اُف یہ درندگی

اُف یہ درندگی

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

حمزہ گلگتی

درندگی کا ایسا واقعہ ایک بار نہیں کئی بار رونما ہوچکے ہیں، اسی مملکتِ خداداد کی سر زمین کو جذبات سے مغلوب لوگوں کے ہاتھوں بارہا ہم نے رنگین ہوتے دیکھا ہے۔دور نہ جائیے سات سال قبل سیالکوٹ میں دو بھائیوں کا بھیڑ میں درندگی سے قتل پھر انہیں لٹکانا ہم نہیں بھولے ہیں۔اللہ اللہ کیسا قیامت خیز موقع تھا۔۔اور بے حسی کا کیساعجیب منظر۔اگر میری یادداشت درست ہیں تو حیوانیت کا یہ کام ان بد بختوں نے رمضان کے مبارک مہینے میں کیا تھا۔کچھ لوگ پکڑے گئے تھے پھر نہ جانے کیا ہواان کے ساتھ۔مجرم انجام سے دوچار ہوئے یا باعزت بری ہوئے ۔نہ ہمیں اس سے سروکار ہے،نہ تفصیل میں جانے کی ضرورت، ہم نے تو وہ درندگی دیکھ لی اورچند قطرے آنسووں کا بہاکے آگے نکل گئے۔۔آج میرے پیارے دیس میں وہی تاریخ پھر دھرا یا گیا ہے۔ایسے بہت سارے واقعات ہوئے اور ہوئے ہونگے،ہم سے دور میڈیا کی نظروں سے اوجھل۔۔ لیکن آج کے واقعے کا میں بیان نہیں کر سکتا۔۔بس ذہن میں کچھ سوالات ہتھوڑے کی طرح برس رہے ہیں۔۔؟کہاں گئی ہے انسانیت؟کہاں ہیں پیارے آقا کے وہ دروس۔۔ ؟کیوں بھولے ہم رحمت اللعالمین کے ان تعلیمات کو۔۔؟بچہ خان یونیورسٹی کے درو دیوار پچھلے سال کے ابتداء میں بھی روئے ہونگے،جب وہاں حملہ ہوا اور متعدد طلباء شہید ہوئے، مگر آج ان کی حالت کچھ اور ہوئی ہوگی۔آج ان کے آنسوو ں میں جگر کا خون بھی شامل ہوا ہوگا۔تب بیس جنوری کو اس یونیورسٹی میں دشمن نے وار کیا تھا ،جس پر ایک عزم جواں ہوا تھا،سب یک زباں کہہ رہے تھے دشمن کو اپنے عزم سے شکست دینگے۔۔مگرآج۔۔۔آج ہم کونسا عزم کرے ؟ کس دشمن کے خلاف۔۔؟اُس بھیڑ میں کو ن تھا جو مسلمان نہ تھا یا اسلام کا دشمن تھا۔۔؟ کون تھا جو پاکستان کا دشمن تھا۔۔؟جواب ہے شاید کوئی نہیں۔۔ کہاں سے لاؤں الفا٭۔۔۔کیا آج لکھتے ہوئے کسی سے الفاظ کی بھیگ بھی مانگنا پڑے گا۔۔۔؟

یارو! میں سوچ رہاں ہوں درندگی کے اس فلم کو نہ ہی دیکھا ہوتا۔۔۔اللہ‘ اکبر پکار پکار کے وہ کونسا خدمت انجام دے رہے تھے؟

عجب اک سانحہ سا ہو گیاہے

اچھا ہوتا اسے نہ دیکھتا ،مگرجب دیکھ ہی لیا ہے تو کچھ عقدے ضرور کھل گئے ہیں۔

ایک واقعہ آپ کے گوشِ گزار کروں پھر آگے بڑھتے ہیں۔ گزشتہ سال جنوری میں ہم کچھ دوست سلواکیہ میں ایک کانفرس کے سلسلے میں گئے تھے۔ہم میں ہر مذہب،اور ہر دیس کے لوگ تھے۔واپسی پر ٹرین کی ایک بوگی میں ایک الگ ڈبے میں سب اکھٹے سوار تھے۔راستے میں ایک جگہ 14اور 15سال کے دو لڑکے سوار ہوئے۔وہ کچھ شرارتی معلوم ہورہے تھے۔ہمارے ڈبے میں بھی بوتلیں لیکر گھس آئے۔وہ اصرار کر رہے تھے کہ ہم بھی پی لے۔لیکن کوئی بھی نہیں چاہا۔ہم انہیں خواتین سے دور رکھنا چاہتے تھے مبادا کوئی حرکت کر بیٹھے۔انہیں انگلش نہیں آتی تھی فقط کچھ الفاظ جیسے سکولوں میں ہم بھی یاد کیا کرتے تھے۔۔انہوں نے ہم سے ہمارے بارے پوچھنا شروع کی۔جب میں نے پیارے ملک پاکستان کا نام لیا تو انہوں نے اللہ اکبر اللہ اکبرکے ساتھ چیختے ہوئے اپنی زبان میں کچھ کہنا شروع کئے۔۔ساتھ ہنستے بھی جاتے تھے۔۔میں نے ان سے اس بارے پوچھنے کی کوشش کی کہ کہاں سے انہوں نے یہ سب سیکھی اورکیا پسِ منظر ہے مگر وہ میری بات نہیں سمجھے۔۔وہ ہمارے ساتھ لمبے سفر کی مشقت سے بچنے کے لئے کچھ دل لگی کر کے چلے گئے مگر میرے لئے سوچنے کو بہت کچھ چھوڑ کر بھی گئے۔۔

انہوں نے یہ کیوں پکارے؟

آج سمجھ میں آیا کہ ہم اس طرح اللہ کے مبارک نام کا نعرہ لگا کر قانون ہاتھ میں لیکر خود ہی فیصلہ کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔کسی کو صفائی کا موقع نہیں دیتے ہیں۔۔اور لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔۔یہ واقعات انٹر نیشنل میڈیا میں آتے ہیں۔۔۔سوشل میڈیا میں ان کا چرچا ہوتا ہے۔۔آناََ فاناََ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھا انسان ایسی درندگی کو دیکھتا ہے۔۔اس ملک کے لوگوں کا اشتعال دیکھتا ہے۔۔ان کی زبان سے اَدا ہونے والے الفاظ پر غور کرتا ہے۔۔تب اُس کے ذہن میں ایک بات پوری وضاحت کے ساتھ فیڈ ہوتی ہے کہ فلاں ملک کے لوگ اللہ کا نام لیکر لوگوں کو قانون سے ماورا مارتے ہیں۔۔دنیا میں اور جگہ بھی ایسے واقعات ہوتے ہونگے۔۔۔مگر ہمیں اپنے ملک کو دیکھنا ہے۔۔نہ ہمیں اپنے ملک کو بدنام کرنا ہے نہ دینِ اسلام کو ۔۔ہمیں ایسے نظریات کے لوگوں سے کوئی تعلق اور ہمدردی نہیں ہونی چاہئے جو قانون اور حکومت کے علم میں لائے بغیر خود ہی فیصلہ کرے اور لوگوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ ااُتار دے۔۔قانون کو حرکت میں آناچاہیئے۔۔اگریہ بات درست ہے کہ توہینِ رسالت ﷺ پر یہ واقعہ ہوا ہے تب بھی کسی کو ایسی درندگی کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔۔اس کی بھی پوری تحقیق ہونی چاہیئے۔۔پوری دیانت داری سے سوچنا ہوگا،بدنام مدارس ہیں،مگر مدارس ایسے کاموں سے ہمیشہ بری الذمہ رہے ہیں جو کل پڑھے لکھوں نے باچہ خان (عبدالولی خان) یونیورسٹی میں برپا کیا۔۔۔کیا یہ سب کچھ ہونا چاہئیے تھا؟ اگر ہوا تو کیوں ہوا؟ ذمہ دار کٹہرے میں آئینگے؟اگر ایسا کوئی واقعہ خدا نہ کرے کسی مدرسے میں ہوتا تو کیا کچھ نہ ہوتا۔۔

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق پولیس اور ضلعی انتظامیہ اس کشیدگی سے باخبر تھے۔۔سوال ہے قانون نافذ کرنے والوں کے باخبر ہونے کے باوجود کیوں یہ درندگی برپا کی گئی؟کیوں ملک کو بد نام کیا گیا؟کیوں اسلام جیسے پرُ اَمن مذہب کے بارے لوگوں کو منہ کھولنے کا موقع دیا گیا؟ خدا را! اپنے انتقام کی جنگ جیسی لڑنی ہے ویسے لڑو مگر اسلام کو تو بدنام مت کرو۔اسلام کبھی بھی ایسے کسی کام کی اجازت نہیں دیتا۔میں نے علمائے کرام سے بات کی ہے۔انہوں نے بھی اسے درندگی کہا ہے۔شرمناک گردانا ہے۔۔مجھے افسوس ہے ان لوگوں پرجو اپنے آپ کو تعلیم یافتہ کہتے ہیں اور یہ سب کچھ کر گزرتے ہیں۔ہمارے پیارے ملک کی قوانین ایسے کاموں کی اجازت دیتیں ہیں نہ ہی اسلام کا ایسا کوئی حکم ہے کہ کوئی بھی بندہ مشتعل ہو کر اسلام کے نام پر ایسی درندگی برپا کرے۔ایسے کاموں کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔۔یہاں ان سیکولر لابیوں کے لئے بھی پیغام ہے جو دینی اداروں سے منسوب کسی چھوٹے واقعے کو بنیاد بنا کران کو سیل یا ختم کرنے کی دہائی دیتے ہیں۔۔۔کیاآج کوئی آگے آکریہ مطالبہ کرے کہ بچہ خان یونیورسٹی کو ہی بند کردیا جائے یا ساری یونیورسٹیوں پر پابندی لگائی جائے۔۔؟

انتہائی دکھ کے عالم میں ان منتشر خیالات کو مجتمع کیا ہے۔۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمجھ عطا فرمائیں۔۔آمین

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔