فکرِ فردا(سکینڈ لیفٹیننٹ معید شہید کے نام ایک خط)

یہ خط میں نے سکینڈ لیفٹیننٹ عبد المعید شہید ،عمر21سال ،ساکن بورے والا ضلع وہاڑی ،یونٹ ناردرن لائٹ انفنٹری کے نام لکھا ہے ۔معید شہید پہلا فوجی نہیں کہ جس نے وطنِ عزیز کے لئے جان کا نظرانہ پیش کیا ہو بلکہ پاکستان کا 70 سالوں پر محیط آزادی کا سفر ایسے ہزاروں سپاہیوں اور افسروں کی جرات مندانہ بہادریوں اور شہادتوں کی داستانوں سے متصل ہے ۔لیکن جب سے سکینڈ لیفٹیننٹ معید شہیدکا بادِ صبا میں کھِلے کسی پھول کی مانند ہنستے بستے چہرے پر مسکراہٹ سے مزّین تصویر میری نظر وں سے گزری ہے لگتا ہے کہ میرے دل کی دیواروں پر منقّش ہو گئی ہو اور جب بھی فرصت کے کسی حَسیں لمحے میں خیالوں کی دنیا میں کھو جاتا ہوں تو گماں ہوتا ہے کہ معید تصویر سے نکل کر میرے پہلو میں آبیٹھا ہو اور مجھ سے کئی سوالات کر رہا ہو کہ جن کے جوابات دینے کی سکت ایک مردہ قوم کے کسی فردمیں ابھی تک پیدا نہیں ہو سکی۔

میں نے اس کے شہید ہو نے کی خبر کل صبح ایک نیوز چینل کے توسط سے سنی تھی۔پاک فوج کے چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ “آج ہم اگر آزاد ہیں تو اپنے بیٹوں کی قربانیوں کے سبب ہیں “جیسا کی میں ایک مردہ پرست اور فکری لحاظ سے مفلوج قوم کا فرد ہوں سو میں بھی ایک لمحے کے لئے افسوس کا اظہار کرکے واقعے کو بھلا دینا چاہتا تھالیکن جب دفتر پہنچ کر کمپیوٹر سکرین پر نظر پڑی تو سوشل میڈیا پر معید کی تصویر کو دیکھ کر ایک کرب کی عجیب سی کیفیت سے دوچار ہوا اور کوئی کام کرنے سے قاصر رہا ۔جبکہ رات کے پچھلے پہر سونے کے لئے اپنی آنکھیں بند کیں تو اس کا چہرہ ایک دفعہ پھر میری نظروں کے سامنے نمودار ہواسو میں نے اس کے ہونٹوں پر رقصاں سوالات کے جوابات دینے کے لئے اسے خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔یہ تو میں بھی جانتا ہوں کہ مردے خط نہیں پڑھ سکتے جبکہ دورِ جدید کا تقاضا بھی یہی ہے کہ خطوط کا سلسلہ بھی اب تقریباََ مفقود ہو چکا ہے لیکن میں وہ ماضی پرست ہوں جو خط پر اکتفا کروں گا کیونکہ کہتے ہیں کہ شہید کبھی نہیں مرتے بلکہ زندہ ہوتے ہیں سو میں سمجھتا ہوں کہ معید تک میرا پیغام کسی نہ کسی شکل میں ضرور پہنچے گا جبکہ اسی بہانے اپنے کرب کا اظہار کرنے کا موقع بھی میسر آئے تو غنیمت ہے

جس خبر میں معید کی شہادت کا ذکر تھا اس میں بتایا گیا تھا کہ دہشتگردوں نے میرانشاہ دتہ خیل میں ایک فوجی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے سبب ان کے ساتھ ساتھ ایک سپاہی کی شہادت واقع ہوئی۔

سکینڈ لیفٹیننٹ معید شمالی وزیرستان میں تمہاری متاثرہ گاڑی جب میری نظر وں سے گزری ایک لمحے تک میں حیرت کی تصویربنا رہا کہ وہ کون تھا کہ جس نے تمہاری ماں کی محبت کو تم سے چھین لیا ۔وہ کون تھا جس نے تمہاری جوانی کے ارمانوں کو وزیرستان کی ویرانوں میں ملیا میٹ کیا اور وہ کون ہے جو تمہاری اور دیگر فوجیوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کے خون کا پیاسا ہے اور جس کی بربریت اور جنونیت ہزاروں بے گناہ افراد کا خون بہانے کے باوجود کم نہیں ہوسکی۔

ایک اجنبی کے ہاتھ لکھے خط کو پڑھ کر حیرت تو ضرور ہوتی ہے۔یقیناًتمہیں بھی اس کا احساس ہوا ہوگا لیکن ایک ایسا فرد جس کا خطہ وقتِ حاضر میں بھی شناخت سے محروم ہو وہ بھلا اپنی شناخت بھی کن الفاظ میں ظاہر کرے بہرحال میں پاکستان کے انتہائی شمال میں واقع گلگت

بلتستان کا شہری ہوں ۔گلگت بلتستان کا نام تم نے ضرور سنا ہوگا کیونکہ تمہاری متاثرہ گاڑی میں موجود سپاہی بشارت کا تعلق بھی اسی علاقے سے تھاسو اس نے کبھی تم سے اس جنت نظیر خطے کا ذکر تو ضرور کیا ہوگاجبکہ میں ایک ایسے بدقسمت علاقے کا فرد ہوں کہ جس کے ہزاروں جوانوں نے کارگل کے ساتھ ساتھ دیگر محازوں پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور آج بھی ملک کی سرحدوں کی حفاظت اسی خطے کے جفاکش اور جری فوجی جوان کر رہے ہیں لیکن جب بھی اپنی شناخت اور حقوق کی بات کرتے ہیں تو انہیں متنازعہ علاقے کا باسی قرار دے کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔

میں اپنا تعارف کراتے کراتے گلگت بلتستان کی محرومیوں کا دُکھڑا سنانے لگا ۔ میں کہہ رہا تھا کہ میں قلم قبیلے کا ایک مزدور ہوں۔لفظ مزدور سے تم یہ نتیجہ اخذ نہیں کرنا کہ مجھے اپنی تحریروں کا باقائدہ معاوضہ ملتا ہو ۔میں قلم کا وہ مزدور ہوں جس کو اس کی مزدوری بھی نہیں ملتی بلکہ کبھی کبھار اخبارات و رسائل میری بے باک تحریروں کو اپنے اخبار کا حصہ بنانے سے بھی ہچکچاتے ہیں مگر کیا کروں کہ مجھے خواب دیکھنے کی عادت ہے اورمجھے اپنے معاشرے کی تلخ حقائق سے ایک لمحے کے لئے چشم پوشی کرکے خوابوں کی دنیا میں رہنا اچھا لگتا ہے۔کبھی کبھار میں سوچتا ہوں کہ نہ جانے کیوں لوگ مذہب،رنگ ،نسل اور علاقے کی تعصبات کو دل میں بسا کر دوسرے لوگوں کے لئے نفرت کے جذبات رکھتے ہیں اور حضرتِ انسان کا ناحق خون بہانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔نہ جانے کیوں سائنس نے سینکڑوں اقسام کے ایٹمی اور ہائیڈروجن بم تخلیق کیے ہیں جو ایک نہ ایک دن زمین پر انسانیت کے لئے ہی تباہی و بربادی کا نقارہ ثابت ہونگے ۔نہ جانے کیوں لوگوں نے دنیا کو تقسیم کرکے مختلف ممالک کا نام دیا ہے حالانکہ قدرت نے کائنات کی تخلیق میں کو ئی تفریق اور امتیاز نہیں برتی اور نہ جانے کیوں لوگ آج دنیا کے بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں اپنے سینوں کو علم کی روشنی سے منور کر رہیں ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ آج ہمارا معاشرہ عبد الستار ایدھی،مدر ٹریسا،رتھ فاؤ یا فلورینس نائٹ اینگیل جیسی انسان دوست شخصیات جنم دینے سے قاصر ہے بلکہ آج ہمارا معاشرہ مذہبی جنونیوں اور جہلا ء کوپیدا کر رہا ہے جو تم جیسے نوجوانوں سے انکی جوانی چھین لیتے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ تم کبھی گلگت بلتستان نہیں آئے لیکن میں تمہارے لڑکپن اورجوانی کے ابتدائی دور کے لاہور کا متلاشی ہوں اور جب بھی ایک لمحے کے لئے اپنی آنکھیں بند کرتا ہوں تو لگتا ہے کہ رات گئے مال روڑ پر کسی بے گھر جوگی کی طرح آوارہ گردی کر رہا ہوں اور اب بھی تمہیں یہ خط لکھتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ انار کلی کے کسی منڈیر پر بیٹھا تم سے کلام کر رہا ہوں۔

معید تم نے سنا ہوگا کہ تاریخ اقوام عالم میں دیکھا جائے تو جنگیں ہمیشہ انسانیت کے لئے تباہی و بربادی کا باعث بنی ہیں اور بد قسمتی سے آج ہمارا ملک بھی ایک جنگ کی کیفیت سے دوچار ہے مگر حیرت کی بات ہے کہ مرنے اور مارنے والے اسی ملک کے شہری ہیں۔ہم پر ایک ایسی جنگ مسلط کی گئی ہے کہ جس کی شروعات تو ہو چکی ہے لیکن اس کا اختتام کب ہوگا اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگالیکن تاریخ کے مضمون کو پڑھنے کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے کہ ماضی کے جھروکے میں جھانک کر مستقبل کے لئے نئی راہیں متعین کی جائیں سو ہمیں اس جنگ کی شروعات کے اسباب تلاش کرنے ہیں تاکہ دہشتگردی کے ناسور کی جڑوں تک پہنچ کر اس کا خاتمہ کیا جاسکے تو نہایت افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ1970-80کی دہائی میں ایک فوجی آمر نے امریکی ایما پر افغانستان میں سوویت یونین کی فوجیوں کے خلاف لڑنے کے لئے پاکستانی سرزمین پر جہادی ٹریننگ سینٹرز قائم کرائے جن کے لئے خام مال مدارس سے مہیا کیا جاتا تھا جہاں سے تربیت دے کر دہشتگردوں کو سوویت یونین فوجیوں کے خلاف لڑنے کے لئے بھیجا گیا۔ایک عرصے بعد سوویت یونین کی فوجیں جب افغانستان سے نکل گئی تو ریاستی اداروں نے ان ٹریننگ سینٹرز کی امداد کا سلسلہ بند کیا جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ جہادیوں نے ریاست کے خلاف ہی ہتھیار اٹھا ئے اور قتل عام کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ریاستی اداروں نے ان دہشتگروں کو لگام دینے کے لئے کئی آپریشن کیے لیکن کوئی خاطر خواہ نتائج بر آمد نہیں ہوئے بلکہ اس سلسلے میں کمی آنے کے بجائے مزید تیزی آئی جبکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ریاستی ادارے وزیرستان میں آپریشن کے ذریعے چند دہشتگردوں کا خاتمہ تو کر سکتے ہیں لیکن ان کی جہالت اور جنونیت سے مملو سوچ کو کبھی ختم نہیں کر سکتے کیونکہ آج اسلام آباد،کراچی،پشاور ،کوئٹہ ،لاہور یا اندرون پنجاب ایسے کئی صحافی ،ججز،وکلاء،مدارس کے کم علم ملّااورطلباء موجود ہیں جو اسی غلیظ سوچ کے مالک ہیں یا طالبانائزیشن یا مذہبی جنونیوں کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں سو جب تک ہم مذہبی جنونیت یا مختلف صوبوں کے عوام کی محرومیوں کے سدبا ب کے لئے کوئی جامع پلان تیار نہیں کرتے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔

دنیا کے کسی خطے میں آباد کوئی قوم جب فکری جمود کا شکار ہو جائے یا لوگوں کے اذہان غلط افکار سے آلودہ ہو جائیں تو انہیں تعلیمی انقلاب کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔معید تمہاری پہلی پوسٹنگ کے وقت تمہیں بتایا گیا ہوگا کہ تمہیں شمالی وزیرستان میں آپریشن کا حصہ بننا ہے جہاں کے مذہبی جنونیوں نے ملک کو کئی بار خون میں نہلایا ہے لیکن مجھے افسوس ہے کہ تمہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ وزیرستان میں لوگوں کی زندگی لاہور یا ملک کے کسی بڑے شہر کی نسبت کہیں بدتر ہے ۔وزیرستان کا المیہ یہ ہے کہ وہاں ملک کے دیگر خطوں کی طرح نامی گرامی تعلیمی ادارے موجود نہیں اور اگر کچھ ابتدائی سطح کے تعلیمی ادارے موجود بھی ہیں تو لوگ غربت کے سبب اپنے بچوں کو ان اداروں میں بھیجنے سے قاصر ہیں۔معید تم نے ملک کے ایک بڑے تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کیا تھاسو تمہارے افکار وطن کی حفاظت اور ملک کو سنوارنے سے مشروط تھے جبکہ غربت کے سبب وزیرستان کے کسی مدرسے کے جاہل ملّا سے ابتدائی دو چار جماعتوں کی کتابیں رٹ رٹائے ایک نو جوان سے ہم کیسے توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ ملک کی ترقی و خوشحالی کے خواب دیکھے اُس کے لئے تو مدرسے کی چاردیواری ہی پوری دنیا ہوتی ہے اوروہ اسی احاطے کو کائنات کاسب سے مقدس قطعہ تصور کرتا ہے اور اس کی محرومیاں اسے مسلسل بے چین کیے رکھتی ہیں کہ وہ اپنی محرومیوں کا ازالہ دوسرے معصوم انسانوں کو خون میں نہلا کر پورا کرے۔

ایک طرف ریاست جنگ کی سی کیفیت سے دوچار ہو جبکہ دوسری طرف اربابِ اختیار پھر بھی ہوش کے ناخن نہ لیں تو یہ بہت بڑی تباہی کا شاخسانہ ہو سکتا ہے ۔معید تم نے ابھی زندگی کی 21بہاریں دیکھی تھیں اور تمہارے سامنے ایک بھرپور زندگی تھی کہ جسے تمہیں آزادی سے گزارنے کا پورا پورا حق تھالیکن صد حیف کہ تمہاری جوانی مذہبی جنونیت اور ماضی کی غلط پالیسیوں کی بھینٹ چڑھی ۔تم تو اقبال کے شاہین تھے لیکن وحشیوں نے تمہاری پرواز سے قبل ہی تمہارے پَر کاٹ دیے۔تمہیں موت کاا ذن سنانے والے نے ایک لمحے کے لئے یہ بھی نہیں سوچاکہ وہ ایک قوم کے مستقبل کے معمار کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے موت کی نیندُ سلا رہا ہے اور ایک ایسے جرم کا مرتکب ہو رہا ہے کہ جس کی سزا اس کی آنے والی نسلیں ضرور بھگتیں گی۔

معید تمھارے سامنے اپنے دل پر لگے زخموں کے قصّوں کا پٹارہ کھول ہی دیا ہے تو یہ بھی بتاتا چلوں کہ تم نے وطن کے لئے جان کا نذرانہ دے کر اپنا فرض پورا کیا اور امر ہوگئے کیونکہ موت تو ایک اٹل حقیقت ہے اور فانی انسان نے ایک نہ ایک دن خاک کا حصہ ضرور بننا ہے لیکن پیارے!میں اس قوم کی بے حسی دیکھ کر روز مرتا ہوں ۔غربت کے سبب اپنے بچوں کو زہر دے کر خودکشی کرنے والی ایک ماں کا قصہ جب میری سماعتوں سے ٹکراتی ہے توایک لمحے کے لئے میرے اوسان خطا ہوجاتے ہیں۔اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لئے عصمت فروشی کرنے والی ایک دوشیزہ کی کہانی گلی کوچوں میں طنزیہ بیان کرتے ہوئے نوجوانوں کو جب دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے اور کسی ورکشاپ یا ہوٹل میں برتن مانجھتے کسی معصوم کمسن بچے کی کلیوں سے نازک ہاتھوں پر پڑے چھالوں پر جب میری نظر پڑتی ہے تو میرے کلیجے پر تیر چلتے ہیں۔معید تم نے شہید ہوکر وطن کا قرض اتار دیا لیکن میں روز ایک موت کی سی کیفیت سے دوچار ہوں ۔آج تمھاری سفید اجلے لباس میں ملبوس لاش کو دیکھ کر ایک عجیب غم کی کیفیت سے دوچار ہوں اور فکرِ فردا کی کسک میرے دل کو مسلسل بے چین کر رہی ہے کہ کاش آنے والے دنوں میں کوئی ایسی صبح طلوع نہ ہوکہ جس کا اختتام تم جیسے کسی فوجی جوان کی ماں کو اس کی موت کی خبر پر ہوکیونکہ آج جس طرح ملک میں مذہبی جنونیت فروغ پا رہی ہے یا مختلف صوبوں کے عوام کی محرومیاں بڑھ رہی ہیں مجھے بھیانک قسم کے اندیشوں نے گھیر رکھا ہے کہ کاش آج کے بعد کسی تعلیمی ادارے کے درو دیوار طلباء کے خونِ ناحق سے غلطاں نہ ہوں ۔میری دلی آرزو ہے کہ مستقبل میں کسی امام بارگاہ کے ماتمیوں کے سینے گولیوں سے چھلنی نہ ہوں اور نہ کسی چرچ میں بارود کی بُو پھیلے۔میری تمنا ہے کہ کسی مسجد کی فضا گولیوں کی وحشت ناک آوازوں سے نہ گونجیں اور نہ کسی صوفی کی درگاہ بے گناہ زائرین کے لئے مقتل کا میدان بنے بلکہ ملک میں امن و آشتی کا ایک ایساسورج طلوع ہو کہ جہاں حضرتِ انسان کا وجود کسی دوسرے انسان کے لئے خوف و وحشت کا باعث نہ بنے مگر اس کے لئے لازم ہے کہ ریاستی ادارے ماضی کی غلط پالیسیوں سے سبق سیکھ کر امن و آشتی کے لئے ایک ایسا جامع پلان مرتب کریں کہ جو اس ملک میں رہنے والے ہر فرد کے لئے بلا تفریق مذہب، رنگ ونسل سلامتی کی ضامن ہو۔

آپ کی رائے

comments