روداد مشاعرہ

روداد مشاعرہ

32 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:جمشید خان دکھی

حلقہ ارباب ذوق(حاذ)گلگت کے زیر اہتمام ماہانہ مشاعرہ26مارچ2017کوریویریا ہوٹل گلگت میں سہ پہر دو بجے دن منعقد ہوا جس میں پروفیسر محمد امین ضیا، عبدالخالق تاج، محمد نظیم دیا حفیظ شاکر، غلام عباس نسیم، فاروق قیصر، نذیر حسین نذیر عاجز نگری، تہذیب برچہ، عبدالبشیر ،عباس صابر، یونس سروش لطیف ساجد، رحمان آہی ، رضا عباس تابش اور جمشید خان دکھی نے شرکت کی۔ نظامت کے فرائض غلام عباس نسیم اور رضا عباس تابش نے انجام دئے۔ اس مشاعرے میں محترم عنایت اللہ خان شمالی سرپرست اعلیٰ دیامر رائیٹرز فورم اور دساور سے تشریف لانے والے معروف شاعرلطیف ساجد بھی شریک ہوئے ۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے جناب عنایت اللہ خان شمالی صاحب نے کہا کہ ایک عرصے تک حاذ سے دور رہ کر شدید کمی محسوس کی۔ انہوں نے حاذ کی ادبی خدمات کو سراہا۔اس موقع پر پریس کلب گلگت کے صدر جناب اقبال عاصی کو باردیگر بلامقابلہ گلگت پریس کلب کا صدر منتخب ہونے پر دلی مبارکباد دی گئی۔یاد رہے کہ عاصی حاذ کے پرانے اور اولین احباب میں شامل ہیں اور ایک معروف شاعر بھی ہیں۔اس موقع پر معروف شاعر عبدالخالق تاج،، نذیرحسین نذیر اور غلام عباس صابر نے شنا میں اپنا خوبصورت کلام سنا کر سامعین سے خوب داد حاصل کی۔

یاد رہے کہ پچھلے مشاعرے کا مصرعہ طرح درج ذیل شعر کا پس مصرعہ تھا۔

دو جہاں چھوڑ کر ملو اس سے
“وہ کہ رہتا ہے دو جہاں سے الگ”

جن شعراء کرام نے اردو طرحی اور غیر طرحی کلام سنایا ان کا نمونہ کلام نذر قارئین کیا جاتا ہے:

پروفیسر محمد امین ضیاء

جنگ میری ہے آسماں سے الگ

واعظِ شہر بد زباں سے الگ

ہجر اور وصل بس میں رکھ کر بھی

سو بہانے ہیں عاشقاں سے الگ

نظیم دیا

ہوگیا میں کہاں کہاں سے الگ

جسم سے ہوگیا میں جاں سے الگ

حفیظ شاکر

سارے عالم کو کردیا حیراں

چاند کو کرکے درمیاں سے الگ

غلام عباس نسیم

ایسا رہبر تلاشئے اب کے

ہو اذاں جسکی ہر اذاں سے الگ

یونس سروش

فکر ہو اپنی ہر گماں سے الگ

ظرف ہو بحرِ بے کراں سے الگ

تہذیب برچہ

دین سے ربط ہے نہ دنیا سے

اپنا حلقہ ہے دو جہاں سے الگ

فاروق قیصر

تیری جنت میں اے خدا ! ہر گز

رہ نہ پاؤں گا اپنی ماں سے الگ

جمشید خان دکھی

قوم کی سوچ حکمراں سے الگ

جیسے بلبل ہو آشیاں سے الگ

مل کے سوچیں تو کوئی بات بنے

سوچ حاکم کی پاسباں سے الگ

پھر کسی کام کا رہا ہی نہیں

تیر جب سے ہوا کماں سے الگ

شیر بسنے لگے چمن میں تو لوگ

کیسے ہوتے نہ گلستاں سے الگ

ہے بیانوں کی جنگ یہ، آصف

تو نہ ہوگا کبھی میاں سے الگ

غیر طرحی کلام

عبدالخالق تاج

بند مٹھی کو خدا را مت کرو
تیری مٹھی میں کسی کی جان ہے

لطیف ساجد

یہ شرف آدمی کو حاصل ہے
آدمیت سے کھیل سکتا ہے

عنایت اللہ خان شمالی

جس دین کی تشریح سے مچتی ہو تباہی
اس دین کی تشریح بھی تفسیر بھی فتنہ

اگلے مشاعرے کیلئے صدر حلقہ کی جانب سے کسی نا معلوم شاعر کے درج ذیل شعر کا پس مصرعہ بطور طرح دیا گیا ہے جسمیں ’’اشجار ‘‘ قافیہ اور بہت ہیں ردیف ہے :

یہ دھوپ کی سازش ہے کہ موسم کی شرارت
“سائے ہیں وہاں کم جہاں اشجار بہت ہیں”

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments