے میں مسلسل چیخ رہے ہیں اور امید رکھ رہے ہیں ہمیں سنا اور سمجھا جا رہا ہے مگر ایسا کچھ بھی دیکھائی نہیں دے رہا ۔ہم میں کچھ تو کمی ہے جو اتنے برس بعد بھی کھبی اپنی امید سے اگے نہ بڑ سکے ۔ آ خر کب تک ہمیں ان محرومیوں کے ساتھ جینا ہو گا۔

کٹتے نہیں تو کیا ہوا کٹنے کا ڈرتو ہے
اپنے ہی مہجبیں کے دلاسوں میں د م نہیں

آ ج پوری دنیا میں مسلمانوں کا حال دیکھتے ہو تو بس ایک آہ مسلسل کے علاوہ کھچہ نظر نہیں آتا آنکھیں لہو ہوتی ہیں دل ٹھہر جاتے ہیں زبان خاموش ہو جاتی ہیں ۔ دشمنوں کے بچھائے ہوئے دلدل میں ہم بنا سوچے سمجے قدم بڑھائے جا رہے۔ درحقیقت دشمن یہ جتانا چاہتے ہیں کہ مسلمان دہشتگرد ہوتے ہیں او روہ اپنے مضموم عزایم میں فقط ہماری ہی وجہ سے کافی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں۔ کچھ اس قسم کا تعصور آج کل جی بی کے عوام کے اپر مسلط کیا جا رہا ہے انہیں ڈرایا جا رہا تاکہ وہ اپنی حق کی آواز بلند نہ کرے اور حکومت عوام کے حق کے ساتھ کھلوار کرتی رہے اور ہم اپنے پیروں پہ بھڑیاں باند کر غلامی قبول کرتے رہے ۔ ہم ہی اپنے مجرم ہیں رنگ، نسل ،زبان ،قومیت اور مسلک کے نام پر استعمال ہو رہے ہیں۔خدارا ہمیں سمھجنا ہو گا اور دشمن کی مکارانہ چالوں کو ناکام بنانا ہو گا۔انشاء اللہ دشمن اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونگے وہ بھول گئے ہیں شاہد ہم وہی بت شکن ہے جو پہلے ہوا کرتے تھے تاریخ گواہ ہے ہماری تلوار کبھی نہیں ٹوٹی اور میں سمجھتا ہو ں کہ ہلکی سی زنگ کی چادرجو ہماری تلواروں پہ لگی ہے بس اسے صاف کرنے کی ضرورت ہے۔

خود کی مستی میں تو صاحب حلقیہ جناب ہیں ہم
گر جو سنور جائے تو زرائے افتاب ہیں ہم

ایک عام مگر اہم معاشرتی عمل سے بات واضح کرتا ہوں۔ بہت برس پہلے ایک گھر تقسیم ہوا جس میں ایک بھائی کو اس کا حق نہ مل سکا وہ ۷۰ سالوں سے اپنے ہی گھر میں حصہ مانگتا چلا آ رہا ہیمگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اتنے برسوں بعد بھی آج گھر کے کچھ احباب کے نزدیک اسے برا سمجھا جا رہا ہے ۔سنا ہے اشعار سے بات با اسانی سمھج آتی ہے تو توقعہ رکھتا ہوں ۔ شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔

گھر ہی گھر میں گھر کے یار
گھر کو بنائے کوئے یار
ایک ہی گھر اور پانچ بھائی
چار کو ملے پورے گھر بار
پانچواں چاہے گھرمیں حصہ
اس میں کہاں سے آئی رنجش
چاروں بھائی کرے پرچار
وطن ہے سب کی ماں اورپیار
گھر کی عزت گھر کو بھائے
ورنا مداری بنے فنکار
سب کی بقا ہے اس میں یار
سن تو سہی اے سرکار
گھر ہی گھرمیں گھر کے یار
گھر کو بنائے کوئے یار

وہ امید ہی کیا جس سے گزراہ نہ ہو ۔ہمیں اپنی امید میں عقابی روح پیدا کرنی ہے اور امید کو حقیقت بنانے کی حقیقی معنوں میں جستجو کرنی ہے اہل وطن ہمیں ان دشمنوں کے بنائے ہوئے ٹرینڈ کا حصہ نہیں بننا ہے اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہے۔ خدا ہمارے تمام احباب کو حقیقت سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔ (امین)

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔