مردم شماری اور محروم طبقے 

مردم شماری اور محروم طبقے 

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: حاجی سرمیکی

خواجہ سرا ؤں کے گرو الماس بوبی نے ایک نجی ٹیلی ویژن نیوز کو اپنے انٹرویو کے دوران بتایا کہ رواں مردم شماری میں خواجہ سراؤں کے لئے علیٰحیدہ خانہ مرتب کرکے منتظمین نے ان کے دل جیت لئے ۔ دوسری طرف انہوں نے اس کی افادیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس حکمت عملی سے اصلی اور نقلی خواجہ سراؤں کی پہچان میں مدد ملے گی ۔ اس کے متوقع نتیجے کی روشنی میں انہیں ملنے والی اعداد و شمار سے وہ اپنے طبقے کی مثبت شناخت بنانے، حقوق کی خاطر متوازن اور مربوط جدو جہد کرنے اور اندرون طبقہ یکسوئی اور اتحاد کے لئے کوششیں کرنے کے لئے پر اعتماد نظر آرہی تھی۔ دریں اثنا ء انہوں نے مردم شماری اور ترقی کی باہمی ریشہ دوانیوں پر بھی گفتگو کی۔ یقیناًحقوق کی جنگ صرف وہ جیت سکتے ہیں جنہیں اپنے لئے متعین حقوق سے آگاہی کے ساتھ ساتھ اپنے گروہ کے اندرونی استعداد کار اور بیرونی خطرات سے شناسائی ہو۔ خواجہ سراوں کی معاشرے میں موجودگی گوکہ کوئی نئی بات نہیں ۔ محققین کی نظر میں جینیائی خلل سے جب کسی انسان کے اندر مردانہ اور زنانہ خصوصیات واضح حد تک برابر نمودار ہوجائیں تو یہ نسل جسے عموما تیسری نسل بھی کہا جاتا ہے پنپ جاتی ہے۔ جہاں معاشرے میں غیر اخلاقی رویوں، توہم پرستی اور امتیازی رویوں کی وجہ سے یہ طبقہ انتہائی غیر موزوں حد تک نظرانداز رہا ہے وہاں عہد رفتہ میں سے چنداں کو درباروں میں شراب بنانے، رقص و سرود کی محفلیں سجانے اور صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ چمپی مالش وغیرہ کے کاموں کے لئے مختص رکھا جاتا تھا۔ نتیجہ یہ کہ اب تک یہ طبقہ کسی بھی قسم کی سرگرمی میں نمائیاں کارکردگی کا مظاہر کرنے سے قاصر رہا ہے کہ جس سے ان کی صلاحیتوں کا اعتراف ہوسکے۔ البتہ یہ مکاں بدر طبقہ اپنے اپنے مخصوص کالونیوں میں رہائش پذیر نظر آتاہے۔ ان کی موجودگی کسی بھی گھرانے پر قہر خدا ، گناہوں کی سزا یا پھر باعث عبرت تصورکی جاتی رہی ہے۔یقیناًان کی مکمل تعداد ، معاشی اور معاشرتی حالات سے متعلق اشارات ان کی زندگی میں بہتری اور خوشحالی کے لئے لائحہ عمل طے کرنے میں ممد ثابت ہوسکتے ہیں۔ تاہم دوسری طرف افراد باہم معذوری کا طبقہ بھی پاکستان جسیے ترقی پذیر بلکہ انسانی ترقی کے اعتبار سے پس ماندہ ملک میں صرف نظر طبقات میں سے ہے۔ اس کی وجود کے حوالے سے بھی معاشرے میں چنداں مختلف اور مثبت رائے نہیں پائی جاتی ۔ انہیں بھی مختلف نفسیاتی اور برے رویوں کے مسائل درپیش ہیں ۔ خواجہ سراوں کی نسبت ان کی معذوری ایک طرف سے ان کے لئے باعث رحمت بھی ہے اور زحمت بھی۔ باعث رحمت اس لئے کہ یہ طبقہ مکمل مردانہ یا مکمل زنانہ خصوصیات کا حامل ہوتا ہے اور یہ اپنی نسل میں عام انسانوں کی طرح صحت مندانہ نسل پیدا کرسکتا ہے۔ ان کی اسی خصوصیت نے انہیں بقا اور حقوق کی جنگ میں دیگر محروم طبقات پر برتری بخشی ہے۔ اس طرح انہیں جتنی چھوٹی سی جگہ اور جتنا کم موقع میسر آیا ہے اس تناسب سے انہوں نے بیکراں کارنامے سرانجام دیئے ہیں ۔ زندگی کے تمام شعبوں میں بلند اور ارفع معیارِ کامیابی تک ایسے افراد پہنچ چکے ہیں۔ بہت سے شعبوں میں دیگر انسانوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرکے انہوں نے اپنے لئے سماج میں وہ با ادب مقام پیدا کردیا ہے جہاں سے وہ اپنے حقوق کے لئے آوازبلند کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف سماجی مقبولیت نے انہیں بہت کامیاب حد تک غیر اخلاقی سرگرمیوں کی طرف رغبت سے درکنار کررکھاہے ۔ جبکہ خواجہ سراؤں کو یک سر سماجی غیر مقبولیت نے بے راہ روئی کی طرف دھکیل دیا ہے جس سے ا ن کی برابرئی کی حد تک رہن سہن ناممکن بنا دیا ہے اور اس کی خاطر بااعتماد ساکھ قائم کرنے میں ناکام کردیا ہے۔ یہ طبقہ مناسب رہنمائی نہ ملنے اور یکسر مسترد ہونے کی وجہ سے غیر مقبول کام دھندوں میں گھیر چکا ہے۔ یہ المیہ صرف ترقی پذیر ممالک میں ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی یکساں اور یکسو ئی کے ساتھ خواجہ سراؤ ں کی معاشرتی شمولیت کی راہ کا پتھر بنا ہوا ہے۔ تاہم چندا یک ممالک میں ان کی بے نسلی اور بانجھ پن کی وجہ سے معذوری کا درجہ دیا گیا ہے۔ ان میں سے کسی ایک میں جس بھی ایک صنف کی بہتات یا غلبہ ہے اسے مخالف صنف سے بیاہنے یا بیاہ رچانے کا حق دیا گیا ہے۔ چند ایک ممالک میں اسی اصول کے پیش نظر عام آدمی یا خاتون کے ان کے ساتھ اذدواجی سمبندھ لئے بھی یہی قانون لاگو ہوتا ہے۔معذور افراد کی سماجی شمولیت اور تعمیر و ترقی میں یکساں حقوق کی فراہمی کے حوالے سے انسانی اقدار کی ترقی سے مالامال معاشروں میں ناقابل یقین حدتک اقدامات کئے گئے ہیں اور وہاں افراد باہم معذوری ان سہولیات سے مستفید ہوکر بہت مطمعن او ر خوشحال دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے لئے شمولیاتی تعلیم ، صحت، روزگار، معاشرتی انضمام اور فیصلہ سازی میں شمولیت کے حوالے سے قانون سازی نہ صرف اپنے اپنے ممالک کی حد تک کی گئی ہے بلکہ بین الاقوامی تنظیم اقوام متحدہ کے ذریعے بھی اپنے حقوق کے لیے ایک کامیاب عالمگیر تحریک برپاکرچکے ہیں۔ اس ضمن میں بین الاقوامی چارٹر برائے حقوق معذوراں (یو این سی آر پی ڈی) کے نام سے ایک بین الاقوامی قانونی دستاویز منظر عام پر آچکا ہے ۔جس پر اب تک ایک سو پچیس سے زائد ممالک دستخط کرکے اپنے ملک میں رائج کرچکے ہیں ۔ پاکستان بھی اس کا دستخطی ہے ۔ اس کے علاوہ میلینئم ڈویلپمنٹ گول میں بھی افراد باہم معذوری کی ترقی،یکساں حقوق کی فراہمی اور تنظیم سازی اور فیصلہ سازی میں شمولیت کے حوالے سے بھی خاطر خواہ اشارے مرتب کردیئے گئے ہیں۔ جن پر تمام ترقی یافتہ ملکوں میں سنجیدگی سے کوششیں کی جارہی ہیں۔ مردم شماری پاکستان جیسے ملکوں میں نہ صرف کل انفرادی آبادی ، کل آمدنی، روزگار اور معاشیات ، تعلیم اور دیگر وسائل کے اعتبارسے مواد فراہم کرنے کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہے بلکہ حکومتی ترجیحات کے تعین بمناسبت جغرافیائی خد و خال، رہن سہن، معاشیات، عمرو صحت اور روزگار، کے حوالے سے اشاریے بھی فراہم کرتاہے۔ مختلف اداروں کو اپنی کارکردگی میں نکھار پیداکرنے ، حاصلات کا جائزہ لینے اور مستفید شدگان کے حوالے سے مزید لائحہ عمل کے تعین میں کارگرثابت ہوتی ہے ۔ ان اشاریو ں اور مردم شماری کے حاصلات کی روشنی میں ترقی اور خوشحالی کاجائزہ بھی لیاجاسکتا ہے۔ تاہم افراد باہم معذوری کو اس مرحلے میں شامل نہ کرنے سے ان کے حقوق اور بحالی کے لئے کام کرنے والی سرکاری اور غیرسرکاری تنظیموں اور اداروں کو بہت مشکلات درپیش ہوسکتی ہے۔ ہمارے ہاں جو دو چند ادارے اور غیر سرکاری معذوردوست تنظیمیں جو تھوڑی بہت تگ و دو کررہی ہیں ان کی کاوشوں پر بھی پانی پھیر جائے گا۔ ہمیں یاد ہے کہ گزرے ہوئے انتخابات کے دوران ہر جماعت کے منشور میں معذوردوست ترقیاتی منصوبہ جات اور قانون سازی کے لئے حکمت عملی کی پیشکشیں موجود تھیں مگر ان پر عمل در آمد تو درکنار اگر اس نادر موقع پر بھی ان کی کل آبادی، روزگار کا تناسب، دستیاب وسائل کا جائزہ، اور محرومیوں کے تجزیے کا عمل نظرانداز ہوگیا تو پچھتاوے کے گھوڑے دوڑا کر بھی اس کا ازالہ حکومت وقت کبھی نہیں کرسکے گی۔ تاہم سندھ ہائیکورٹ نے بروقت فیصلہ دے کر اور سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے انتظامی اداروں کو ہدایت جاری کرکے ان دوطبقوں کے ساتھ بھرپور انصاف کیا ہے۔ البتہ گلگت بلتستان حکومت کے نمائندوں کی سستی نے علاقائی زبانوں میں شینا ، بلتی اور بروشکی کی شمولیت سے معذوری برقرار رکھی ہے، جو علاقے کی ثقافتی شناخت کے اعتبار سے ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author