سیزن شروع ہوتے ہی بڑی تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاح گلگت بلتستان کا رخ کررہے ہیں

سیزن شروع ہوتے ہی بڑی تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاح گلگت بلتستان کا رخ کررہے ہیں

24 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(رپورٹ، ارسلان علی )گلگت بلتستان دنیا کے پرامن اور خوبصورت ترین سیاحتی مقام میں سرفہرست ۔گرمیوں اور سیاحت کا موسم شروع ہونے سے پہلے ہی ملکی و غیر ملکی سیاحوں نے گلگت بلتستان کا رخ کر لیا ۔سیاحوں کے گلگت بلتستان کا دورہ کرنے حوالے سے حکومت گلگت بلتستان کے گزشتہ سال کے رپورٹ کے مطابق ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 10لاکھ سے زیادہ تھی جبکہ اس سال کا ٹارگٹ 20لاکھ سے زائد غیر ملکی و ملکی سیاح گلگت بلتستان کے خو ش گوار موسم اور خوبصورت علاقوں کے خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کے لئے اس خطء کا روخ کرینگے ۔اس سے گلگت بلتستان میں ہوٹل انڈسٹر ،ٹورآپریٹرزاور دیگر شعبوں کو بہت فائدہ ہوگا اور گلگت بلتستان کے عوام کا معاشی حالت تبدیل ہوگی اوراس سے گلگت بلتستان کی قدرتی حسن اور خوبصورتی مزید دنیا بھر میں اجاگر ہوگی ۔سیاحوں کے لئے سیکیورٹی، انفارمیشن سنٹرزاور دیگر سہولیت کے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں جس کے باعث گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو شدید مسائل کاسامنا ہے ۔جن سیاحوں کو استور جانا ہوتا ہے وہ انفارمیشن سنٹر نہیں ہونے کے باعث گلگت آتے ہیں اور جن کو نگر جاناہو وہ ہنزہ چلے جاتے ہیں اور کہیں کو ہوٹلوں اور ریسٹ ہاوسز کے حوالے سے معلومات میسر نہیں ہونے کے وجہ سے سڑکوں پر گاڑیاں کھڑی کرکے سونے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔گزشتہ سال مقامی اخبارات میں ان مسائل کے حوالے سے بہت سی رپورٹس چھپی تھی جس کے مطابق گلگت بلتستان کی خوبصورتی دیکھنے کے لئے آنے والے کہیں ملکی و غیر ملکی سیاحوں سیکیورٹی ،ہوٹلوں میں جگہ کم پڑنے کے باعث واپس چلے گئے تھے ۔صوبائی حکومت اس حوالے سے جنگی بنیادوں پر اقداما اٹھانی چاہئے سیاحوں کو سیکیورٹی کے علاوہ تمام بنیادی ضروریات اور معلومات کی فراہمی کے لئے ٹورسٹ انفارمیشن سنٹرز کا قیام عمل میں لانا چاہیے ۔اگر صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ علاقے میں سیاحت کے فروغ کے لئے اقدامات اٹھائے تو سیاحت کے شعبے سے کثیر تعداد میں زرمبادلہ حاصل کیا جاسکتا ہے جس سے اس صوبائی حکومت پر سرکاری ملازمتوں کا پریشر بھی کم ہوسکتا ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔