رُموز شادؔ ۔۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ کے نام ایک تحریر۔۔

رُموز شادؔ ۔۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ کے نام ایک تحریر۔۔

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 تحریر بقلم۔۔ارشاداللہ شادؔ ۔۔ بکرآباد چترال

ایک ایسے انسان کی زندگی کے متعلق کچھ لکھنے کیلئے قلم اٹھایا ہے جس کی پاکیزگی اور سادگی روز روشن کی طرح عیاں ہے، بلا شبہ میرا یہ قلم اٹھانا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔قلب مضطرب سے ایک خامو ش سی آواز آرہی ہے کہ ……. اے راقم تو بہت بڑی جرأت کررہا ہے ۔ تجھ سے کہاں اس شخص کے بارے میں کچھ لکھنے کا حق ادا ہو سکے گا۔ میرے احساسات و جذبات کی کیفیت کوکما حقہٰ تحریر کرنے سے قلم قاصر تھا۔ لیکن اس اخلاص کے پیکر کی محبت نے زمانہ ٗ ماضی میں باقی لوگوں کے دل جیتنے کے ساتھ میرا دل بھی جیت لیا تھا ، اس لئے اسی شکستہ قلم سے کچھ منتشر الفاظ اور غیر مرتّب جملے لکھنے کی ہمت پیدا ہوگئی۔ ایک طرف تو میں اس کو جرأت سمجھتا ہوں ، دوسری طرف میرے لئے یہ ایک سعادت کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی میں اس سچّے اور مخلص انسان کے متعلق لکھنے کا موقع عطا فرمایا اور میرا یہ وقت بھی ان اوقات کی ایک کڑی بن گئی جو اوقات میرے اچھے کاموں میں صرف ہوئے ۔ اگرچہ بہت ہی مختصر وقت ان کی صحبت میں گزارنے کا موقع ملا ، لیکن اس عرصے میں ہم نے ایسی زندگی دیکھی کہ ہمیں اپنی زندگی گزارنے کیلئے کئی راہیں ملتی ہے۔ ان راہوں میں سے کوئی ایک راہ منتخب کرنا کامیاب زندگی طے کرنے کیلئے سنگ بنیاد ثابت ہو سکتی ہے۔ جب کاغذ قلم سنبھالا تو خیالات کا تسلسل بنا جو ٹوٹتا ہی نہ تھا اور میں فیضی ؔ صاحب کی شان میں کچھ الجھے سلجھے الفاظ سپر د قلم کرتا رہا۔ کبھی کبھی اپنی علمی کم مائیگی کی وجہ سے ذہن میں یہ بھی آتا ہے کہ………

’’ کیسے الفاظ کے سانچے میں ڈھلے گا یہ جمال‘‘

’’ سوچتا ہوں کہ ترے حسن کی توہین نہ ہو ‘‘

اور میں بلا کم و کاست جو کچھ خیال میں آیا سپرد قلم کرتا رہا۔جناب ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ صاحب کی ذات گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ ماہر علوم و جدید ہے۔ آپ کے ظاہری و باطنی کمالات ، علمی خدمات ، معرکہ حق و باطل میں آپ کی سرفروشیاں اور علم افروزیاں ہر خاص و عام کو معلوم ہے۔ بالخصوص معاشرے کی بہبود اور عالم اسلام کی فلاح، علم و حکمت ، طب و سائنس، تہذیب و ثقافت، تعلیم و تربیت، صحافت ، رسائل و جرائد اور اشاعت کتب ، کردار و اخلاق کی تعمیر میں آپ کی خدمات نمایاں ، فقید المثال اور دور رس اثرات کی حامل ہے۔ اس لحاظ سے اگر فیضیؔ صاحب کو رئیس المضامین کہہ دیا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔ اس کے عقیدت مندوں کا جم غفیر ہے۔ آپ زبان و بیان و کالم سے خفتہ دلوں کو جگاتے ہیں اور قلم سے ماؤف ذہنوں کو صراط مستقیم پر ڈالتے ہیں ۔ آپ دور جدید کے تقاضوں کے عین مطابق دینی ، دنیوی، معاشی، سماجی اور سیاسی نظریات شرح وبسط کے ساتھ پیش فرماتے ہیں جس سے حضرت کے علمی مطالعے کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ فیضیؔ صاحب مضامین کی عناوین کو لفظوں میں اس طرح اجاگر کرتا ہے کہ قالَ کے بجائے حالَ بنتے ہیں ۔ ہر جملہ گویا دامن محبوب کو تھام کر صدا لگا رہا ہے۔ اور مضامین کی ان عناوین پر اس طرح گہرائی اور گیرائی سے قلم بند کرنا آج تک فیضیؔ صاحب کے علاوہ کوئی بھی میری نگاہوں سے نہیں گزری ، یا مجھ جیسی محدود العلم کے مطالعے میں نہیں گزری ۔ فیضیؔ صاحب کی تمام تر مضامین جس انداز سے لکھتاہے بندہ عاجز صرف اتنا لکھ سکتا ہے کہ ایک پاکیزہ صدا بصحرا اور داد بیداد کے مترادف کڑی ہے بلکہ ایک سنہری لڑی ہے۔ روحانی ، باطنی، نظریاتی و سیاسی بلکہ میں تو یوں کہتا ہوں کہ دور حاضر کے تما م حالات کی عقدہ کشائی کیلئے یہ مضامین ایک مرشد و مرّبی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور راقم الحروف فیضیؔ صاحب کی تما م تر مضامین کا بالاستیعاب مطالعہ کیا ہے ۔ ایک ایک لفظ سے حکمت و معرفت کے سوتے پھوٹ رہے ہیں ۔ ایک ایک جملہ خلوص میں ڈوبا ہوا ہے ، ایک ایک مضمون دور جدید کے تقاضوں کے ہم آہنگ سبق آموز جذبوں کا شاہکار ہیں۔اس کی ایک ایک سطر حسن خلق، حسن ادب کی مٹھاس میں گوندھی ہوئی ہے۔ دراصل حقیقت میں یہ مضامین اردو ادب میں بھی ایک حسین اضافہ ہے ۔ جابجا عربی ،، فارسی، اور اردو مفاہیم و مطالب سے اخذ ہے۔ فصاحت و بلاغت کے ہر جا نمونے موجود ہیں۔ اور صاحب ذوق قاری الفاظ و معانی سے پوری طرح لطف اندوز ہو سکتے ہیں ۔ ادب کا صحیح مذاق رکھنے والے حضرات بھی بھر پور استفادہ و استفاضہ اٹھا سکتے ہیں ، اور مشاہدہ کرنے والے عوام النّاس اپنے من کو موصوف کی دلنشین مضامین سے سیراب کر سکتے ہیں ۔ آپ کی ہر ایک بات سامع کی گہرائیوں میں اترتی جاتی ہے ،اور بے شمار ایسے مضامین ہے کہ قاری کو محویت کے عالم میں لے جاتے ہیں اور انگلی تھام کے منزل مقصود کی طرف گامزن کر دیتے ہیں۔

فیضیؔ صاحب علم و ہنر کا بے کراں سمندر ہے اور جامع الکمالات ہے۔ یہ میں بغیر کسی مبالغہ کے عرض کر رہا ہوں ، اگر کسی کو شک ہو تو من و عَن اس کے مضامین کا مطالعہ کرتے مذکورہ بالا تمام صفات کا براہ راست مشاہدہ کر سکتا ہے ۔ البتہ صرف اتنا کہوں گا کہ موصوف صاحب ہمیشہ دلیل اور منطق سے بات کی ، کبھی غصہ نہیں کیا اور نہ ہی کبھی آپ سے کوئی ترش کلام سُننے کو ملا اور یہ میں اس کی تعریف نہیں کر رہا ہوں بلکہ میرا یہ دعویٰ ہے کہ آپ سے ملاقات کرنے والا کوئی بھی شخص آپ کے متعلق یہ رائے ضرور قائم کرے گا۔ ماضی ہو یا مستقبل، مذہب ہو یا فلسفہ، تصوف ہو یا سائنس ہر موضوع پر مدلّل اور زبردست علمی گفتگو کی مہارت رکھنے والا فیضیؔ صاحب ایک نہایت منکسر المزاج ، رقیق القلب انسان ہے۔ اور اس کے مضامین علم و حکمت کا خزانہ اور مجھ جیسے طالبعلموں کیلئے سبق آموز لطف مسلسل ہے ، اور بالکل جدید و جامع اسلوب ہے، اور اس کے مضامین دلکش ہونے کے باوجود، جامع ہونے کے باوجود اپنے اندر کمال گہرائی لئے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اس کا ایک ایک لفظ لطف کا بے کراں دریا ہے ،اور اس کے مضامین نہ تو اس قدر ضخیم ہے کہ اسکا مطالعہ کرنے میں کئی گھنٹے لگ جائیں اور نہ ہی اتنی قلیل کہ موضوعات کو سمجھنے میں دشواری ہو ،بلکہ تحریم اور حجم میں ایک بہترین توازن قائم کیا گیا ہے۔

فیضیؔ صاحب کے متعلق کچھ کہنے کی میری اوقات نہیں ہے یہ تو بس موصوف کی پیار و محبت ہے جو یہ چند الفاظ لکھنے کی ہمت اپنے اندر پیدا کرلی ۔ بہرحال راقم الحروف اس مضمون میں موصوف کی مضامین کے شان میں شد بد الفاظ سپرد قلم کرنے کی کوشش کی ہے ، عین ممکن ہے اس میں کوئی علمی و منطقی و تجرباتی کوتاہیاں موجود ہوں کیونکہ حقیر کا کرب لامتنائی اور تجربہ محدود ہے۔ بہر کیف امید ہے کہ زیرک سامعین اپنی نظر کرم سے حقیر کی علمی کوتاہیوں کو صرف نظر فرما کر شفقت مطلق کا مظاہرہ فرمائیں گے۔ اسی امید کے ساتھ اپنی مضمون کا اختتام چاہتا ہوں کہ قارئین میری ننگ و جنگ سے بے نیازی کو در گزر فرما کر مطالعہ مضامین کی طرف کوچ کریں گے۔

آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ اللہ ربّ العزّت فیضیؔ صاحب کو وہ علم عطا فرمائیں کہ آپ کا سینہ ’’ مرج البحرین یلتقین‘‘ کا نمونہ بن جائیں ۔ آپ کو وہ مقامات نصیب فرمائیں کہ ’’ مالا عین رات ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر‘‘ آپ پر صادق آئے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ’’ وانک لعلیٰ خلق عظیم ‘‘ کا مصداق بنائے ۔ اور اللہ تعالیٰ آپ کے علم میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی توفیق عطا فرمائیں۔(آمین )

قلم ایں جا رسید و سر بشکست……!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔