پرامن چترال ہی ہماری پہچان

پرامن چترال ہی ہماری پہچان

34 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اس میں کوئی شک نہیں کہ چترال کے لوگ نرم خو اور امن پسند ہیں۔ یہی امن پسندی د نیا میں اس علاقے کی پہچان بن گئی ہے۔ ایک طرف سن دوہزار آٹھ نو میں سوات سمیت پورے ملاکنڈ ڈویژن میں آگ وخون کی ہولی کھیلی جارہی تھی تو دوسری طرف چترال پولو گراؤنڈ میں ہم نے تاریخ کا کامیاب ترین جشن چترال کا انعقاد کیا، انہی سالوں کے دوران جولائی کے مہینے میں ہم نے شندور میں جاکر تین روز تک خوشیاں بانڈتے رہے۔ ہماری اس امن پسندی کا چرچا زبان زد عام ہوا سابق صدر پاکستان جناب پرویز مشرف صاحب نے اپنے غیر ملکی دوروں اور ٹی وی انٹرویوز میں بار بار چترال کی امن پسندی کا حوالہ دیتے رہے۔ شائد اسی وجہ سے ہی مشرف کا چترال کے ساتھ والہانہ لگاؤ ہے۔

 جمعہ اکیس اپریل کو اس وقت چترال کی پرامن فضاء میں کشیدگی کے گہرے بادل منڈلانے لگے جب ایک شخص نے چترال کے تاریخی شاہی مسجد میں جمعہ کے بعد ممبر پر جاکر کچھ نازیبا الفاظ ادا کئے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق اس شخص نے نعوذو باللہ نبوت کا دعوی کیا۔ اس دعوے کے بعد نمازیوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی اور اس شخص کو مارنے کے لئے آگے بڑھے تو شاہی مسجد کے خطیب مولانا خلیق الزمان صاحب نے آگے بڑھ کراس شخص کی حفاظت کی اور اسے پولیس کے حوالے کردیا۔ اس کے بعد چترال کا پرامن ماحول انتہائی کشیدہ ہے۔ بعض نوجواں جوش میں آکر پولیس اسٹیشن پر دھاوا بول دیا اور مطالبہ کرنا شروع کیا کہ اس گستاخ کو فوری طورپر ان کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ ان کا سر قلم کریں۔ حالات جب قابو سے باہر ہونے لگے تو پولیس نے آنسو گیس اور فضائی فائرنگ شروع کی جس کی وجہ سے مظاہرین پیچھے ہٹ گئے پھر آرمی اور چترال سکاؤٹس کی مدد حاصل کی گئی، جنہوں نے آکر حالات کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

اس سلسلے میں خطیب شاہی مسجد مولانا خلیق الزمان خراج تحسین کے مستحق ہے جس نے اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہوئے ملزم کو ہجوم سے بچا کر قانون کے حوالے کردیا۔ اگر خدانخواستہ ہجوم اس شخص کو قتل کردیتے تو نہ صرف مولانا خلیق الزمان کی شہرت داغدار ہوتیں بلکہ خود ان پر بھی الزام عائد ہوتا۔ مولانا صاحب نے نہ صرف اپنی ساکھ  اور اپنے منصب کے تقدس کی تحفظ میں کامیاب رہے بلکہ ان کی اس جرات مندانہ اقدام سے بین الاقوامی برادری میں چترال کا نام بھی روشن کیا، آج میڈیا کے اندر مولانا خلیق الزمان کو اچھے الفاظ سے یاد کیا جارہاہے۔ آفسوس اس بات کی ہے کہ مشتعل ہجوم نے مولانا خلیق الزمان کی ذمہ داری کا بدلہ ان سے ان کی گاڑی کو جلا کر لیا۔ اس کے علاوہ مذہبی وسیکولر جماعتوں کی قیادت اور ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ نے بھی مثبت کردار ادا کیا۔

علاوہ ازین علمائے کرام اور سماجی کارکنوں کا کردار سب سے زیادہ قابل تحسین رہا جنہوں نے اس حادثے کے بعد بگڑی صورتحال کو اعتدال کی جانب موڑنے کے لئے سوشل میڈیا میں بھرپور مہم چلائی۔ یہ اس بات کا غماز ہے کہ ابھی ہمارے معاشرے میں امن کا شمع پوری آب وتاب سے روشن ہے۔ سوشل میڈیا میں بظاہر سخت موقف رکھنے والے لکھاریوں نے بھی اس معاملے پر بہت زیادہ دانش مندی کا ثبوت دیا۔

اپنے اس کاوش ناتمام کے ذریعے قارئین کے سامنے کچھ باتین گوش وگزار کرنا چاہتا ہوں۔ یہ کہ چترال میں اسلام سے تعلق رکھنے والے دو تشریحات کے لوگ بستے ہیں یعنی سنی اور اسماعیلی۔ اور ایک چھوٹی اقلیت ہمارے کلاش برادری کی بھی ہے۔ ہمارے درمیان برسوں پرانے رشتے ناطے موجود ہے۔ ایک بھائی کا تعلق اہل سنت سے ہے تو دوسرے کا تعلق اسماعیلی کمیونٹی سے ہیں۔ چترال کے حد تک سنی اسماعیلی اختلافات نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری سیاست میں مذہبی تعصبات کا عمل دخل بہت کم ہے۔ یہی ہمارے درمیان مذہبی ہم آہنگی کی بنیادی وجہ بھی ہے۔

ایک اور بڑے ہی قابل غور امر کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ  ریچ سے تعلق رکھنے والا یہ گستاخ پولیس کی تحویل میں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ اسماعیلی تھا (اس گستاخی کے بعد وہ اس دائرے سے بھی باہر ہوگئے ہیں)۔ اور اسی بات کو لے کر بعض لوگ سارے اسماعیلیوں کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش کررہےہیں۔ ان دوستوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ ریچ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے گستاخی کی ان کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہئےلیکن اس گستاخ کے اس فعل سے سینکڑوں کلومیٹر دور بروغل، لاسپور، مستوج، گرم چشمہ یا مداک لشٹ کے اسماعیلی کا کیا تعلق بنتا ہے؟ ایک شخص نے گستاخی کی تو پوری کمیونٹی کو اس کے سزادینے کی کیوں کوشش ہو رہی ہے؟ خدارا ایسے حادثات کو افراد کا ذاتی فعل سمجھا جائے نہ کسی اسماعیلی نے کہیں ان کے اس فعل کی تائید کی اور نہ کوئی ایسا کرسکتا ہے۔ مجھے تعجب اس بات پر ہوا کہ ایک سابق ماہر تعلیم، استاد اور شاعر نے فیس بک میں کمنٹ کیا کہ اس گستاخ کا تعلق ریچ کے اسماعیلی فرقے سے ہیں۔ اگر معاشرے کے انتہائی پڑھے لکھے لوگ اس قسم کی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تو پھر عام آدمی کی کیا بات۔ صاحب ایک شخص نے گستاخی کی تو اس کو سزا ملنی چاہئے چاہے اس کا تعلق سنی کمیونٹی سے ہے یا اسماعیلی۔ محترم استاد نے ایک  گستاخ کے ساتھ اسماعیلی کا  لفظ لگا کر نادانستہ طورپر ساری اسماعیلی کمیونٹی کو اس میں ملوث کرنے کی کوشش کی جو کہ انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت ہے۔ اس لئے میری گزارش ہے کہ خدارا اس کیس کو فرد واحد کی حد تک محدود رکھا جائے۔ غیر ضروری طورپر بے قصور افراد کے لئے مسائل پیدا نہ کیا جائے ۔ حکومت سے گزارش ہے کہ اس شخص کو عبرت ناک سزا دے کر قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔