جی بی کونسل کا خاتمہ ایک دانشمندانہ اقدام

صفدرعلی صفدر

جولائی 2010 کی بات ہے۔ اسلام آباد کے میرٹ ہوٹل میں گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سلف گورننس آرڈر2009 سے متعلق گفت وشنید کی غرض سے ایک نجی ادارے کی جانب سیمینار کا اہتمام تھا۔ کانفرنس کے شرکا میں گلگت بلتستان کے اس وقت کے گورنر قمرالزمان کائرہ، اولین وزیراعلیٰ سیدمہدی شاہ وکابینہ کے علاوہ دیگر سیاسی وسماجی شخصیات، تجزیہ نگاراور صحافی شامل تھے۔ کانفرنس کے میزبان گلگت بلتستان کے لئے متعارف کردہ نظام کی خوبیوں اور خامیوں کے حوالے سے باری باری شرکا ء کی ارا ء قلمبند کررہے تھے۔ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت چونکہ اسی نظام کے تحت ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی۔ چنانچہ وفاق کی نمک حلالی کے طورپر پارٹی کے مرکزی قائدین سے اظہار تشکرکے لئے صوبائی قیادت کے پاس یہ کانفرنس ایک بہترین موقع تھا۔ موقع کو غنیمت جانتے ہوئے پیپلزپارٹی کے گورنر،وزیراعلیٰ سے لیکر عام کارکنوں تک سب نے یک زبان ہوکر زرداری اور گیلانی کی تعریفوں کے پل باندھنا شروع کردیئے۔
جب ہرطرف گورننس آرڈر کے فیوض وبرکات بیان ہونا شروع ہوئے تو ایک کونے میں بیٹھے درمیانے قد کے دبلے پتلے شخص قلم ہاتھ میں لئے اٹھ کھڑے ہوئے ا ور جذباتی انداز میں پیپلزپارٹی پر تنقیدکرتے ہوئے بول دیئے۔ ”جناب یہ سمپل گورننس آرڈر ہے ہماری دہائیوں پر مشتمل قربانیوں کا نعم البدل ہرگزنہیں ہوسکتا۔ اس میں بہت ساری خامیاں موجود ہیں جن میں سب سے بڑی خامی گلگت بلتستان کونسل نامی ادارہ ہماری خودمختاری پرایک لٹکتی تلوار ہے، جس میں ادھے ممبران توبراہ راست وفاق سے لئے جارہے ہیں جبکہ وزیراعظم پاکستان اس کونسل کے چیرمین ہیں۔ اس صورت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے تمام ترفیصلے مقامی سطح پر ہی ہوسکیں گے۔ اس آرڈر کے تحت ہمیں تو ایک جج کی تقرری کے لئے بھی وفاق کا محتاج بنا دیا گیا ہے، وغیرہ وغیرہ’ ‘
میں ان صاحب کی باتوں سے بڑا متاثر ہوا لیکن شناسائی نہ ہونے کے باعث ان سے تعارف کی آس باقی رہی۔ اسی تجسس کی خاطر پاس بیٹھے ایک صاحب کی کان میں سرگوشی کی تو حیرت ذدہ ہوکر بولے ’یار یہ تو راجہ کے ٹو ہیں، ان کو آپ کیسے نہیں جانتے۔‘ درمیان میں چائے کا وقفہ آیا تو میں سیدھے جاکرراجہ صاحب سے بغل گیرہوا۔ تفصیلی تعارف ہونے پر پوچھنے لگے کہ آپ ایک زمانے میں کے ٹو کے ساتھ بھی کام کررہے تھے ناں۔ میں نے اثبات میں سرہلایا توخوشی سے کندھے پر تھپکی دی۔ میں نے کانفرنس میں ان کی حقیقت مندانہ گفتگوکی تعریف کی تو کہنے لگے یار یہاں تو سب نے اس نظام کی تعریفیں شروع کردیں تو مجھ سے بھی رہا نہ گیا اور دل کی بھڑاس نکالی۔ ہم صحافی کسی ایشو پر صرف تنقید ہی کرسکتے ہیں، اس کے علاوہ ہم کرکیا سکتے ہیں۔ کرنا تو انہوں نے اپنا ہی ہے ،لیکن ہم بھی ان کی طرح چپ سادھ لیتے توکانفرنس میں آنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ راجہ صاحب کو کہیں جانے کی جلدی تھی تو چائے سے فراغت کے فوری بعد وہ رخصت ہوئے اور جاتے جاتے مجھے اپنے دفتر چکرلگانے کی دعوت دیدی۔
وقفے کے بعد نامور صحافی اکرام بخاری سمیت دیگر مقررین نے بھی راجہ صاحب کی آرا ء کی حمایت میں اظہارخیال کیا۔کانفرنس کے شرکاء کی اکثریت گلگت بلتستان کونسل کی مخالفت میں تھی اور اسے علاقے پر ایک اضافی بوجھ سمجھ رہے تھے جبکہ پیپلزپارٹی والے اس کے حق میں اپنے دلائل جھاڑ رہے تھے۔
آج جب گلگت بلتستان میں ایمپاورمنٹ اینڈ سلف گورننس آرڈرنافذہوئے نوبرس بات وفاقی سطح پر گلگت بلتستان کونسل کے خاتمے کی   باتیں
گردش کررہی ہیں تو میرے ذہن میں محترم راجہ حسین خان مقپون کی وہ بات کل کی طرح تازہ ہوئیں جو انہوں نے آٹھ برس قبل متزکرہ بالا کانفرنس میں برملا طورپر کہی تھیں۔شاید وفاقی حکمرانوں نے بھی جی بی کونسل نامی ادارے کی کارکردگی سے مایوس ہوکر اس کے خاتمے کا اعادہ کرلیا ہو۔اگر ایسا کیا بھی تو قصور اس میں وفاق ہی کا ہے۔ کارکردگی تو تب نظر آئیگی جب جی بی کونسل کے چیرمین کے پاس کونسل اجلاس کی صدارت کی فرصت ہو۔ جب شاہد خاقان عباسی جیسے وزیراعظم کو یہ تک معلوم نہ ہوکہ ان کے پاس گلگت بلتستان کو نسل کے چیرمین کا عہدہ بھی ہے تو بلا انہیں اس ادارے کے کام اور کارکردگی سے کیا واسطہ ہوسکتا ہے۔
حالانکہ گورننس آرڈر کے تحت گلگت بلتستان کونسل کو علاقے سے متعلق پچپن قسم کے مختلف امورپر قانون سازی کا اختیار حاصل تھا جن میں سے گزشتہ آٹھ سالوں میں کسی ایک پر بھی سنجیدگی سے غورنہیں کیا گیا۔ ہرچند پر اگر کوئی بحث ومباحثے ہوئے بھی تو وہ صرف کاغذوں کی حدتک ہی رہ گئے ۔ جی بی کونسل سے اگرتھوڑی بہت فائدہ ملا تو وہ صرف اور صرف متعلقہ ممبران کی حدتک ہی تھا۔ جس کے تحت پہلے پیپلزپارٹی اور اب مسلم لیگ نواز کے چند رہنماؤں کی دال روٹی گل رہی ہے۔ اب جب کونسل کے خاتمے کی باتیں ہورہی ہیں تو وہی ممبران کے علاوہ کسی طرف سے بھی کوئی اعتراض نہیں اٹھایا جارہا ہے۔
چنانچہ وفاق کی جانب سے گلگت بلتستان کونسل کے خاتمے کا یہ فیصلہ انتہائی دانشمندانہ ہے۔ بشرطیکہ گورننس آرڈرکے تحت کونسل کو تفویض کردہ تمام ترامورپر قانون سازی کا اختیار گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کو تفویض کئے جاتے ۔ شاید جی بی کے آئینی حقوق کے تعین کے لئے سرتاج عزیر کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو بھی اس بات کی فکر لاحق ہوئی ہو۔اسی لئے کمیٹی نے وفاقی سطح پر خطے سے متعلق تیارکردہ اصلاحاتی پیکیج میں تمام تر علاقائی امورکے حوالے سے فیصلے مقامی حکمرانوں کے ہی سپرد کرنے کی سفارشات تیاری کی ہیں۔
مزید برآں گلگت بلتستان کے عوام کی سترسالہ محرومیوں کے ازالے کے لئے پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں خطے کی مناسب نمائندگی بھی وقت اور حالات کا تقاضا تھا ۔ مگر اس حوالے سے سننے میں یہ آرہا ہے کہ کمیٹی کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی قابل اطمینان اقدام نہیں اٹھایا گیا ہے۔اس سلسلے میں شاید عالمی سطح پرگلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت اور خطے سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادیں رکاوٹ کا باعث بنیں۔لہذا وفاقی سطح پر تیارکردہ پیکیج میں گلگت بلتستان کو پاکستان کی پارلیمان میں نمائندگی نہ سہی تو کم سے کم قومی سطح کے مالیاتی اداروں میں نمائندگی اور شراکت داری انتہائی لازمی ہے۔ کیونکہ جی بی کونسل کا خاتمہ کرکے علاقائی امورپر قانون سازی کا اختیار قانون سازاسمبلی کو تفویض کرنے کی صورت میں خطے کے مالی وسائل کی طلب میں بھی اضافہ ہوگا ۔ان اضافی اخراجات کی پوراگی قومی مالیاتی اداروں میں شراکت داری کے بغیر کسی صورت ممکن نہیں۔
بہرحال ماضی کی روایات کے برعکس اس مرتبہ گلگت بلتستان کے لئے مجوزہ پیکیج کی تیاری میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کو بھی آن بورڈ لینے کے دعوے کئے جارہے ہیں۔ لہذا اس بار پہلے کی نسبت زیادہ بہتر پیکیج کی توقع کی جاسکتی ہے۔ایسا نہ کرنے کی صورت میں مرحوم راجہ صاحب کے بقول ہم صرف اس متوقع پیکیج پر تنقید ہی کرسکتے ہیں۔ آج کا یہ کالم تحریر کرتے وقت مجھے راجہ حسین خان مقپون صاحب کی وہ باتیں اس وجہ سے یاد آئیں کہ آج مرحوم راجہ کو اس دنیا فانی سے بچھڑے ہوئے چھ برس مکمل ہوئے اور صبح ان کے اخبار میں ان کی برسی کے حوالے سے خصوصی اشاعت پڑھ کران کے ساتھ گزری یاد تازہ ہوگئی۔میری دعا ہے اللہ تعالیٰ مرحوم راجہ حسین خان مقپون کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔(آمین)

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments