درجن سے زائد اشتہاری ملزمان کو گرفتار کیا لیکن ترقی نہیں ملی، کانسٹیبل محمد عبداللہ دلبرداشتہ ہو کر پریس کلب پہنچ گیا

درجن سے زائد اشتہاری ملزمان کو گرفتار کیا لیکن ترقی نہیں ملی، کانسٹیبل محمد عبداللہ دلبرداشتہ ہو کر پریس کلب پہنچ گیا

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(عمرفاروق فاروقی سے)محکمہ پولیس دیامر میں ایک درجن سے زائد خطرناک اشتہاری ملزمان کو گرفتار کرکے پولیس کا نام روشن کرنے والا بہارد اور دلیر کانسٹیبل محمد عبداللہ کو محکمہ پولیس میں ترقی نہ ملنے پر دیامر پریس کلب پہنچ گیا ۔کانسٹیبل محمد عبداللہ نے اپنی 15سالہ مدت ملازمت کے دوران اہم کارنامے سر انجام دیا ہے ،پولیس کانسٹیبل محمد عبداللہ نے 2013میں ایس ایس پی ہلال شہید قتل کیس کے خطرناک ملزمان کو بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے اور 2008میں شاہراہ قراقرم پر دہشت گردی کے واقعات کرنے کے ارادے سے گھات لگائے بیٹھے شرپسندوں کو بھی اسلحہ سمیت گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کیا ہے ,اس کے علاوہ کانسٹیبل محمد عبداللہ نے تھک داس کے قریب علاقائی دشمنیوں پر ایک دوسرے کو قتل کرنے کی غرض سے مورچہ زن گروہ کو بھی انتہائی حکمت عملی اور بہادری سے ملزمان کو بھاری اسلحہ اور ایمونیشن سمیت رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے علاقے کو بڑی تباہی سے بچالیا ہے اور کئی ایسے خطرناک ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا ہے جو چلاس جیل توڑ کر عرصہ دراز سے اشتہاری تھے ۔

کانسٹیبل محمد عبداللہ نے بابوسراور شاہراہ قراقرم پر ڈکیتی کے وارداتوں کو ناکام بنا کر چوروں کے گروہ کو رنگے ہاتھوں دبوچ لیا اور اپنے جسم پر پتھر کھاکر قانون کی رٹ کو چلنج کرنے والے درجنوں لوگوں کو حوالات کرکے محکمہ پولیس دیامر کا نام روشن کیا ہے ،لیکن ان تمام قربانیوں کے باوجود کانسٹیبل محمد عبداللہ کی کوئی حوصلہ آفزائی نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی انھیں حوالدار بنایا گیا ہے ۔کے پی این سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کانسٹیبل محمد عبداللہ نے کہا کہ انسداد دہشت گردی اور دیگر جرائم میں ملوث انتہائی خطرناک ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا لیکن کوئی حوصلہ آفزائی نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ میرے انکھوں کے سامنے بکری اور مرغی چوری میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے والے پولیس جوانوں کو ہیڈ کانسٹیبل،سب انسپکٹر اور انسپکٹر تک بنایا گیا ہے ،لیکن میرے ساتھ اب تک ظلم اور زیادتی ہورہی دیامر پولیس آفس سے بھیجی جانے والی میری ہر فائل کو سی پی او گلگت میں دبا کر غائب کر دیا جاتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ ایس پیز نے کئی بار مجھے پی پی ایم ایوارڈ کیلئے نامز ز کر کے فائل گلگت سی پی او بھیجا لیکن سی پی او میں موجود کالی بھیڑیں ہماری فائل کو دبا کر آگے پیش نہیں کررہے ہیں ،جس کی وجہ سے بہت مایوسی اور دکھ ہوتا ہے اور ملازمت سے استعفی دینے کا دل چاہتا ہے ،لیکن گھریلو مجبوری کی وجہ سے یہ اقدام بھی نہیں اُٹھا سکتا ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس میں سفارش کلچر کا خاتمہ ضروری ہے ،سفارش کے بنیاد پر من پسند لوگوں کو آگے لایا جارہا ہے جبکہ اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کے خطرناک ملزمان کو گرفتار کرنے والے مجھے جیسے درجنوں جوانوں کے ساتھ ناانصافیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ایک بکری چوری کیس کے ملزم کو گرفتار کرکے لانے والے پولیس کو حوالدار بنایا جاسکتا ہے، لیکن دہشت گردی میں ملوث ملزم کو گرفتار کرکے لانے والا پولیس جوان آج در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئی جی پی گلگت بلتستان اور ایس ایس پی دیامر نوٹس لیکر میرے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کریں اور مجھے میرا حق دیا جائے اور مجھے سمیت ان پولیس جوانوں کو اپنے پاس بلائیں جو 109 کے ملزمان اور چوری کیس میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے آج ہیڈ کانسٹیبل ،سب انسپکٹر اور انسپکٹر تک ترقی پاگئے ہیں ،جبکہ غریب محمد عبداللہ ہلال شہید قتل کیس کے ملزم کو گرفتار کرنے اور بڑے کارنامے سرانجام دینے کے باوجود کسی قسم کی ترقی اور حوصلہ آفزائی سے محروم کیوں ہے،میری مدعا سنا جائے اگر میں اپنا حق مانگنے میں غلط ہوں تو مجھے معطل کیا جائے ،اگر میں حق پر ہوں تو میرا حق مجھے ملنا چاہے اور مجھے فوری طور پر ہیڈ کانسٹیبل بناکر پی پی ایم ایوارڈ کیلئے نامزد کیا جائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔