سمگلنگ کی روک تھام 

معاشی امور کے لئے حکومت کے تر جمان ڈاکٹر فرخ سلیم عالمی سطح کے دانشور اور دبنگ لکھا ری ہیں انگریزی اخبارات میں آپ کی تحریر یں آتی رہتی ہیں آپ کواعداد و شمار اور دلائل کی مد دسے بات کر نے اور لکھنے کا خاص ملکہ حا صل ہے آپ نے بار بار ثابت کیا ہے کہ ایک ائیر پورٹ کی لا گت سے 25بڑے ہسپتال بن سکتے ہیں ایک ایف 16جہاز کی لا گت سکولوں پر لگائی جائے تو 50لاکھ طلبہ و طا لبات کو مفت تعلیم دی جا سکتی ہے ایک ٹینک کی لا گت کو عوامی فلاح و بہبود پر لگا یا جائے تو 20لاکھ کی آبادی کو سال بھر مفت راشن دیا جا سکتا ہے یقیناًآپ کے پا س مستقبل کے حوالے سے مزید اعداد و شمار بھی ہو نگے مثلاً اگلے 10سا لو ں میں بیرون ملک سے پا کستا نی سر ما یہ کا روں کا پیسہ وا پس لا نے پر 2ارپ ڈا لر خر چ کئے جائیں تو ڈیڑ ھ ارب ڈالر وا پس لائے جا سکتے ہیں مثلاً اگلے 10سا لوں میں دیا مر بھا شا ڈیم کے لئے 45ارپ روپے کا چندہ اکھٹا کیا جائے تو اگلے 10سال گزر نے کے بعد قو می خزانے میں 20ارب روپے جمع ہو سکتے ہیں مثلاً فیڈ رل بورڈ آف ریو ینیو (FBR)تنخواہ دار طبقہ اور عام آدمی پر ٹیکس میں اضا فہ کر کے اگر سال بھر میں 6ارب روپے کی آمدن جمع کر سکتا ہے تو اس کی جگہ 5ہزار جا گیر دار وں پر زرعی ٹیکس لگا کر 25ارب روپے حا صل کر سکتا ہے مثلاًسمگلنگ کی روک تھام کر کے 45ارب روپے سالانہ جمع کر سکتا ہے مگر یہ دو فیصلے بیحد مشکل فیصلے ہیں دونوں فیصلے حکمرانوں کو براہ راست متا ثر کر تے ہیں جاگیر داروں کی لا بی بہت مظبوط لا بی ہے نوابزادہ لیا قت علی خان نے جا گیر داروں پر ٹیکس لگا نے کے لئے کمیٹی قا ئم کی تو ان کو بھرے جلسے میں گو لی مار دی گئی ، جنر ل ضیاء نے جا گیر داروں پر ٹیکس لگا نے پر غور شروع کیا تو ان کے جہاز کو ہو ا میں اڑا دیا گیا جنرل مشرف نے جا گیر داروں پر ٹیکس لگا نے کی تجویز دی تو ان کی وردی اتاری گئی پھر ان پر غداری کا مقدمہ چلا یا گیا اب وطن کے جا گیر دار ان کو قبر کے لئے دو گز زمین دینے پر امادہ نہیں ہیں جا گیر داروں پر ٹیکس لگا نے کے لئے لینن کا جگر ، ماؤ کا دل ، خمینی کی بصیرت اور فیدل کا سترو کی جرأ ت در کار ہے یہ بھا ری پتھر ہے اس کو اْ ٹھا نا کسی “ایسے ویسے”کا کام نہیں سمگلنگ کی روک تھام اس سے بھی زیا دہ مشکل ہے کیونکہ اب تک کسی کو اس کی ہمت نہیں ہو ئی سمگلنگ کے چار بڑے گْر ہیں جس کنٹینر پر پا کستان کا جھنڈا لگا ہو اہے اس کی تلا شی لینا منع ہے جس گاڑی پر سر کاری نمبر پلیٹ لگا ہوا ہے اس کی تلا شی نہیں لی جا سکتی ، جس گاڑی پر سینیٹر یا دیگر اراکین پارلیمنٹ کی تختی لگی ہے اْ س کی تلا شی نہیں لی جا سکتی جس سمگلر کے لئے بڑ ے صا حب کا فو ن آ جا ئے اس کو محفوظ راستہ دیا جائے گا ایک پانچواں طریقہ بھی ہے جس سمگلر کی گاڑ ی سے 80کروڑ روپے کے ہیروئین کی کھیپ پکڑی جائے اْ س کے ڈرائیور کو 2لا کھ روپے جر مانہ کرو کھیل ختم پیسہ ہضم یہاں واردات کے اتنے طریقے ہیں کہ ان کا احاطہ مشکل ہے طویل المد تی منصو بے بہت ہیں ان پر عمل در آمد ہوتے ہوئے 5سال گزر جا تا ہے آگے آنے والی حکومت میں وہ پا لیسی ہی ختم ہو جا تی ہے قا بل عمل، دیرپا اور سریع لا ثر بلکہ مختصر مد تی منصو بہ یہ ہے کہ گاڑیوں کو استثنٰی دینے کا قا نون ختم کرو سر کاری گاڑی کی تلاشی لے لو پا کستان کے جھنڈے والے ٹرک کی تلا شی لے لو سینیٹر اور دوسرے اراکین اسمبلی کے نمبر پلیٹ والی گاڑی کی تلاشی لے لو ٹیلیفون سننا بند کر و اگر بڑے صا حب کا ٹیلیفون آئے تو اس کی ریکارڈنگ عدالت میں پیش کرنے کی دھمکی دے کر جان چھڑاؤ عدالت کے اندر ملزم کو شک کا فائدہ دینے والا قا نون ختم کرو نیز ججوں کو تحفظ دے کر سمگلنگ میں ملوث ڈرائیور کی جگہ اصل ما لک اور ملزم کو سزائے مو ت دے دو پہلے ما لی سال کے بجٹ میں 60ارب روپے کا نیا ٹیکس آجائے گا اگلے سال اس میں مزید 20ارب کا اضا فہ ہو گا اور ہر سال 20سے 30ارب روپے تک کا اضا فہ ہو تا رہے گا اگر ڈاکٹر فرخ سلیم کے آس پا س ، دائیں بائیں اور آگے پیچھے رہنے والے لو گ اس پر راضی ہو جائیں تو مو جو دہ ما لی بحران کو حل کر نے کا یہ تیر بہدف نسخہ ہے مہا تیر محمد اور لی کواں یو نے ایسا نسخہ استعمال کر کے اپنے ملک کو معا شی بحران سے نکا لا تھا مگر مچھوں پر ٹیکس لگاؤ اور سمگلنگ کو ختم کراؤ ملک معا شی بحران سے نکل جائے گا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments