خوش آمدید پرنس کریم آغا خان

تحریر: ایس ایس ناصری

گلگت بلتستان کو جہاں قدرت نے دنیاءکےنقشےپر ایک منفرد اور حسین و جمیل خطے کے طور پر پہچاں دی ہے تو اس سے بڑھ کر اس خطے کے بلند و بالا پہاڑوں، میدانوں، شہروں اور دیہاتوں میں اپنی زندگی گزارنے والے باسیوں کو مہمان نواز اور انسانوں کی قدر وقیمت کرنے والا انسان کے طور پر خلق کیئےہیں ۔یہاں ہر سال ملک کے دیگر شہروں سے لاکھوں اور دیگر مختلف ممالک سے ہزاروں لوگ اس خطے میں آتےہیں اور یہاں کے باسیوں کو خدمت کا موقع دیتے ہیں اور دل کی گہرائیوں سے گلگت بلتستان آنےوالوں کو اھلاً وسھلاً مرحباً کہتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے لوگ اگر دیکھا جائے تو ملک کے دیگر شہروں میں بسنےوالے شہریوں سے نہ صرف مہمان نوازی کے لحاظ سے آگے ہیں بلکہ ہر فیلڈ میں یہاں کے باسی اپنی قابلیت اور ذہانت کا لوہا نہ صرف ملکی سطح پرمنواچکے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی کارکردگی دکھا چکےہیں۔ یہاں کے لوگ چاہے، تعلیمی میدان میں ہو یا مہارت کے میدان میں ہر لحاظ سے دیگر شہروں کے باسیوں سے آگے ہیں۔

گلگت بلتستان کے لوگوں میں شعور و آگاہی اور خصوصاً تعلیمی میدان میں ترقی کے منازل طے کرنے کے حوالے سے اس خطے میں موجود فلاحی وانسانیت کے نام پر قائم شدہ ادارہ اےکے آر ایس پی کاکردار قابل ستائش ہے۔ اسماعیلی فرقے کے مرد وزن نے اس ادارے کی بنیاد سے لیکر اسے ایک مکمل ادارہ بننے تک ہر کسی نے اپنے اسلاف کی باتوں اور اقوال پر عمل پیرا ہوکر خصوصاً امام حاضر مولا نا ہزہائنیس پرنس کریم آغاخان کے بتائے ہوئے اصولوں کی پاسداری اور ان پر عمل پیرا ہوکر نہ صرف تعلیمی میدان میں کام کیا بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ اسماعیلی کمیونیٹی نے نہ صرف گلگت بلتستان میں بےپناہ ترقیاتی کام کی بلکہ ملکی لیول پر بھی اس ملک کے ترقی واستحکام میں اپنے حصے کا شمع روشن کیے اور اس ملک کو ایک پایہ دارملک بنانے کے حوالے سے ہمیشہ خدمات سر انجام دیتے رہے۔

وطن عزیز کی سلامتی اور بقاء کیلے نہ صرف ملک میں موجود اسماعیلی کمیونیٹی دن رات اتحاد واتفاق سے کام کرتے ہیں بلکہ اس فرقے کی روحانی پیشوا شیعہ امامی نزاری اسماعیلی مسلمانوں کے انچاسویں امام حضرت امام نور مولانا شاہ کریم الحسینی بھی ہمہ وقت اس ملک کو درپیش مسائل سے چھٹکارا دلانے اور عالم اسلام میں پاکستان کی امیج بہتربنانے کیلے بیتاب رہتے ہیں اور انسانیت کی خدمت کو نہ صرف اپنا فرض سمجھتے ہیں بلکہ اپنے خاندان کی روایات اور اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے پر ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

آپکو پاکستان سے محبت آپ کے دادا امام سلطان محمد شاہ آغاخان سوئم سے ورثے میں ملا۔ آغاخان سوئم امام سلطان محمد شاہ تحریک پاکستان کے اہم رہنماؤں سے ایک تھے۔آپ مسلم لیگ کے پہلے صدر رہ چکے ہیں اور لیگ آف نیشن کے صدر بھی رہے ہیں۔تحریک پاکستان میں آپ نے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کی اور پاکستان بنانے کیلے بانی پاکستان محمد علی جناح کے شانہ بشانہ کام کئے۔ ایسے میں ان کے پوتے ہزہائنیس پرنس کریم آغاخاں کیسے پاکستان کو بھول سکتے ہیں اور جن کے بنیادوں میں ان کی خاندان کی قربانیاں ہو اس ملک کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور استوار کرنے میں لیل و نہار ایک کرکے کام کریں گے اور اپنی خاندان کے لاج اور عظمت کو زندہ و پائندہ رکھیں گے اور یہ عمل پرنس کریم آغاخان میں ہمیں نظر آتے ہیں۔

پرنس کریم آخان نہ صرف اسمعیلی کمیونیٹی کو مستحکم کرنے کا سوچ رکھتا ہے بلکہ وہ دنیا میں ان تمام ممالک اور کمیونیٹی کی خدمت کا سوچ رکھتے ہیں جو معاشی طور پر کمزور ہو وہ ہمیشہ انسانیت کی خدمت کرنے اور انسانوں کیلے کام کرنے کا درس دیتا ہے۔ انکے بنائے ہوئے ادارے نہ صرف اسماعیلی کمیونیٹی کیلے کام کرتا ہے بلکہ بلا رنگ و نسل ومذہب انسانیت کیلے کام کرتا ہے اور اس وقت دنیاء کے کئی ممالک میں ان کے ادارے کام کر رہے ہیں۔ اسماعیلی کمیونیٹی اپنے روحانی پیشواء کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے بلا چوں و چرا عمل کرتے ہیں اور انسانیت کی فلاح وبہبود کو اپنا مشن سمجھتے ہیں۔ اس کمیونیٹی کی ہر فرد اپنے بساط کے مطابق خطے کی خدمت اور معاشرے میں تبدیلی کیلے کوشاں رہتے ہیں۔ ان میں پائے جانے والے اتحاد واتفاق اور تنظیم دیگر کمیونیٹی کیلے قابل تقلید ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے امام نورمولانا پرنس کریم آغاخان کے فرمودات اور افعال پر عمل کرتے ہوئے بلا تفریق انسانوں کی خدمت اور جہاں بستے ہیں اس خطے کی ترقی کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ یہی ان میں اتحاد کا ثبوت ہے۔ اسی طرح دیگر مسالک کے پیروکار اپنے روحانی عقیدت مندوں، پیروں، اور پیشواؤں کے نہ صرف قول وفعل پر عمل کرتے ہیں بلکہ اگر وہ اس دنیاء میں حیات ہےتو ان کی دیدار اور زیارات کیلے اپنی زندگی وقف کردیتے ہیں اگر اس دنیاء سے رحلت ہوچکے ہیں تو ان کی آستانوں، مقبروں، اور زریحوں کی زیارت کو اپنا فرض اور اپنے لیے راہ نجات سمجھ کر مختلف جہگوں سے کثیر رقم خرچتے ہوئے ان زیارات مقدثات کی طرف نکل پڑتے ہیں اور ان مقامات ِمقدسات پر پہنچ کر اپنے دل کی مرادیں لیکر انہی کے سامنے گڑگڑھا تے ہیں اور انہی سے مدد مانگتے ہیں اور اپنی مرادیں پوری ہونے کی امیدیں لیے انہی کو وسیلہ بناکر دعائیں مانگتے ہیں۔ یہی انسان کا عقیدہ ہے چاہے وہ کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتا ہو۔

اسماعیلی فقہ بھی انہی فقہوں اور کمیونیٹیوں میں سے ہے جن کے امام اور روحانی پیشوا امام چہارم ہزہائنس پرنس کریم آغاخان خداوند متعال کی فضل وکرم سے ابھی زندہ وجاوید ہے اور دنیاء کے مستضعفیں کے مدد میں بر سرِ پیکار ہے۔ ہر سال کسی نہ کسی ملک کا دورہ کرتے ہیں اور اپنی طرف سے لاکھوں ڈالر اس ملک کی ترقی اور وہاں بسنے والے لوگوں کی فلاح کیلے عطیہ کرتا ہے۔ یہی اس کا وطیرہ ہے۔دکھی انسانیت کی خدمت اور کمزور ممالک کی مدد ان کا نصب العین ہے۔پاکستان بھی انہی ممالک میں شامل ہے جس کی ترقی اور مضبوطی کیلے ہزہائینس اپنے دادا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کروڑوں ڈالر اس ملک کی ضروریات پوری کرنے کیلے دیتے ہیں۔ اس ملک کو دنیاءکے نقشے پر ایک ماڈل ملک کے طور پر شناخت کرانے کیلے کام کرنے کے ساتھ اس ملک کا دورہ کرکے سربراہان ملت سے لاقاتیں کر کے ملک کو درپیش مسائل سے نجات دلانے اور ایک پاور فل پاکستان جس کی خواب قائد اعظم اور ان کے رفقاء کار جن میں آغاخاں سوئم بھی شامل ہے تعبیر کرنے کیلے انہیں مشورہ دینے اور مکمل تعاون کرنے کا بھی یقیں دلاتے ہیں جوکہ پاکستان دوستی اور اس ملک سے محبت کا ثبوت ہے۔

وطن عزیز پاکستان کا ہر فرد ان کی اس ناقابل فراموش خدمات پر فخر محسوس کرتے ہیں اور انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔جب بھی آپ پاکستان تشریف لاتے ہیں سب ملکر آپکا خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ اس ملک میں بسنے والے اس ملک کے خیرخواہ اور اس وطن کے وفاداروں کے کارناموں کوکبھی فراموش نہیں کرتے۔ پرنس کریم آغاخان انہی اہم شخصیات میں سے ایک اہم شخص ہے جو ہمیشہ پاکستان اور پاکستان کی عوام خصوصاً گلگت بلتستان کے لوگوں کی فکر کرتے ہیں۔ ایسے میں ان کی اس اقدار کی قدر نہ کریں یہ کیسے ممکن ہے۔

پرنس کریم آغاخان پاکستانیوں اور گلگت بلتستانیوں سے محبت ہونے اور ان کے فکر ہونے پراس وقت پاکستان کو درپیش مشکلات اور چیلنجز سے نجات دلانے اور مدد کرنے کیلے پاکستان تشریف لائے ہیں۔ پاکستان میں سربراہان مملکت سے ملاقات کر کے ملک کو درپیش مشکلات ختم کرنے کیلے اپنی توانائی صرف کرنے کا عہد کیا ہے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے مل کر مقابلہ کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ انشاءاللہ وطن عزیز کی استحکام کیلے ماضی کی طرح اب بھی بھر پور مدد کریں گے۔

پرینس کریم آغاخان کے دورہ پاکستان اور گلگت بلتستان کے موقع پر اسماعیلی بہن بھائیوں کو ان کے روحانی پیشوا کے آمد کے موقع پر مبارک باد بھی پیش کرتے ہیں اور اہل گلگت بلتستان کی جانب سے امام مولانا شاہ کریم الحسینی کو خوش آمدید بھی کہتے ہیں۔ ساتھ میں اس امید کا اظہار کرتے ہیں کہ ماضی کی طرح گلگت بلتستان کے ستر سالوں سے حقوق سے محروم باسیوں کیلے پرنس کریم کا دورہ ترقی کے لحاظ سے نیک شگون ثابت ہو گا اور امام مولانا شاہ کریم الحسینی اس خطے پر خصوصی توجہ دیکر اس خطے کے عوام کو احساس محرومی سے نکالنے میں اہم کر دار ادا کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments