گانچھے میں ریسکیو 1122 کی سروس تنزلی کا شکار

گانچھے میں ریسکیو 1122 کی سروس تنزلی کا شکار

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گانچھے (محمد علی عالم ) ریسکیو 1122 نے گانچھے میں اپنی سروس کی حدیں محدود کر دی ایمرجنسی کیسز کو مختلف حیلے بہانوں سے نظر انداز کرنا شروع کر دیا مریضوں کو ہسپتال تک پہنچانے کے لئے کئی کئی گھنٹے منت سماجت کرنا پڑتی ہے ریسکیو کنٹرول روم میں جب کسی ایمرجنسی مریض کو ہسپتال لے جانے کے کال کرنے پر ہر وقت ضلع کے انچارچ سے اجازت لینا پڑتی ہے ایمرجنسی سمیت خپلو ہسپتال سے سکردو ریفر کئے جانے والے مریضوں کو ریسکیو1122 سکردو لے جانے سے انکار کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنے اعلیٰ آفیسران کی جانب سے منع کیا گیا ہے جس کی وجہ سے عوام اپنے مریضو ں کو سکردو لے جانے کے لئے متبادل ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرنے کی بجائے ریسکیو 1122پر امیدکر کے کال کرتے ہیں جبکہ 1122کی جانب سے کاغذی کاروائی کرنے گاڑیوں کی خرابی جیسے بہانے سننے کو ملتے ہیں اور مریضوں کا کئی گھنٹے ضائع ہوجاتے ہیں آخر میں مایوس ہو کر متبادل ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرکے مریض کو سکردو لے جانا پڑتا ہے عوام کا کہنا ہے کہ حکومت اور محکمہ صحت کے حکام خپلو ہسپتال میں تمام تر سہولیات فراہم کر دی جائے اور ڈاکٹروں کی کمی کی پورا کریں اس کے بعد ریسکیو 1122 کی حدود کو محدود جائے تاکہ کسی بھی مریض کو سکردو لے جانے یا ریفر کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے جبکہ اس وقت حالات بلکل برعکس نظر آتے ہیں عوام نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان ، چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ ریسکیو1122 کی محدود حدود کا نوٹس لے کر جن مقاصد کے لئے ان اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ان پر فوری عمل کروا کے عوام کو سہولت مہیا کی جائے اس کے علاوہ خپلو ہسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی اور دیگر تمام سہولیات کو فراہم کیا جائے

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔