گلگت: جامعہ نصرۃ الاسلام میں سالانہ تقریب ختم مشکوٰۃو دستارفضیلت، سینکڑوں علماء کی شرکت

گلگت: جامعہ نصرۃ الاسلام میں سالانہ تقریب ختم مشکوٰۃو دستارفضیلت، سینکڑوں علماء کی شرکت

24 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(خصوصی نامہ نگار)جامعہ نصرۃ الاسلام و جامعہ عائشہ صدیقہ میں سالانہ ختم مشکوٰۃ و دستارفضیلت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الحدیث مولانا عبدالشکور دیامری نے کہا کہ حدیث نبوی ﷺ کی تعلیمات سے ہی دنیا میں نور پھیل سکتا ہے۔ طبقہ طائفہ وہی ہے جو خدا تعالیٰ کیے آفاقی احکامات اور محمد رسول اللہ کی تعلیمات پر دل و جان سے عمل پیرا ہو۔اسلام ، قرآن،حدیث اور علماء دین سے محبت کرنا، شعار دین میں سے ہے۔ دینی علوم و مراکز کا پھلنا پھولنا اور طلبہ و طالبات کی تعداد میں اضافہ ہونا اور عامۃ الناس کا دین کی طرف راغب ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اسلام دنیا کا واحد آفاقی دین ہے جو ہر دور اور زمانے کے لیے قابل قبول بھی ہے اور تمام مسائل کا حل بھی اسی میں ہے۔

ان خیالات کا اظہار جامعہ محمدیہ اسلام آباد کے شیخ الحدیث و شیخ القرآن مولانا عبدالشکور دیامری نے کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں زور دے کر کہا کہ ہمیں قاضی نثاراحمد پرمکمل اعتماد ہے۔ قاضی نثاراحمد گلگت بلتستان میں ہم علماء کا نمائندہ وسفیر ہیں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان کی تمام مشکلات کو دور فرمائے اور ظاہری و باطنی شرور سے ان کی حفاظت فرمائے۔شیخ الحدیث عبدالشکور دیامری نے درس کے دوران علماء کرام کو مخاطب کرتے ہوئے کہ کہا احقاق حق اور ابطال باطل کے لیے ہمیشہ تیار رہو۔ارباب بست و کشاد سے بھی کہا کہ مدارس اسلامیہ کے طلبہ و طالبات اور علماء ہر گزحکومت مخالف نہیں اور نہ ہی کبھی ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دینی مدارس و علماء کرام کو بدنام کرنا سراسر زیادتی اور ناانصافی ہے۔اس سلسلے کو بند کیا جائے۔جامعہ نصرۃ الاسلام کی سالانہ تقریب میں مشکواۃ شریف کے آخری حدیث کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ آج اس مدرسے میں اتنی بڑی تعداد میں قرآن کریم کے حافظ فارغ التحصیل ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے حضور مقرب و مغفور ہیں۔

سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کے رئیس و امیر اہل سنت والجماعت قاضی نثاراحمد( چانسلر جامعہ نصرۃ الاسلام) نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے دین کے ساتھ آخرت کی فلاح وابستہ رکھی ہے۔ دنیا کی ساتھ آخرت کی فلاح کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی ہے تاہم اللہ دنیا کے ساتھ آخرت میں بھی کامیاب کرنا چاہیے تو اللہ کی مرضی ہے۔ہم نے جامعہ کو از سر نو ایک عظیم ماسٹر پلان کے ذریعے تعمیر کرنے کا کام شروع کیا ہے۔ ایک بڑی جامع مسجد تعمیر کی جائے گی جبکہ طلبہ و طالبات کے لیے درسگاہیں، قیام گاہیں، ایک بڑا ہسپتال ، ایک ماڈل اسکول، ایک دارلقرآن کے تعمیراتی کاموں کی ابتداء کی جاچکی ہے۔سرورے اور نقشے تیار کیے جاچکے ہیں۔ ہم رہے نہ رہے لیکن اللہ کے احکام کو پوری دنیا میں پھیلانے کے لیے یہ دینی ادارے ہمیشہ سے رہیں گے۔

قاضی نثار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہمیں گلگت بلتستان کا امن عزیز ہے۔ انسانوں کے جانیں عزیز ہے۔ معاشرتی و علاقائی امن کے لیے ہم نے ہر ممکن کوشش کی لیکن ہماری کوشش کو کمزوری سے تعبیر کرکے امن معاہدوں اور طے شدہ معاملات کی خلاف ورزی کی گئی جو انتظامیہ کے منہ پر طمانچہ ہے۔ہم امن چاہتے ہیں لیکن حکومت ان لوگوں کے ساتھ تعاون کرتی ہے جو امن کو تہہ و بالا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔سی پیک اس ملک کے لیئے بہت ضروری ہے ۔ ہم نے سی پیک کے حوالے سے اپنے تمام علماء سے مشاورت کی اور سی پیک کے لیے ملک و ملت سے تعاون بھی کیااور دعائیں بھی کی ۔ ایک فریق امن کے ساتھ سی پیک کے خلاف بھی عملی کاروائیوں میں مصروف ہے۔ ہم وفاقی اور صوبائی حکومت اور اداروں سے گزارش کریں گے ان کو لگام دیا جائے اور ملک دشمنی پر مبنی حرکات سے ان کو باز رکھا جائے۔ہم نے ہر دور میں ریاست پاکستان اور افواج پاکستان کی نہ صرف قدر کی ہے بلکہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے بھی ہوئے ہیں باوجویکہ اس کے ہماری قربانیوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

جامعہ نصرۃ الاسلام کی سالانہ تقریب میں ۲۷ حفاظ کرام کی دستار بندی کی گئی ۔ تقریری مقابلوں کے انعقاد پر جامعہ کے طلبہ نے حصہ لیا۔ تقریری مقابلے میں جامعہ کے طالب علم حماد نے پہلی پوزیشن، طالب علم عزیر احمد نے دوسری پوزیشن جبکہ طالب علم فراز نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

تقریری مقابلوں میں منصفی(ججز) کے فرائض پروفیسر سید جلال الدین، پروفیسر عبدالجلال عابدؔ اور معروف قلم کار پروفیسر امیرجان حقانی ؔ نے ادا کیے۔ پوزیشن ہولڈر طلبہ کے نتائج کا اعلان امیرجان حقانی نے کیا۔ تقریب میں ششماہی امتحان میں پوزیشن لینے والے طلبہ کو بھی خصوصی انعامات دیے گئے۔

جامعہ کے طالب علم شریف الدین نے انگریزی میں جبکہ طالب علم محمد جان نے عربی زبان میں تقریر کی۔ جامعہ کے طلب کے علاوہ گلگت بلتستان کے مشہور و معروف شعراء نے بھی تقریب سے اپنے نعتیہ کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ حلقہ ارباب ذوق کے جنرل سیکرٹری جمشیدخان دکھیؔ ، معروف مصنف و شاعر عبدالخالق تاجؔ ، شینا نعت و نظم خواہ قاری مجاہد اور مہمان نعت خواہ قاسم نے اپنے نعتیہ کلام اور شاعری سے محفل کو لوٹ لیا۔اسٹیج سکریٹری کے انتظامات جامعہ کے استاد مولانا قاسم نے ادا کیے کی،ان کی معاونت جامعہ کے استاد مولانا عدنان نے کیا۔ ناظم تعلیمات مولانا سلیم نے جامعہ کی سالانہ تعلیمی رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ جامعہ میں تین سو طلبہ جبکہ پانچ سو کے قریب طالبات تعلیم حاصل کررہی ہیں جن کو مفت تعلیم دی جاتی ہے اور قیام کا بندوبست بھی ہے۔ تقریب میں قیام و طعام کے انتظامات جامعہ کے اساتذہ کرام مولانا تنویر، مولانا بابر،مولانا حماد، مولانا مصعب ، مولانا اسلام الرحمان، ماسٹر انیس اور ان کے گروپ نے کیا۔ جید علماء اور مہمانوں کا استقبال مولانا حبیب اللہ دیداری، مولانا راشداللہ وغیرہ نے کیا۔تقریب میں گلگت بلتستان کے سینکڑوں مشہور علماء نے شرکت کی جن میں جے یو ائی گلگت بلتستان کے امیر و سابق رکن اسمبلی مولانا سرور شاہ، مولانا قاری امتیاز، مولانا عبدالحلیم داریلی، تبلیغی مرکز کے امیر مولانا عبدالرحمان، صدر مدرس مفتی عبدالباری، دارلعلوم غذر کے ناظم تعلیمات مولانا شاہ عبداللہ، اہلسنت گلگت کے صدر مولانا عبداللہ حیدری، ٹھیکیدار سلطان محمود، راجہ نثار ولی،پرنسپل و پروفیسر اویس احمد، عطاء اللہ ثاقب وغیر نے کی۔

جامعہ عائشہ صدیقہ لبنات الاسلام میں بھی جامعہ کی طالبات نے ایک منظم پروگرام پیش کیا جس میں گلگت اور اس کے مضافات کی ہزاروں خواتین نے شرکت کی۔پولیس اور فورسز کے عملے کے ساتھ بوائی اسکاوٹ کے جوانوں نے بھی تقریب کی سیکورٹی میں حصہ لیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔