دیامر کےجنگلات کا دشمن کون؟

دیامر کےجنگلات کا دشمن کون؟

21 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: عبدالغنی صمدانی

گلگت بلتستان کو اللہ تعالٰی نے قدرتی جنگلات کی دولت سے مالا مال کر رکھا ہے خاص کر ضلع دیامر کو اللہ نے بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے گلگت بلتستان کے تقریباً تیس فیصد جنگل دیامر میں پایا جاتا ہے اس خطے کے سرسبزوشاداب رکھنے میں جنگلات کا مرکزی کردار ہے ۔فلک بوس پہاڑ، ٹھنڈے میٹھے چشمے،گھنے سدا بہار جنگلات ضلع دیامر کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں مگر یہاں کے مضافاتی پہاڑوں پر خوبصورتی میں اضافے اور ماحولیاتی توازن میں اہم کردار اداکرنے والے سرسبز درخت بڑی تیزی کے ساتھ کاٹے جارہے ہیں جس کی  بہت سی وجوہات ہیں۔

قدرتی جنگلات کے خاتمہ میں مقامی آبادی کا بڑا ہاتھ ہے کیونکہ دیہی علاقوں کی آبادی اپنی ضروریات( مکانات کی تعمیر، فرنیچر،ایندھن وغیرہ) کیلئے بے دریغ درختوں کی کٹائی کرتی ہے۔اسی طرح قدرتی آفات بھی کسی حد تک جنگلات کو ختم کرنے میں ایک اہم عنصر رہا ہے۔ ضروریات زندگی کے علاوہ یہاں کے ٹمبر مافیا جنگلات کی کٹائی کی زمدار ہے ٹمبر مافیا گروپ خاص کر گرمیوں کے سیزن میں جنگلات کی کٹائی شروع کرتے ہیں۔چونکہ دیامر کے لوگ گرمیوں میں اپنے مال مویشی سمیت تین چار ماہ کے لئے پہاڑوں کا رخ کرتے ہیں۔جسے مقامی زبان میں “نریل” کہا جاتا ہے ان لوگوں کے جانے سے پہلے ٹمبر مافیا گروپ درختوں کی کٹائی کر کے جنگل میں ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ جب لوگ وہاں سے تین چار ماہ گزارنے کے بعد واپس اپنے پرانے مقامات پر آجاتے ہیں۔ٹمبر مافیا گروپ پھر وہ کٹے ہوئے درخت ٹریکٹروں کے زریعے رات کو اپنے اپنے لکڑی کے اڈوں پر منتقل کرتے ہیں۔ان میں سے کچھ لوگ ادھر ہی جنگل میں ٹھیکداروں کے ساتھ سودا کرکے انہیں فروخت کرتے ہیں۔اسی طرح جنگلات کا ایک بہت بڑا حصہ ضائع ہورہا ہے اور محکمہ جنگلات والے سوئے ہوئے ہیں۔جنگلات کی کٹائی روکنے کے لئے کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی ہے۔اور کوئی اقدامات نہیں کررہے ہیں۔اور اقدامات کرینگے بھی کیوں؟۔اگر جنگلات کی کٹائی کی روک تھام کے لئے اقدامات کرینگے تو ٹمبر مافیا گروپ محکمہ جنگلات کے بڑے آفیسرز کو خرچہ پانی بند کرینگے۔اگر خرچہ پانی بند ہوا تو انکا بینک بلینس کیسے بڑھے گا۔انکی لاپرواہی کی وجہ سے سلانہ لاکھوں درخت کٹے جاررہے ہیں۔ گلگت میں محکمہ جنگلات کے بڑے آفیسرز “کنزر ویٹر،ڈیفوز،اور رینجرز،اپنے ٹرانسفر چلاس میں کروانے کے لئے کوشش میں لگے ہوتے ہیں۔تاکہ چلاس میں جا کے ٹمبر مافیا گروپ سے رشوت لے کر اپنے بینک بیلنس،”دولت”میں اضافہ کر سکے۔اسی طرح محکہ جنگلات،جنگلات کی کٹائی کا سب سے زیادہ زمدار ہے۔گلگت بلتستان میں سب زیادہ فنڈ محکمہ جنگلات کے پاس ہے۔جو ملازمین کے تنخواہوں کے علاوہ جنگلات کے تحفظ کے لئے ہوتا ہے۔محکمہ والے تحفظ کے بجائے اسے بھی کھا جاتے ہیں۔اور یہ جاہل ٹمبر مافیا گروپ درخت نہیں کاٹ رہے بلکہ انسانیت کا قتل کررہے ہیں۔درخت تو ٹمبر مافیا لوگ کاٹ رہے ہیں۔لیکن انکی کی وجہ سے جنگلی جانوروں اور پرندوں کا مسکن تباہ ہوجاتا ہے۔اور وہ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔اور ہم جنگل کے ساتھ ساتھ ان جانوروں اور پرندوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔جو علاقے اور جنگل کے رونق ہوا کرتے ہیں۔اور سب سے اہم بات یہ کہ جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے ہمیں صاف ہوا میسر نہیں ہوتا۔جس سے علاقے میں بیماری،پانی کی قلت،اور گرمی کا زیادہ ہونا جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ہمارے وہ پہاڑ جو کچھ سال پہلے سر کے بالوں کی طرح درخت سے بھرے ہوئے تھے اور اکیلے بندے کو وہاں جانے سے ڈر لگتا تھا۔آج وہ پہاڑ ننگے ہو چکے ہیں اور خشک چٹانوں کا منظر پیش کررہے ہیں۔اسکی دیکھا دیکھی مثال تھک،کھنر،ہڈر، ہے تھور میں بھی کچھ جگہے خشک چٹانوں کا منظر پیش کررہی ہے اور جو جگہ بچی ہوئی ہے وہاں سڑک نہ ہونے کی وجہ سے محفوظ ہے۔اور جب چھوٹی چھوٹی بارش بھی ہو تو پانی جمع ہو کے سیلاب کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور لوگوں کی زمینں تباہ ہو جاتی ہیں۔ان سب کا زمدار یہ جاہل ٹمبر مافیا گروپ اور پڑھے لکھے جاہل محکمہ جنگلات والے ہیں۔میں گورنمٹ آف گلگت بلتستان اور دیامر کے محکمہ جنگلات والوں سے التماس کرتا ہوں خدا کے لئے جنگلات کی کٹائی کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات کریں اور جو قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے اسے کڑی سے کڑی سزا دے۔اور یہ”پالیسی”کے سسٹم کو ختم کریں۔”پالیسی”کی وجہ سے بھی بیشتر لوگ جنگلات کی کٹائی کرتے ہیں۔اور میں دیامر کے غیرت مند عوام سے بھی پر زور اپیل کرتا ہوں کہ آپ خود بھی اپنے جنگلات کی حفاظت کریں۔اور مقامی طور پہ کمیٹی بنائیں اور جو بھی ضرورت سے زیادہ درخت کٹائی کرے گا اس پہ بھاری مقدار میں جرمانہ عائد کرے۔اس میں ہم سب کا فائدہ ہیں۔ ہماری آنے والی نسلوں کا فائدہ ہیں۔

“یہاں سب سے اہم بات یہ کہ پہلے زمانے میں درجت کاٹنے کے لئے “کلہاڑی یا آرہ”استعمال کیا جاتا تھا لیکن آج کل درخت کاٹنے کے ایسے جدید مشنیری آئی ہے جس کے زریعے منٹوں میں سینکڑوں درخت کاٹ دیے جاتے ہیں جسے “چینسہ مشین” کہا جاتا ہے۔محکمہ جنگلات کو اس کے استعمال پر پابندی عائد کردینی چاہئے اور جو  قانون کی خلاف ورزی کرنے پر سخت قانونی کاروائی ہونی چاہئے،تاکہ دوبارہ کوئی ایسی حرکت نہ کر سکے۔”

، جنگلات کو کاٹنے ،اس عظیم نعمت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا سنگین جرم کون کر رہا ہے؟ عوام۔۔۔۔۔؟ محکمہ جنگلات کے اہلکاران۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ یا پھر قدرتی آفات( آتشزدگی، سیلاب،لینڈ سلائیڈنگ وغیرہ ) ۔۔۔۔؟؛ ہمیں مل جل کر اس کا حل تلاش کرنا ہے۔اور اپنے علاقے سے محبت کرنے کا ثبوت دینا ہے

ہمارے نبی حضرت محمدﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے کہ جس نے ایک درخت لگایا اس نے جنت میں اپنا گھر بنایا۔بحیثیت مسلمان اور ایک ذمہ دار قوم ہونے کے ناطے ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ان قدرتی جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اور درختوں کی غیر قانونی اور بے دریغ کٹائی کرنے والے ٹمبر مافیا کا محاسبہ کریں، اپنی ضروریات کیلئے متبادل ذرائع کا استعمال کریں تب جا کر یہ خطہ ترقی کر سکے گا خوبصورت بھی لگے گا……..!!!!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔