گلگت بلتستان کے نابینا افراد کی جانب سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے نام کھلا خط

گلگت بلتستان کے نابینا افراد کی جانب سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے نام کھلا خط

22 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان کے نابینا افراد کی جانب سے
عزت مآب حافظ حفیظ الرحمٰن صاحب وزیر اعلیٰ
گلگت بلتستان کے نام کھلا خط

منجانب سید ارشاد حسین کاظمی ،

چیئرمین ویژن ویلفئر فاؤنڈیشن گلگت بلتستان

فون نمبر 0346-8482038

عزت مآب حافظ حفیظ الرحمان صاحب امید ہے مزاج بخیر ہونگے۔

محترم القدر کسی بھی معاشرے میں موجود آنکھوں کی بینائی سے محروم افراد اس معاشرے کا حسن اور رونق ہوا کرتے ہیں۔ان کی مثال گلستان میں موجود ایسے نایاب پھولو ں کی مانند ہوتی ہے جو اپنی خوشبو،خوبصورتی اور رنگینی میں دیگر پھولوں سے منفرد اور بے مثال ہوتے ہیں۔قدرت نے جہاں ایسے افراد کو آنکھوں کی بینائی جیسی عظیم نعمت سے محروم رکھا ہوا ہے وہی قدرت نے ان کو عام لوگوں کی نسبت دیگر خصوصی صلاحیتوں سے نوازا ہوا ہے۔جدید انسانی معاشروں میں ایسے افراد پر بھر پور توجہ دی جا رہی ہے۔اور ان کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھار کر جہاں ان کو معاشرے کا کار آمدفراد بنایا جارہا ہے۔وہی یہ افراد ان ممالک اور معاشروں کی تعمیر و ترقی میں دوسروں کے برابر حصہ دار سمجھے جاتے ہیں۔آج دنیا آنکھوں کی ظاہری بینائی سے محروم ایسے افراد کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔جنہوں نے آنکھوں کی نعمت سے محروم ہونے کے باوجود عالمی سطح پر اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کیا ،لیکن حضور عالیٰ گلگت بلتستان دنیا کا وہ بدقسمت ترین خطہ ہے جہاں آنکھوں کی بینائی سے محروم افراد آج کے اس جدید ترین دور میں بھی جنگل کے دور سے بھی بدترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔یہاں نہ تو ان کی مناسب تعلیم کا کوئی انتظام موجود ہے اور نہ ہی انہیں اپنی معاشی بحالی کے مواقع دستیاب ہیں، معاشرہ بھی ایسے افراد کے حقوق سے نابلد ہونے کی وجہ سے اکثر ان افراد کی ہتک اور دل آزاری کا باعث بن رہا ہے۔اور اکثر معاشرے کے حساس طبقات معاشرے کے نارمل افراد سے شاکی نظر آتے ہیں۔ان کی ظاہری جسمانی معذوری کی بنیاد پر نازیبا القابات سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔جس کی وجہ سے ان دلی کیفیت اورمجروح جذبات ناقابل بیان ہوتے ہیں۔

جناب وزیر اعلیٰ صاحب گلگت بلتستان میں ماضی کی حکومتو ں نے علاقے میں موجود آنکھوں کی بینائی سے محروم افراد کی جانب سے مجرمانہ طور پر چشم پوشی اختیار کیے رکھی ہے۔جس کی وجہ سے آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں۔خصوصی تعلیم کے شعبہ پر توجہ نہ دینے کے باعث علاقے میں موجود خصوصی افراد کی اکثریت ناخواندہ ہے۔اگرماضی میں ان کی تعلیم پر توجہ دیا گیا ہوتا تو آج یہ افراد یقیناًمعاشرے کے کارآمدشہری بن سکتے تھے۔ہم آپ کی حکومت کی جانب سے گلگت اسپیشل ایجوکیشن کمپلکس کو اپ گریڈ کرکے میٹرک کا درجہ دیئے جانے کو قابل تحسین اقدام قرار دیتے ہیں۔علاوہ ازیں آپ ہی کی حکومت کی جانب سے ضلع دیامر میں اسپیشل ایجوکیشن سکول کی منظوری اور ضلع سکردو میں اسپیشل ایجوکیشن سنٹر میں کلاسوں کا اجرا کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہیں تاہم یہ اقدامات کافی نہیں ہیں ۔جیسا کہ ذکر ہو چکا کہ ماضی میں اسپیشل ایجوکشن کے مسئلے کو نظرانداز کیا گیا تھا۔لہٰذا اب ہم آپ کی حکومت سے اس مسئلے میں انقلابی اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت کی نزاکت کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔اور ابتدائی مرحلے میں گلگت بلتستان کے تمام انتظامی اضلاع میں خصوصی بچوں کی تعلیم کے لیے مراکز قائم کیے جائیں صوبائی سطح پر خصوصی افراد کی فنی تعلیم کے لیے تربیتی ادارے کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

جناب عالیٰ!

گلگت اسپیشل ایجوکیشن کمپلکس میں موجود بچوں کے ہاسٹل کے لیے بنائی گئی عمارت پر نیب کو لاکر بسایا گیا ہے۔جو کہ نہ صرف سنگین زیادتی ہے۔بلکہ نیب جیسے ادارے جو کرپشن کے خاتمے کی جنگ لڑ رہا ہے کی اپنے شفافیت پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے ،خیر ہاسٹل کی عدم موجودگی کی وجہ سے گلگت بلتستان کے درجنوں معصوم نابینا بچے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ پنجاب اور سندھ میں موجود خصوصی بچوں کے تعلیمی مراکز میں دربدر ہونے پر مجبور ہیں۔اور ان بچوں کی عمریں بالعموم 8سال سے 15سال کے درمیان ہے۔اس کے علاوہ بہت سارے بچے آج بھی اپنے گھروں میں پڑے ہوئے ہیں۔کیونکہ ان کے والدین کیلئے علاقے سے اتنی دور لے جاکر اپنے بچوں کو چھوڑنا یقیناًناممکن امر ہے اگر آپ جناب اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے گلگت اسپیشل ایجوکیشن کمپلکس میں موجود ہاسٹل کو فوری طور پر فعال کیے جانے کے احکامات صادر فرمائیں تو یقیناًیہ پورے گلگت بلتستان کے خصوصی بچوں پر احسان عظیم ہوگا۔

جناب عالیٰ!

اب آپ کی توجہ علاقے میں موجود نابینا افراد کی معاشی صورتحال کی طرف دلاتے ہیں۔بد قسمتی سے گلگت بلتستان کی افسر شاہی ان افراد کے معاشی بحالی کے حق کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے حکومت کی جانب سے مختص کردہ دو فیصد کوٹہ پر عمل درآمد ایک خواب بن چکا ہے۔جس کے حصول کے لیے یہ افراد منتخب عوامی نمائندوں اور بیوروکریسی کے دروازوں پر ذلیل ہونے پر مجبور ہیں۔بیوروکریسی دو فیصد کوٹے کی من مانی تشریحات پیش کرکے ان افراد کے حقوق پر مسلسل ڈاکہ زن ہے۔یہاں تک کہ دو فیصد پر مکمل عمل درآمد کے یے راقم کی چیف کورٹ گلگت بلتستان میں پٹیشن دائر کیے جانے اور پٹیشن پر معزز عدالت کی جانب سے دو فیصد کوٹے پر عمل درآمد کے لیے سختی سے احکامات کے باوجود بھی بیوررکریسی ٹس سے مس ہونے کوتیار نہیں ہے اور عدالتی فیصلہ بھی ہوا میں اڑایا ہے۔

پورے گلگت بلتستان میں آنکھوں کی بینائی سے محروم افراد کی تعداد یقیناًانتہائی قلیل ہے جنہیں انگلیوں میں گنا جا سکتا ہے۔لیکن صد افسوس کہ صرف چند افراد ہی سرکاری روزگار کے حصول میں کامیاب ہوسکے ہیں۔سرکاری محکموں میں بھرتیوں کے دوران نابینا افراد کو ابتدائی مرحلے میں ہی نکال باہر کیا جاتاہے ۔ان سے ہتک آمیز سوالات پوچھے جاتے ہیں ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ دفتر کیسے آؤ گے کام کیسے کروگے،یہاں تک کہ نچلی پوسٹیں یعنی نائب قاصد کی پوسٹوں کے لیے بھی نااہل تصور کیا جاتا ہے۔اور ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ فائلیں دوسروں تک پہنچا سکو گے اور چائے وغیرہ کیسے پلاؤ گے۔

جناب عالیٰ!

یہ صورتحال یقیناً انتہائی شرمناک اوراسلامی و انسانی اقدار کے علاوہ عالمی و ملکی قوانین کی بھی سراسر خلاف ورزی ہے۔معذور افراد کے لیے الگ کوٹہ مختص کر نے کا مقصد ہی یہ ہے کہ ایسے افراد اپنی جسمانی معذوری کی وجہ سے نارمل افراد کی مانند روزمرہ کے کام سرانجام نہیں دے سکتے، تب ہی تو ان کے لیے دیگر افراد سے ہٹ کر کوٹہ مختص کیا جاتا ہے جن پر عمل درآمد قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔

جناب عالیٰ!

راقم خود آنکھوں کی بینائی سے محروم ہیں اور اس وقت ماسٹرز کی تعلیم حاصل کررہا ہے سائل 2009 سے ایک سرکاری محکمے میں فکس پے کی بنیاد پر خدمات سرانجام دے رہا ہے ۔راقم کی تنخواہ پہلے 4000/=تھی جوکہ اب 7000/=ہوچکی ہے راقم شادی شدہ ہے اور ایک بچے کا باپ ہے۔7000/=ماہانہ تنخواہ یقیناًآٹے میں نمک کے مانند ہے۔اپنی قلیل تنخواہ پر صرف ایک فرد کا گزارہ نہیں ہوسکتا ہے تو پوری فیملی کا کیسے ہوگا۔راقم اپنے بچے کو آج بھی سکول بھجوانے سے قاصر ہے آخر بھجوائے تو کیسے۔ضروریات زندگی کا حصول خواب بن کر رہ گیا ہے۔ان بدترین حالات میں بقا کی جنگ ہی ناممکن ہوگیا ہے ایسے حالات میں ہم نابینا افراد جائیں تو کہاں جائیں۔ملک بھر میں اس وقت ہزاروں کی تعدادمیں نابینا افراد مختلف سرکاری محکموں میں فرائض سرانجام دے رہے ہیںیہاں تک کہ سندھ اور پنجاب پولیس فورس میں بھی نابینا افراد کو کانسٹیبل کی رینک پر بھرتی کیاگیا ہے اور ان سے دیگر آفیشل کام لیا جارہا ہے۔پاک فوج کے زیر نگرانی اداروں میں بھی سیویلین کھاتوں میں بہت سارے نابینا افراد کو ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں اسی طرح پاکستان رینجرز کے ذیلی اداروں میں بہت سارے نابینا افراد خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

جناب عالیٰ!

تو پھر آخر کیوں گلگت بلتستان میں موجود نابینا افراد کو نظرانداز کیا جارہا ہے کیا ہم اس معاشرے کا حصہ نہیں ہیں کیا ہم اللہ تعالیٰ کی عظیم تخلیقات میں سے نہیں ہیں ۔کیا ہم جیتے جاگتے انسان نہیں ہیں آخر ہم بھی تو جذبات اور احساسات رکھتے ہیں آخر ہمیں کب تک دھتکارا جاتارہے گا۔آخر کب یہ ظالم معاشرہ ہمیں اپناحصہ قراردے گا۔ہمارے پیارے نبی کی تعلیمات ہمیں معاشرے میں موجود کمزور طبقات پر مشقت اور محنت کا درس دیتی ہیں۔آخر ہمارا معاشرہ کب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوگا۔

حضور عالیٰ!

آپ جناب کے حضور دست بستہ التجاء ہے کہ معاشرے کے اس سب سے کمزور طبقے کی حالت زار پرتوجہ دی جائے اور گلگت بلتستان میں موجود نابینا مرد و خواتین جو روزگار کے حصو ل کی اہلیت رکھتے ہیں ان کی اہلیت کے مطابق روزگار فراہم کیا جائے۔اور جو روزگار کی اہلیت نہیں رکھتے ہیں انہیں فنی تربیت سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں۔اس کے علاوہ ایسے نابینا مرد و خواتین جو ملازمت اوفنی تربیت کے حصول کی سکت نہ رکھتے ہیں انہیں ماہانہ معقول وظیفہ دیا جائے۔تاکہ وہ اپنا گزر بسر کر سکیں ۔اس مقصد کے لیے صوبہ پنجاب کی طرح گلگت بلتستان میں بھی خدمت کارڈز کی طرز پر سکیم کا اجراء کیا جاسکتا ہے۔یقیناًگلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کے لیے اس ضمن میں ایک مخصوص فنڈ کا قیام کوئی ناقابل عمل امر نہیں ہیں۔

جناب وزیر اعلیٰ صاحب!

آج پوری دنیامیں افراد باہم معذوری کی زندگی کی تمام شعبوں میں بھر پور شمولیت کویقینی بنانے کے لیے بھر پور کام ہورہا ہے انہیں معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کے لیے ہر شعبہ زندگی میں انقلابی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔پبلک مقامات اور عمارتوں کو افراد باہم معذوری کی ضروریات کے ہم آہنگ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ایسے تمام اقدامات کی بدولت افراد باہم معذوری کھل کر اپنی خدادا صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن حضور عالی! گلگت بلتستان دنیا کا بد قسمت ترین خطہ ہے یہاں آج تک حکومتی سطح پر افراد باہم معذوری کے عالمی ایام منانے کی زحمت تک گوارہ نہیں کی گئی ہے۔

علاقے میں موجود افراد باہم معذور ی بالخصوص نابینا افراد کھیلوں کے میدان میں پوری دنیا میں علاقے کا نام روشن کیا ہے لیکن آج تک صوبائی سطح پر حکومت کی جانب سے ان افراد کے لیے کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد نہیں کیا گیا ہے۔اور نہ ہی کسی طرح کی ثقافتی سرگرمی میں ان کو حصہ دار بنایا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے ان افراد کے اندر شدید احساس محرومی ،مایوسی اور بے چینی پائی جاتی ہے۔اور یہ افراد خود کو معاشرے سے کٹے ہوئے اور بہت دور سمجھنے پر مجبور ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان افراد کے لیے مخصوص ایونٹس کا انعقاد کیا جائے ۔علاقے کے معذور افراد کے نمائندوں کو مقامی اور قومی سطح پر ہونے والی تقریبات کا حصہ بنایا جائے اور اور مقامی اور قومی سطح پر وفود کے تبادلوں کے دوران معاشرے کے اس طبقے کے نمائندوں کو شریک کیا جائے ،جسمانی معذوریوں کے حامل خصوصی نوجوانوں کو علاقے کے بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کرنے والے نوجوانوں کے وفود میں شامل ہونے کے بھی بھر پور مواقع فراہم کیے جائیں۔

جناب عالیٰ!

گلگت بلتستان کی سرکاری عمارتوں بالخصوص سکولوں،کالجوں،ہسپتالوں کے علاوہ انتظامی آفسوں کو افراد باہم معذوری کی رسائی کے قابل بنایا جائے اور نئی تعمیرات میں خصوصی افراد کی رسائی کو ہرصورت ممکن بنائی جائے۔

جناب وزیر اعلیٰ صاحب!

آپ نے منتخب ہونے کے فوری بعد مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے گلگت بلتستان کی سطح پر ایک صوبائی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا جوکہ افراد باہم معذوری سے متعلق معمولات طے کرتی لیکن آپ کے اس اعلان پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا ہے ہم گزارش کرتے ہیں کہ جلد ہی چیف منسٹر سیکٹریٹ کی طرف سے اس کمیٹی کے قیام کا باضابطہ لیٹر جاری کیا جائے۔تاکہ اس ضمن میں کام کا باقاعدہ آغاز ہوسکے۔ہم اس مجوزہ صوبائی کمیٹی میں علاقے میں موجود افراد باہم معذوری کے نمائندہ افراد کی لازمی شرکت کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ان سطور کے ذریعے ہم آپ جناب سے گلہ کرنے میں بھی حق بجانب ہے کہ آپ نے منتخب ہونے کے بعد آج تک علاقے میں موجود نابینا افراد کے ساتھ ایک بھی باضابطہ ملاقات کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ہم بارہا وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں موجود ذمہ دار افراد کے ساتھ ملاقات کے لیے رابطہ کرچکے ہیں لیکن ہر دفعہ ہمیں مایوسی کاسامنا کرنا پڑا۔ہماری بھرپور خواہش ہے کہ کبھی آپ ہمارے درمیان بیٹھے اور ہم سے ہماری تکالیف اور مشکلات کے بارے میں پوچھیں اور مشکلات کے حل کے لیے اقدامات کریں۔

جناب وزیراعلیٰ صاحب

علاقے میں موجود نابینا افراد سمیت دیگر معذور افراد گلگت بلتستان میں آپ کی زیر قیادت صوبائی حکومت کو علاقے کے لیے نیک شگون قرار دیتے ہیں علاقے میں موجود نابینا افراد کی اپنے بنیادی انسانی حقوق کے لیے جدو جہد کی جاری تحریک سے بلاشبہ آپ بخوبی طو پر آگاہ ہیں کیونکہ آپ کے چیف منسٹر بننے سے قبل ہی نابینا افراد کے کئی وفود آپ سے ملاقاتیں کرتے چلے آئیں ہیں اور آپ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے ہیں لہٰذا آپ بخوبی نابینا افراد کے مشکلات اور مسائل سے آگاہ ہیں۔اس کھلے خط کے ذریعے دست بستہ آپ کے حضور التجاء کی جاتی ہے کہ علاقے میں موجود نابینا افراد پر رحم کھا ئیں اور ان کی زندگیوں میں آسانی لانے کے لیے مناسب فوری اور ہنگامی نوعیت کے اقدامات کیجیئے۔یقیناًاس صورت میں ان افراد کے دلوں میں آپ کی عزت و توقیر اور بڑھ جائے گی ۔اور معاشرے کے ان سب سے کمزور اور حساس دل رکھنے والے افرادکی دلوں سے آپ کے لیے ہمیشہ دعائیں نکلیں گی

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔